مدرسہ ڈسکورس، دینی مدارس، اسکولز اور ہمارا مؤقف - مفتی منیب الرحمن

Discourse کے معنی ہیں: مباحثہ، مکالمہ، تبادلۂ خیال، اظہارِ خیال وغیرہ۔ آج کل امریکا اور یورپ سے لے کر پاکستان تک سب کو دینی مدارس کا غم کھائے جا رہا ہے، اور وہ اس درد میں گھلے جا رہے ہیں، چنانچہ ’’مدرسہ ڈسکورس‘‘ کے عنوان سے سیمینار ہو رہے ہیں، کانفرنسیں ہو رہی ہیں، مکالمے، مباحثے اور تبادلۂ خیالات کی مجالس سج رہی ہیں اور اس کے لیے فنڈز بھی بیرونی ممالک سے وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ مدرسہ سے مراد دینی مدارس وجامعات ہیں، حالانکہ عالمِ عرب میں عصری تعلیم کے اسکولوں کو بھی مدرسہ ہی کہا جاتا ہے۔ سو ہم دینی مدارس و جامعات کی ہمدردی میں شب و روز اپناخون جلانے والوں کا شکر بجا لاتے ہیں، لیکن اصل مسئلے سے پہلے ذرا ہم اُس تعلیم کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں، جس پر قومی خزانے سے کھربوں، پدموں روپے خرچ ہو چکے ہیں اور خرچ ہو رہے ہیں اور بحیثیتِ مجموعی قومی خزانے سے دفاعی بجٹ کے بعد سب سے زیادہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے۔

ذرا اس تعلیم کے نتائج پر ولسن سنٹر امریکا کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے: ’’پاکستان وسیع تر تعلیمی بحران سے دوچار ہے، کروڑوں پاکستانی بچے اسکول نہیں جاتے، جو جاتے ہیں تو اساتذہ کو غیر حاضر پاتے ہیں، دوسرے چیلنجز کے علاوہ تعلیمی ماحول انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ جب پاکستان اور بیرونِ پاکستان اس بحران پر بات ہوتی ہے تو اکثر حقیقتِ حال کو سمجھا نہیں جاتا۔‘‘ ولسن سنٹر کی رپورٹ پاکستان بھر میں درجنوں ماہرین اور افسران کے انٹرویوز پر مشتمل ہے، اس کا مطالبہ ہے کہ ریکارڈ درست رکھا جائے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ عوامی تاثر کے برعکس حالیہ سالوں میں تعلیم پراخراجات میں مُعتد بہ اضافہ ہوا ہے اور اب یہ دفاعی بجٹ کے قریب تر ہے۔ اس ادارے کی اسکالر نادیہ ناویوالا نے رپورٹ مرتب کی ہے اور کہا ہے کہ قومی اور بیرونی ذرائع سے تعلیم پر جو رقم خرچ ہو رہی ہے، وہ ضائع ہو رہی ہے اور منفی نتائج کی حامل ہے، لہٰذا اب زور تعداد (Numbers) پر نہیں بلکہ معیار (Quality) پر ہونا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ وہ بچے نہیں جو اسکول نہیں جا پاتے، بلکہ وہ بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں اور ایسے بچوں کی تعداد ایک کروڑ ستّر لاکھ ہے اور ان بچوں میں سے اکثر کئی سال اسکول میں گزارنے کے بعد ایک فقرہ بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں میں تعلیمی مواد کی تفہیم پیدا کرنا ضروری ہے اور نصاب کو بچوں کی سطح کے مطابق بنانا لازم ہے۔

