یو ای ٹی لاہور کا حکم نامہ اور میڈیا اور شیطان کے چیلوں کی سینہ کوبی - ابومحمد مصعب

یو ای ٹی لاہور میں طلبہ و طالبات کے اختلاط پر قدغن لگانے والے ایک مبیّنہ حکمنامے کی بازگشت ابھی ہوا میں تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ریاستِ مدینہ کے فصیلوں پر لگے خطرے کے سائرن بجنے لگے۔

دیکھتے ہی دیکھتے، یہ حکمنامہ ٹی وی چینلز کا موضوعِ سخن بن گیا ۔ پی ٹی آئی کے قومی ٹیلیویژن ، آے آر وائے نے تو ماتمِ حسین رضہ چھوڑ کر اس سرکلر پر سینہ کوبی شروع کر دی اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے خداناخواستہ ، بھارت نے سرحد عبور کر لی ہو۔ اسی دوران ، گورنر پنجاب، جو اپنے صوبہ میں ہونے والے درجنوں سانحات پر نہ جاگے تھے، یکایک آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھ بیٹھے اور یو ای ٹی میں، لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے ایسے “بیہودہ” حکمنامے کو یکلخت پرزہ پرزہ کرتے ہوئے معاملہ کی چھان بین کا مژدہ سنا دیا جس نے دنیا بھر میں پاکستان، المعروف ریاستِ مدینہ جدیدہ کی ناک کٹوا دی تھی۔ بندہءِ حقیر، پُر تقصیر، وائس چانسلر نے بھی آقا کے تیور دیکھ کر فوراً صفائی پیش کر دی کہ حضور، یہ نوٹس ان کے علم میں لائے بغیر جاری کیا گیا تھا لہٰذا کمیٹی بٹھا دی گئی ہے جو اس قبیح حرکت کرنے والے ذمہ داران کا تعین کرے گی اور انہیں قرار واقعی سزا دے گا۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حضرتِ صالح، حضرتِ شعیب، حضرت، ہود، حضرتِ لوط علیھم السلام جب اپنی قوم کو ان کی غلط کاریوں پر روکتے اور ٹوکتے تھے تو قوم انہیں دھمکی دیتی تھی کہ باز آ جاؤ ورنہ بستی سے نکال باہر کیے جاؤ گے۔

مغربی معاشروں کا حال اب یہی بن چکا ہے کہ وہاں کوئی انسان ہم جنس پرستی جیسے گند کو برائی بھی نہیں کہہ سکتا۔ اگر منہ کھولا تو سزا پائے گا۔ مان لیں کہ ہم آج تناقض اور منافقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ایک ایسے ملک اور ایسے معاشرے میں، جہاں بدی سینہ تان کے چلتی ہے اور نیکی منہ چھپاتی پھرتی ہے ۔ رہا تعلیمی اداروں میں شیطان کا متعارف کردہ مخلوط ماحولِ کا قضیہ۔۔۔تو اس بارے میں ان باپوں سے پوچھیئے جن کی بیٹیاں وہاں پڑھنے جاتی ہیں۔ یا پھر حسن نثار صاحب کی رائے جانئیے جو لبرل اور آزاد خیال ہونے کے باوجود تسلیم کرتے ہیں کہ زمانہ طالبعلمی میں آدمی کے جذبات کچھ اور ہوتے ہیں اور جب وہ بیٹی کا باپ بن جاتا ہے تو اس کے جذبات کچھ اور بن جاتے ہیں۔ وہ جمعیت کی تعریف کرتے ہوئے اس بات کا کریڈٹ جمعیت کو دیتے ہیں کہ اس نے پنجاب کے بڑے تعلیمی اداروں میں بہنوں اور بیٹیوں کے آنچلوں کی حفاظت کی اور وہاں کے ماحول کو مکمل طور پر مغربی معاشرے کے رنگ میں رنگ جانے سے روکا۔