تسلیم و رضا کے ابدی پیکر- ڈاکٹر صفدر محمود

سبحان اللہ کتنا جامع، روح افزا اور خوبصورت قول ہے حضرت امام حسین علیہ السلام کا جسے ہماری فوج اپنا ’’ماٹو‘‘ بھی بنا سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا جب جسم موت کے لئے ہی بنا ہے تو پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونا سب سے بہتر موت ہے۔ یہ مقامات ادب ہیں اور میرا مطالعہ نہایت سطحی۔ اس لئے ڈرتا ہوں کہیں کوئی فروگزاشت نہ ہو جائے۔ مقصدِ زیست رضائے الٰہی ہے اور رضائے الٰہی مضبوط ایمان کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ خود ایمان اہلِ بیت کی محبت کے بغیر مکمل اور مضبوط نہیں ہوتا۔ شہزادگان خاتون جنت اور حضرت علیؓ سے نبی کریمﷺ کی محبت کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جن ہستیوں کے بارے میں حضور نبی کریمﷺ نے برملا محبت کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ اُن سے محبت گویا مجھؐ سے محبت ہے اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعائیہ لہجے میں درخواست کی کہ جو ان سے محبت کرے تو بھی اُن سے محبت کر تو گویا عشقِ رسولؐ کا راستہ اہلِ بیت کی محبت سے گزرتا ہے اور عشقِ الٰہی کی منزل نبی آخر الزمانﷺ کی وساطت سے حاصل ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے جس کا میں مولا، اس کا علی مولا۔ ایک روحانی شخصیت کے بقول اس فرمان نے حضرت علیؓ کو گویا حضور نبی کریمﷺ کا ہم نفس بنا دیا ہے لیکن آج میرے ذہن میں ایک اور سوال گردش کر رہا ہے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی عمر کتابوں کے مطابق سات برس تھی جب اُن کے پیارے نانا جان اور نبی آخر الزمان ﷺ کا وصال ہوا۔ شہادت کے وقت حضرت امام علیہ السلام کی عمر 57سال تھی گویا ان شہادتوں کے درمیان پچاس برس کا عرصہ حائل ہے جو تاریخی نقطہ نظر سے کوئی بڑا عرصہ تصور نہیں ہوتا۔ حضور نبی کریمﷺ کے روحانی انقلاب نے دو دہائیوں کے اندر عرب کے گنوار، جاہل، بت اور عصبیت پرست، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے اور قتل و غارت کے فوگر عربوں کو دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا۔ خلفاء راشدین کے دور میں نہ صرف اسلامی سلطنت کا رقبہ لاکھوں میلوں تک پھیلا بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی نے لاتعداد غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔

مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے وصال کے صرف پچاس برس بعد جب ابھی اسلام کے روحانی انقلاب کی روح نہ صرف تازہ تھی بلکہ طاقتور بھی تھی ایسا کیوں ہوا کہ پہلے اہلِ کوفہ نے بیشمار خطوط لکھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کو بلایا اور جب انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو بھیجا تو اُن کے ہاتھ پر جوق در جوق بیعت کرنے کے بعد انہیں شہید کر دیا۔ جب حضرت امام حسین علیہ السلام اہلِ خاندان اور عقیدت مندوں کے ساتھ کوفہ پہنچے تو اُن پر وہ مظالم ڈھائے جن کے ذکر سے تاریخ کی روح لرزتی اور زمین کانپتی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ رضائے الٰہی ہر شے پر غالب ہے۔ ہر جاندار و بے جان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہے۔ حضرت زینب علیہا السلام کا گورنر کوفہ ابن زیاد کے دربار میں یہ فرمان ہمارے لئے روشنی کا مینار ہے کہ میرے رب کے ہاں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ وہ انہیں مقتول دیکھے۔ احادیث کی روشنی میں بہت سی روایات سے پتا چلتا ہے کہ نبی کریمﷺ کو علم تھا کہ اُن کا یہ نواسہ کربلا میں شہید ہو گا۔ کوفہ کے سنگدل قاتلوں، یزیدی سپاہیوں اور کارندوں کا رویہ دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے اُن پر دولت، انعام، عہدوں اور اقتدار کی ہوس غالب آ چکی تھی جس نے اُن کے دلوں کو اندھا کر دیا تھا۔ قرآن حکیم کا فرمان ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔ دل ہی تو جسم کا حاکم ہوتا ہے۔ اس اندھی ہوس کا اندازہ کوفہ کے حارث کے عمل سے بھی ہوتا ہے جس نے انعام و کرام کے لالچ میں اندھا ہو کر حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے دو ننھے شہزادوں کو قتل کر دیا اور یزیدی کارندوں کے رویے اور اعمال سے بھی ہوتا ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی عظیم ہستی کے خون کے درپے تھے۔