تعلیم کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مادری زبان میں تعلیم دینا ناگزیر ہے، اعلیٰ تعلیم کو کثیرُ اللِّسان (Multilingual) ہونا چاہیے، مگر یہ حقیقت عیاں ہے کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم طلبہ کی اکثریت کو نصاب سے کاٹ دیتا ہے اور طلبہ کی ذہانت اُن کے کام نہیں آتی، کیونکہ طلبہ اور اساتذہ انگریزی میں کماحقّہ اظہارِ خیال پر قدرت نہیں رکھتے، اس لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تحقیق کے میدان میں ادھر اُدھر سے تحقیقی مواد چرانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ انگریزی سائنس کی زبان ہے، لیکن اگر طلبہ کو مقامی زبان میں اظہار کے مواقع دستیاب ہوں گے تو وہ تحقیق وتخلیق کے دائروں میں بہتر نتائج پیدا کرسکتے ہیں، اس حوالے سے برٹش کونسل کے ایک سروے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، سروے کے مطابق پنجاب کے 94 فیصد انگلش میڈیم اسکولوں میں اساتذہ انگریزی نہیں بولتے۔ (ڈان ،کراچی 16جولائی2019ء)‘‘۔

مزید تفصیل جاننا ہو تو جناب شاہنواز فاروقی کا کالم آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں، وہ لکھتے ہیں: ’’اساتذہ کسی بھی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اچھی درس گاہ خوبصورت، آراستہ اور ائیرکنڈیشنڈ عمارات کا نام نہیں ہے، بلکہ اچھی درس گاہ وہ ہے جہاں قابل اساتذہ موجود ہوں۔ سندھ کے وزیرِ تعلیم نے اسمبلی کے فلور پر کہا: صوبے کے ایک لاکھ چونتیس ہزار اساتذہ میں سے ایک لاکھ اساتذہ ایسے ہیں جنہیں استاد نہیں کہاجاسکتا، لیکن ہم حزبِ اختلاف کے خوف سے اُن اساتذہ کو چھیڑ بھی نہیں سکتے، باقی اساتذہ کو بھی گزارے کے لائق ہی سمجھیں، اِلَّا مَاشَاء اللہ‘۔ پی ایچ ڈی مقالہ جات کے سرقے کی داستانیں یونیورسٹیوں کی فائلوں میں دفن ہیں اور بعض کے معاملات عدالتوں تک بھی پہنچتے رہے ہیں، باقی صوبوں کا حال اُنیس بیس یا اٹھارہ بیس سمجھ لیجیے۔ چند سال پہلے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ جنابِ شہباز شریف نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو انگلش میڈیم بنانے کا ڈول ڈالا اور اب چند دن پہلے اخبار میں خبر پڑھی کہ موجودہ وزیرِ اعلیٰ جنابِ عثمان بزدار دوبارہ تمام اسکولوں کو اردو میڈیم بنا رہے ہیں، سو ہمارانظامِ تعلیم ناتجربہ کار حکمرانوں کے تجربات کی آماجگاہ ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے: بریں عقل ودانش بباید گریست، یعنی ایسی عقل ودانش کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

اس کے برعکس یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے درمیان اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ اٹھائیس لاکھ ہے۔ چونکہ پاکستان میں سرکاری طور پر مصدَّقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، اس لیے انھی دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیا جاسکتا ہے اور یہ سروے پرائیویٹ این جی اوز کے ذریعے کرائے جاتے ہیں، جن کے ایجنڈے کی ترجیحِ اول اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنا ہوتا ہے، جہاں ریاستی سطح پر کی گئی مردم شماری اور ووٹرز لسٹ بھی متنازع ہو، وہاں کون سی چیز شکوک و شبہات سے بالا اور مصدَّقہ تسلیم کی جائے گی۔ مگر یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ ہمارے لبرل میڈیا، این جی اوز اور اُن کے مربّی مغربی حکومتوں کا دردِ سر پاکستان میں نظامِ تعلیم کی زبوں حالی اور بربادی نہیں ہے، شاید وہ چاہتے ہوں گے کہ پاکستانی قوم اسی طرح پسماندہ رہے اور وہ اپنے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اسے آلۂ کار کے طور پر استعمال کرتے رہیں۔

