کربلا کیا تقاضا کرتی ہے؟ محمد علی نقی

یہ دنیا اپنے اندر ظلم و بربریت، جبر و استبداد اور جنگ و جدل کی لاکھوں کروڑوں داستانیں سموئے ہوئے ہے۔ وہ چاہے اسرائیلی روایات میں بخت نصر کے مظالم کے قصّے ہوں، نیرو کا روم کو نذرِ آتش کرنا ہو۔ یونان میں سپارٹا کا ٹرائے کو نیست و نابود کرنا، ایران میں مزدک اور اُس کے لاکھوں پیروکاروں کا قتل عام ہو یا پھر ہندومت کے اساطیر کے مطابق مہابھارت کی جنگ میں ہند دھرتی کا خون سے تر ہوجانا ہو۔

سبھی مظالم انسانیت کو خون آلودہ کئے ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر آج بھی قارئین کے دِل لرز جاتے ہیں۔ ایسا ہی صحرائے عرب کی سرزمین پہ 61 ہجری میں رونما ہونے والا واقعہ جسے تاریخ وقعہ کربلا کے نام سے زندہ رکھے ہوئے ہے یہ ہمت و شجاعت کا رنگ بکھیرنے میں اپنی مثال آپ ہے کربلا کے مقام پر پیش آنے والے اس واقعے کو لگ بھگ چودہ سو برس گزر چکے ہیں لیکن پھر بھی اس واقعہ کو اس طریقہ سے زندہ رکھا گیا ہے کہ چودہ سو برس کا سفر ایام محرم میں فقط چودہ دن پرانا نظر آتا ہے۔ اس واقعہ کو اس طرح سے زندہ رکھنے کا کریڈٹ اس قوم کو بھی جاتا ہے جو ہر سال ایام محرم میں ایک مظلوم جری کی بہادری کے قصّے سنا سنا کر عالم انسانی کو شش و پنج میں مبتلا کر دیتی ہے کہ آیا کوئی ایسا اصول پرست بھی گزرا ہے جس نے اپنی قوم کے مستقبل کی خاطر بھوک پیاس کی شدت میں اپنے اعوان و انصار کو تڑپتا دیکھا اپنے اہل و اعیال کی تشنگی کی شدت کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے آنسوں پر ضبط رکھا اپنے جوانوں کی لاشیں اس لئے اٹھائیں کہ آنے والی نسلوں پر عدل کے دروازے بند نہ ہو جائیں۔ یقیناً ہر قوم کے ہیرو ہوتے ہیں جنہیں وہ یاد کر کے فخر محسوس کرتی ہے اپنی نسلوں کو ان کی بہادری کے قصّے سنا سنا کر جوش و ولولہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ جب قوم کو ضرورت پڑے تو لوگ اپنی جانوں کی پروا نہ کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے روشن مثال بن کر گزر جائیں۔

آج حسین بن علی کا نام تو زندہ ہے اور ایسا سنہری کارنامہ مٹنے کے لئے نہیں بلکہ تادم قیامت قائم رہنے کے لئے رونما ہوا تھا تاکہ دنیا ناز کرے کہ اصولوں پر سودہ بازی غیور انسان کو زیب نہیں دیتی لیکن پھر بھی اک سوالوں ذہنوں میں گردش کرتا ہے کیا چودہ سو سال کے اس طویل عرصے میں کبھی بھی سیرت حسین پر متفقہ عمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے.
نیاز فتح پوری اپنی کتاب من و یزداں میں لکھتے ہیں. "لکھنئو اپنی شعیہ آبادی کی کثرت اور اپنی مرکزیت کی وجہ سے ہندوستان میں وہی حثیت رکھتا ہے جو سرزمین ایران کو حاصل ہے اور اگر یہاں کے مراسم عزاداری اور شیون و بکا کی شدت وسعت کو سامنے رکھا جائے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان سے زیادہ بلند اخلاق کی جماعت دنیا میں کوئی ہو سکتی ہے، اگر ان تمام ظاہر داریوں کیساتھ سو میں سے ایک حصّہ بھی سیرت حسین کی کفیتوں کو وہ حقیقتاً اپنے اوپر طاری کر لیں''
مہاتما گاندھی امام حسین کے بارے میں کہتے ہیں : "میں اہل ہند کے سامنے کوئی نئی بات پیش نہیں کرتا بلکہ میں نے کربلا کے ہیرو کی زندگی کا بخوبی مطالعہ کیا ہے اور اس سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کی اگر نجات ہوسکتی ہے تو ہمیں حسینی اصول پر عمل کرنا ہوگا"
سوامی شنکر آچاریہ جی کہتے ہیں : "اگر حسین نہ ہوتے تو دنیا سے اسلام کا وجود مٹ جاتا۔ اور دنیا ہمیشہ کے لئے خدا پرستی اور نیکیوں سے خالی ہو جاتی۔ میں نے حسینؑ سے بڑھ کر کوئی شہید نہیں دیکھا۔اور حسینؑ سے زیادہ کسی شہید کی قربانی کا اثر نہیں ہوا" ( سرفراز لکھنئو 21فروری1939 )

مسٹر والٹیر مشہور فرنچ مفکر لکھتے ہیں : "کربلا والے حسین کے علاوہ ایسی کوئی ہستی دور تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ جس نے بنی نوع انسان پر ایسے مافوق الفطرت اثرات چھوڑے ہوں"۔(والٹیر) آج پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ روحِ کربلا کو زندہ رکھا جائے اپنے حاکم چنتے ہوئے حسینی اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ نااہل اور جابر و ظالم حاکم نسلوں کا تباہ کردیتے ہیں۔ آج وقت عالمِ اسلام کے سبھی حکمرانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ روشِ حسینی کو ہی اپنا شعار بنا لیں اور اصولی موقف اپناتے ہوئے اپنی قوم کی فلاح و ترقی کے لئے جان کی پرواہ نہ کریں۔۔۔۔!! یہ یاد رکھیں آج دور جنگ و جدل کا نہیں بلکہ علم و ادب اور سائنسی ترقی کا تقاضا کرتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ مقابلوں کے طریقے اب بدل چکے ہیں اس لئے اگر آج فکرِ حسینی پہ عمل پیرا ہونا چاہئتے ہیں تو اپنی تمام تر توانائیاں علم و ادب پہ لگا دیں سائنسی اصولوں کو اپناتے ہوئے سائنسی میدان میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑھ دیں۔ حسنیت عزت سے جینے کے درس کا نام ہے اور آج کی دنیا میں عزت اُسی کی ہے جو علم و ادب اور سائنسی ترقی کی دولت سے مالا ہو۔۔۔۔!!