قرآن حکیم نے اولاد اور مال کو فتنہ قرار دیا ہے اور اس فتنے نے یزیدی ملوکیت سے لے کر کربلا کے میدان تک جو گل کھلائے اور جو عملی مظاہرے دکھائے اُن کی مثال نہیں ملتی۔ جب حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے جگر کے ٹکڑے سیدنا علی اکبر علیہ السلام کو مقابلے کی اجازت دی تو یزیدی فوج پر رعب طاری ہو گیا کیونکہ وہ ظاہری اور باطنی اور صاف و کمالات میں نبی کریمﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔ دشمنوں پر لرزے کی کیفیت طاری تھی جب ابن سعد نے نامی گرامی پہلوان طارق سے کہا کہ اگر تم اس نوجوان کا سر کاٹ کر لائو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں ابن زیاد سے موصل کی گورنری لے کر دوں گا یہ سن کر طارق مقابلے میں آیا اور قتل ہوا۔ جب ننھا علی اصغر امام عالی مقام کی گود میں شہید ہوا تو بارگاہ الٰہی میں امام عالی مقام علیہ السلام نے عرض کی ’’مولا کریم تو میری اس معصوم قربانی کو بھی قبول فرما‘‘۔ اللہ اللہ امام عالی مقام علیہ السلام نے صبر، حوصلے اور رضائے الٰہی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کا نور قیامت تک جگمگاتا رہے گا اور صبر و رضا کی راہ دکھلاتا رہے گا۔

جو رضا میرے رب کی، اللہ پاک کے محبوب ﷺ کے خانوادے پر اتنے مظالم توڑے گئے جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے اور جن کی دوسری مثال بنی نوع انسان کی تاریخ میں نایاب ہے۔ پھر غور کیجئے کہ حبیب الٰہی کے جگر کے ٹکڑے کہاں کہاں بکھیرے گئے۔ حضرت امام حسن علیہ السلام مدینہ میں مدفون ہیں، حضرت امام حسینؓ شہزادگان کے ساتھ کربلا میں آرام فرما رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نجف شریف میں روحانیت کا سمندر بہا رہے ہیں۔ حضرت زینبؓ اور امام عالی مقام علیہ السلام کی پیاری بیٹی حضرت سکینہ علیہا اسلام شام میں مدفون ہیں۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کی زوجہ جو کربلا اور دمشق کے زندان میں حضرت زینب اور حضرت سکینہ کے ساتھ موجود تھیں اور حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ کی سگی بیٹی ہیں وہ لاہور میں دفن ہیں۔ اُن کا نام ہے بی بی رکیہ کبریٰ المعروف بی بی پاک دامن۔ ایک طرف مال و زر اور اقتدار کی اندھی سنگدلانہ ہوس اور دوسری طرف بھوک و پیاس، سر پہ منڈلاتی موت، صبر و رضا کی آزمائش اور سب سے بڑھ کر اللہ پاک اور نانا جان کے سامنے سرخروئی کا عزم۔ سوچتا ہوں ان تمام معاملات کے پس پردہ نہ جانے کیا حکمت الٰہی تھی کیونکہ اللہ کا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں ہوتا۔