سو دینی مدارس و جامعات کو کوسنے والے ذرا یہ تو بتائیں کہ ایک غریب قوم کے ٹیکسوں سے کھربوں، پدموں روپے خرچ کیے جانے کے بعد ہم نے عالمی سطح پر نرسری سے یونیورسٹی لیول تک کون سا نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے، لیکن ساری تگ و تاز کا مرکز و محور دینی مدارس و جامعات ہیں۔ نیز میں بارہا متوجہ کرتا رہتا ہوں کہ اس وقت پاکستان معاشی عدمِ استحکام کا شکار ہے، ہماری درآمدات وبرآمدات کا توازن درہم برہم ہے، سالانہ بجٹ میں ہمارے مجوّزہ آمد و خرچ کے میزانیے میں کافی بڑا خسارہ ہے، جبکہ ٹیکس کے مجوّزہ اہداف کا پورا ہونا بھی محلِّ نظر ہے۔ ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ دینی مدارس و جامعات میں تعلیم پانے والے طلبہ و طالبات کے لیے روزگار کے مواقع نہیں ہیں، کوئی ہمیں بتائے کہ پاکستان میں وہ کون سی گرانقدر تعلیمی ڈگری ہے کہ جس کے حامل کے لیے روزگار ریاست و حکومت کی طرف سے یقینی ہے۔ آرٹس، ہیومنٹیز اور سوشل سائنسز کے ڈگری ہولڈرز کو تو چھوڑیے، یہاں تو انجینئرز، ڈاکٹرز، آئی ٹی، ایم بی اے، اکاؤنٹنس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے متعدد شعبہ جات میں اعلیٰ اسناد و شہادات کے حاملین کے لیے ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ (سرٹیفکیٹ کو عربی اور اردو میں ’’سند‘‘ اور ڈگری کو عربی میں ’’شہادہ‘‘ کہتے ہیں۔)

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں پروفیسر انتقامی کارروائی کا نشانہ -گہرام اسلم بلوچ

اسی طرح وہ بچے، جو کوڑے اور کچرے کے ڈھیروں پر روزی تلاش کرتے ہیں، پنکچر لگانے والوں اور موٹر مکینک کی دکانوں، چائے خانوں، قالین سازی کے کارخانوں، جوتے پالش کرنے والے، کھیتوں اور کھلیانوں، اینٹوں کے بھٹوں، گھریلو ملازمین، سڑکوں اور چوراہوں پر کنگھی، تسبیح اور دعاؤں کے کتابچے بیچنے والے اور وہ بچے جنہیں معذور بنا کر گداگری کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جابجا رُل رہے ہیں، مختلف علاقوں میں انہیں کاکا، لمڈا، چھوکرا، چھوٹو اور نہ جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا ہے،گالیوں اور حقارت آمیز القاب سے نوازا جاتا ہے، اُن کی فکر کسی کو لاحق نہیں ہے، حالانکہ اوّلین ترجیح انھیں حاصل ہونی چاہیے۔

اب آتے ہیں مدارس کی طرف، دینی مدارس پر حکومت کے خزانے سے ایک پیسا بھی خرچ نہیں ہوتا۔ یہ معاشرے کے نادار طبقات کے بچوں کی کفالت کرتے ہیں، اُن کی خوراک، لباس، علاج اور تعلیم کا انتظام کرتے ہیں۔ عصری اداروں کی طرح یہاں آوارگی کا ماحول نہیں ہوتا اور تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آج کل بعض خوشحال لوگ بھی اپنی ترجیح پر اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلاتے ہیں۔ ان بچوں کو این جی اوز کی طرح کوئی گھروں سے ترغیب دے کر نہیں لاتا، یہ خود آتے ہیں یا ان کے والدین اپنی ترجیح کے مطابق انہیں دینی تعلیم اور بہتر تربیتی ماحول کے لیے لاتے ہیں۔ یہ ادارے کم از کم شرحِ خواندگی (Literacy Rate) میں تو اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں سے ایک مناسب تعداد دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرتی ہے۔ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان سے ملحق طالبات کے مدارس کی کل تعداد کا تقریباً ساٹھ فیصد میٹرک کر کے آتی ہیں اورچند مستثنیات کے علاوہ باقی مڈل پاس ہوتی ہیں اور اُن میں سے بعض دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کو بھی جاری رکھتی ہیں۔ مذہبی تعلیم کے ادارے (Seminaries) امریکہ اور مغرب میں بھی موجود ہیں، ہم نے لاس اینجلس کیلی فورنیا میں ایک مشہور Seminary کا دورہ بھی کیا ہے۔ امریکا اور مغرب میں مذہبی درسگاہوں میں پڑھنے والے بھی انجینئرز، ڈاکٹرز، اکاؤنٹنٹس، مختلف شعبوں کے سائنٹسٹ، ٹیکنالوجسٹ اور بزنس ایکسپرٹ نہیں بنتے، بلکہ ہیومنٹیز، بشریات (Anthropology) سوشل سائنسز کے مختلف شعبوں میں تخصُّصات (Specialisations) کرتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں فیشن کے طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ دینی طلبہ انجینئر بنیں، ڈاکٹر بنیں، سائنٹسٹ بنیں، دفاعی سروسز میں جائیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا میڈیا پرسنز جو اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر ہمیں یہ بھاشن دیتے ہیں، وہ ہرشعبے کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں۔

ہمارے نظامِ تعلیم میں فیکلٹی کا تعیُّن میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سے ہوجاتا ہے، نہ ڈاکٹر تمام شعبوں کا ایکسپرٹ ہوتا ہے اور نہ انجینئر سارے شعبوں کا ایکسپرٹ ہوتا ہے، یہی صورتِ حال آئی ٹی، بزنس ایڈمنسٹریشن، اکاؤنٹس اور سائنسز کے مختلف شعبہ جات کی ہے۔ پس جن شعبوں میں دینی طلبہ آگے چل کر ماسٹر یا بی ایس یا تخصُّصات کر سکتے ہیں ،وہ آرٹس، ہیومنٹیز، قانون، لسانیات، معاشیات اور سوشل سائنسز کے مختلف شعبہ جات ہیں۔ یہ امر بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ دینی مدارس و جامعات میں طلبہ و طالبات کی تعداد بحیثیتِ مجموعی قومی تعلیمی نیٹ ورک کے تین فیصد سے زائد نہیں ہے، لیکن ہمارے قومی اور بین الاقوامی ہمدردوں کی تمام تر توجہات اور تنقیدات کا مرکز یہی دینی ادارے ہیں۔

امریکا اور یورپ سمیت دنیا کے جتنے بھی تعلیمی نظام ہیں، اُن میں ایک حصہ لازمی مضامین کا ہوتا ہے، جو میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک ہر فیکلٹی میں شامل ہوتے ہیں، مثلاً: ہمارے نظامِ تعلیم میں لازمی مضامین یہ ہیں: اردو، انگلش، ریاضی (ہیومنٹیز، آرٹس اور سوشل سائنسز کے شعبہ جات کے لیے سائنسی علوم کی مبادیات پر مشتمل) جنرل سائنس اور مطالعہ پاکستان وغیرہ۔ دوسری فیکلٹیز میں اسلامیات بھی لازمی مضمون کے طور پر شامل ہے، مگر چونکہ دینی تعلیم بنیادی طور پر دینی علوم پر مشتمل ہے، لہٰذا اُن کے لیے اسکول کی سطح کی اسلامیات کی ضرورت نہیں ہے۔

اصولی طور پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں جتنے بھی تعلیمی نظام اور ادارے موجود ہیں، اُن سب میں عصری لازمی مضامین یکساں ہونے چاہییں، لیکن ایسا نہیں ہے، کیمبرج سسٹم اور اَشرافیہ کے تعلیمی اداروں کے نظامِ تعلیم پر حکومت کا کنٹرول سرے سے ہے ہی نہیں، اس کا اعتراف خود وفاقی وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود نیشنل کریکولم کونسل میں کرچکے ہیں اور وہ یہ بھی فرماچکے ہیں کہ سرِدست ہم سرکاری تعلیمی اداروں کو اس معیار پر لانے کے وسائل اور استعداد نہیں رکھتے۔ نیز حکومت ایک ہی جست میں ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس کے لیے عصری مضامین کی تعلیم کی پوری سہولتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کے لیے تو بیسیوں ہزار اساتذہ درکار ہوں گے اور نصابی کتب، لائبریری اور لیبارٹری کی سہولتوں کی فراہمی اس کے سوا ہے۔

اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان نے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ساتھ اشتراکِ عمل کے کچھ اصولی فیصلے کیے ہیں، ان کا پورا میکنزم تیار کرنے میں وقت لگے گا اور ایسا عملاً ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی جَست میں پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک عصری تعلیم کا سلسلہ پورے زور شور کے ساتھ جاری ہوجائے، اسے پرائمری اور مڈل سے لے کر چلنا ہوگا اور بتدریج اگلے درجات میں ترقی ہوتی رہے گی۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسے کتنے ادارے ہیں جو عصری تعلیم کا نظام اپنے وسائل سے پورا کرسکتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جنہیں حکومت کی معاونت درکار ہوگی اور حکومت کی معاونت کانظام بھی مؤثر تب ہو سکتا ہے، جب عصری مضامین کے اساتذہ کے ہائر اینڈ فائر یعنی تقرر و برطرفی کا اختیار مدارس کے منتظمین کے پاس ہو، ورنہ آج محکمۂ اوقاف کی مساجد کا حال آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ اوقاف کے مالی وسائل محکمۂ اوقاف والے لے جاتے ہیں اور مسجدوں کی ضروریات کو لوگ چندوں سے پورا کرتے ہیں اور کئی جگہ حکومت کے برسرِ ملازمت عملے کے افراد ڈیوٹی ہی نہیں دیتے اور لوگ اپنے چندوں سے امام و خطیب، مؤذن اور خادمین کا انتظام کرتے ہیں۔ اسی طرح ان مساجد کی بنیادی ضروریات اور تزئین و آرائش بھی عوام اپنے وسائل سے کرتے ہیں۔ کراچی میں محکمۂ اوقاف کی سب سے زیادہ آمدنی حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار سے ہے، آپ مزار سے ملحق مسجد کا تقابل کلفٹن کی دیگر مساجد سے کر لیجیے، آپ کو فرق معلوم ہوجائے گا۔ نیز اوقاف کی مساجد سے ملحق تعلیم و تعلّم کا بھی کوئی انتظام نہیں، صرف لاہور میں حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر محکمۂ اوقاف کے زیرِ اہتمام جامعہ ہجویریہ قائم ہے، یقینا بعض دیگر بزرگوں کے مزارات سے متصل بھی دینی درسگاہیں ہیں، لیکن اکثر درگاہوں کا اُن بزرگوں کے علمی شعار کے برعکس دینی تعلیم و تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بعض مزارات سے متصل غیر شرعی حرکات بھی ہوتی ہیں جو قابلِ افسوس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان یونیورسٹی اور یونیفارم - گہرام اسلم بلوچ

ایک مفروضہ یہ قائم کرلیا گیا ہے کہ دینی مدارس انتہاپسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ حقائق کے برعکس ہے۔ یہ مدارس وجامعات اور مکاتبِ فکر قیامِ پاکستان سے پہلے بھی موجود تھے، لیکن انتہا پسندی یا عسکریت پسندی کا کبھی الزام بھی نہیں لگا۔ اسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔ یہ رجحان بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے اواخر میں شروع ہوا اور ایران عراق جنگ کے نتیجے میں اس کے محرّکات خارجی تھے۔ اس کی بائی پروڈکٹ کے طور پر پاکستان میں فرقہ واریت پر مبنی پراکسی جنگ مسلط کردی گئی تھی۔ جب سلامتی کے اداروں نے اسے کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ رجحان ختم ہوگیا اور اب فضا کافی حد تک بہتر ہے اور اب باہم برسرپیکار وہی لوگ اداروں کے مقربین میں شامل ہیں، ان کے زیر اثر ہیں اور یہ اچھی علامت ہے، بشرطیکہ مستقبل میں خدانخواستہ حالات کی تبدیلی کی بناپر ترجیحات نہ بدل جائیں۔ مکاتبِ فکر اور مسالک پہلے بھی موجود تھے، اب بھی ہیں اور مصنوعی طریقے سے انہیں ختم نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے تعلیم و تربیت کے ماحول کو بہتر بنانا ہوگا اور نفرت انگیزی برپا کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹنا ہوگا۔

مکاتبِ فکر ہنود و یہود میں بھی ہیں، مسیحیوں میں بھی ہیں۔ امریکہ میں صرف مسیحی پروٹیسٹنٹ فرقے کے تین سو تیرہ ذیلی مکاتبِ فکر (Denominations) ہیں۔ اہلِ مغرب مذہبی اور نسلی گروہوں کو اپنے حق میں ایک مثبت قدر کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں تنوُّع (Diversity) ہے، تکثیر (Pluralism) اور تکثیریت (Plurality) ہے۔ ہمارے ہاں یہ بھی تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلک یا مکتبِ فکر اسلام کی ضد ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ مسلک یا مکتبِ فکر اسلام کی تعبیر ہے اور حدودِ شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے دلائل کی روشنی میں تعبیر و تشریح میں اختلاف ہو سکتا ہے، اس میں صحیح اور غلط، درست اور نادرست، افضل و مفضول اور راجح و مرجوح کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے، ان چیزوں کو استدلال کی میزان پر پرکھا جاتا ہے نہ کہ طاقت کے ذریعے حق و باطل کا فیصلہ کرنے کی روش اختیار کی جائے۔ بعض چیزیں مختلف اسباب کی بنا پر قومی مزاج کا حصہ بن جاتی ہیں، ورنہ ہماری پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر، ٹیلی ویژن چینلوں کے اسٹوڈیوز میں اور پبلک جلسوں میں یہ جو آئے دن شور شرابا ہوتا ہے، کوئی ہمیں بتائے کہ اس کے اسباب ومحرکات کیا ہیں۔

یہاں قارئین کی آگاہی کے لیے ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جولائی2019ء میں IBCC یعنی انٹر بورڈز چیئرمین کمیٹی کے اعلیٰ افسران کے ایک گروپ نے ہماری تنظیمات کا معائنہ کیا، تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے مرکزی دفتر میں تشریف لائے، ہمارے نظامِ امتحانات، پرچے بنانے، پرچے جانچنے، نتائج مرتب کرنے سے نتائج کے اعلان تک پورا نظام دیکھا۔ ہمارے آئی ٹی کے شعبہ کو مصروفِ عمل دیکھا، ہمارے پرائیویسی کے نظام کا بھی جائزہ لیا اور انہوں نے نہایت فراخ دلی سے کہا کہ بعض اعتبارات سے آپ کا نظام ہم سے بہتر ہے۔ انہوں نے پوچھا: آپ اسناد کی تصدیق یعنی Verification کس طرح کرتے ہیں۔ ہمارے متعلقہ شعبے کے ذمے داران نے بتایا کہ اس کے تین اسٹیج ہوتے ہیں، انہوں نے 2007ء کی ایک سند تصدیق کے لیے پیش کی، ہمارے عملے نے ان کے سامنے سسٹم کے مطابق چیک کر کے بتایا کہ اس کی تصویر میں ٹمپرنگ کی گئی ہے، وہ حیرت زدہ بھی ہوئے اور حد درجہ مطمئن بھی ہوئے، اور کہا: اب ہم آپ کی اسناد کی تصدیق آن لائن بھی کر سکتے ہیں ۔اسی طرح وہ جائزہ وفد دیگر تنظیمات کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ان کے دفاتر میں بھی گیا اور ہمیں اُن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا وفد معائنے کے لیے آئے گا، ہم اُن کو بھی خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ان دونوں موقّر اداروں نے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مثبت تجاویز پیش کیں تو اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ان شاء اللہ تعالیٰ ہم اُن پر عملدرآمد بھی کریں گے۔ ہمارا اصولی مطالبہ تو یہی چلا آرہا ہے کہ ہماری پانچوں تنظیمات کے امتحانی بورڈز قانونی طور پر تسلیم کیے جائیں اور اگر اس کے لیے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت ہو تو اس عمل کو بھی مکمل کیا جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارا نظام ملک میں روبہ عمل دوسرے سرکاری اور غیر سرکاری بورڈز کے مقابلے میں بہتر ثابت ہو۔

چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہم نے یہ بھی کہا: قربانی کی کھالیں جلدی تلف ہونے والا (Perishable) آئٹم ہے، اس کی زندگی بارہ گھنٹے سے زائد نہیں ہوتی تاوقتیکہ اسے نمک لگا کر ٹریٹ نہ کیا جائے۔ شوکت خانم، ایس آئی یو ٹی، عالمگیر، سیلانی، ایدھی ٹرسٹ سمیت رفاہی اداروں کے پاس تمام علاقوں میں ورکر دستیاب ہی نہیں جو لوگوں کے گھروں سے جا کر کھالیں اٹھائیں۔ صرف بڑے شہروں میں دعوتِ اسلامی یا الخدمت کا کسی حد تک نیٹ ورک موجود ہے۔ ایک فیصد قربانی کرنے والے بھی اپنی قربانی کی کھال اٹھا کر کسی من پسند دینی یا رفاہی ادارے کو پہنچانے کے روادار نہیں ہوتے۔ چند برسوں سے قربانی کی کھالوں کی قیمتیں بہت تیزی سے گر چکی ہیں اور اب یہ عمل اتنا پرکشش نہیں رہا، نیز گزشتہ چند برسوں سے دینی مدارس و جامعات کے لیے قربانی کی کھالوں کے اجازت نامے جاری نہیں کیے جا رہے اور اس عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے وہ ادارے جو گزشتہ نصف صدی سے کام کر رہے ہیں، بیوروکریسی کا رویہ اُن کے ساتھ بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں، بیوروکریسی، سیاسی حکمرانوں اور سلامتی کے اداروں کے پاس متبادل انتظام کیا ہے۔ یہ قرآنِ کریم کے الفاظ میں ’’خیر کا راستہ روکنے‘‘ کاگناہِ بے لذت کیا جا رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی اداروں کے تحفظات حقائق پر نہیں بلکہ مفروضوں پر مبنی ہیں۔ ہم دعوت دیتے ہیں کہ اُن کے وفود آئیں اور ہمارے اداروں کو وزٹ کریں۔ امید ہے وہ اچھا تاثر لے کرجائیں گے۔ ہم یہ بات برملا کہنا چاہتے ہیں کہ مسجد ہو یا مدرسہ، اگر کہیں کوئی کام ریاست کے مفاد کے منافی ہو رہا ہے یا کوئی ادارہ ملک دشمن عناصر کے لیے کمین گاہ کے طور پر استعمال ہورہا ہے، توحکومت شواہد کے ساتھ ایسے عناصر کے خلاف ایکشن لے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے، ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن ثبوت و شواہد کے بغیر مفروضوں کی بنا پر رائے قائم کرنا یا بدگمانی کرنا یا مشتبہ قرار دینا شریعت اور آئین وقانون کی رُو سے جائز نہیں ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.