بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

جنات ویسے تو ہمیں کہیں نظر نہیں آتے، لیکن ہم ان کی مسلمہ حقیقت کاانکار بھی نہیں کرسکتے۔ تاریخ کے مطالعے اور قرآنی علوم کے ذریعے اتنا تو ہم بہرحال جان ہی چکے تھے کہ حضرت انسان سے بھی بہت پہلے جنات اس دنیا کی ایک اہم مخلوق تھی اور یقینا ہے۔ اور اس بات پر یقینا ہمیں کوئی ابہام نہیں کہ آگ سے پیدا اس مخلوق میں شر کا عنصر بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے کبھی ان کی شرانگیزی کے باعث شرانگیز جنات کو، شیاطین کو مغلوب کیا جاتا رہا ہے،گرفتار کیا جاتا رہا ہے، قید کیا جاتا رہا ہے، بوتلوں میں بند کیا جاتا رہا ہے۔ میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ ہم انسانوں میں جس طرح کی قومیں آباد ہیں، اسی طرح جنات میں بھی مذہبی لسانی اور نسلی قومیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں، (اس لیے کم از کم مسلمان جنات سے فدویانہ معافی کے بعد) جناب بوتل کے جن کی اس کہانی میں میرا کوئی تعلق جنات سے نہیں ہے اور نہ ہی میں آپ لوگوں کے بارے میں کچھ بھی لکھنے کی جُرات کر سکتا ہوں۔ میں تو موجودہ ملکی حالات کو لے کر پریشان ہوں اور سوچ میں پڑا ہوں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔ تبدیلی، تبدیلی، تبدیلی کا نعرہ لگانے والی تبدیلی سرکار کس سُراب میں اُلجھتی نظر آ رہی ہے، بھنور میں پھنستی نظر آرہی ہے، تمام قسمیں دعوے ناپید ہو چلے ہیں۔ مہنگائی کا جن اس ملک کی عوام کی چیخ و پکار پر رقصاں دکھائی دے رہا ہے، ڈالر کی اُچھل کود سے ملک کے کاروباری حلقے اور صنعتیں اضطراب کی سی کیفیات میں مبتلا ہیں، زوال کا شکار ہیں، ایسے میں ایک کے بعد ایک غلطیاں دہراتے آپ کے وزیر باتدبیر جن کو دیکھنے اور سُننے کے بعد ہمیں اب تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کس کے ساتھ ہیں، حکومت کے ساتھ؟ جس کا امکان کم از کم مجھے تو نظر نہیں آرہا۔ اپوزیشن کے ساتھ ؟ ہوں! سوچنا پڑے گا، کیونکہ نوے فیصد سے زیادہ انصافیے، پٹواریوں اور جیالوں سے مائیگریٹ ہوئے ہیں، اور اُن میں سے کچھ مشرف صاحب کی باقیات میں سے بھی لکھے جا سکتے ہیں۔ یا پھر اپنے ساتھ ؟ لیکن مجھے تو یہ اپنے ساتھ بھی انصاف کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرضوں کے سائیڈافیکٹ جمہورکی آواز - ایم سرورصدیقی

جناب خان صاحب! جمہوری حکومت پاکستان میں کانٹوں کی سیج کے مترادف ہوتی ہے، بڑا مشکل ہے، اس کو پار لنگھانا بڑا مشکل ہے۔ سوچیں خان صاحب سوچیں، یاد کریں ماؤزے تنگ کو، جس نے چین کی نیا پار لگانے کی خاطرخون کے دریاکو پار کیا۔ جس کے بعدچین نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا، اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ماؤزے تنگ کا چین آج ماؤ کے انقلابی چین کی عملی تفسیر بنا نظرآتا ہے۔ آپ کو بھی ماؤ ہی کی طرح اس ملک کی خاطر ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاطر انقلابی اقدامات کرنے پڑیں گے، کیونکہ اب ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان سے لے کر ان کے گماشتے آئی ایم ایف تک تمام لوگ ہمارے پیچھے بھوکے کُتوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔

معرکہ بڑا دُشوار ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ اُن کو چھوڑ دیں جو لوگ لوٹ کر کھا گئے، پکڑیں اُن کو اور اُن سے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی واپس لائیں، لیکن جب تک وہ پیسے واپس نہیں آتے تب تک اس ملک کی عوام عام غریب عوام کی بھوک پیاس کے بارے میں ضرورسوچیں۔ خان صاحب اس ملک کی عوام یہ نہیں جانتی کہ کون لوٹ کر لے گیا اور کون کھا گیا۔ بالکل آئی ایم ایف ہی کی طرح کہ جب انہوں نے آپ سے کہا ہم نہیں جانتے کسی شیر اور شکاری کو، ہم تو صرف اور صرف انصاف کو جانتے ہیں، ہم تو صرف آپ کو جانتے ہیں۔ اسی طرح اس ملک کی غریب عوام بھی آپ کو جانتی ہے، عوام بھی موجودہ وزیرا عظم کو جانتے ہیں۔ خان صاحب بڑے چور ڈاکو تو آپ نے پکڑ لیے لیکن چھوٹے چوروں کو کون ہاتھ ڈالے گا، کیونکہ اس ملک کا تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ پولیس سے لے کر کمشنرز تک اور ایک عام پٹواری سے لے کر اعلی گورنمنٹ آفیسرز تک، اس بیوروکریسی کو کون ہاتھ ڈالے گا کیونکہ اس ملک کے بیوروکریٹ ہی اس ملک کے سب سے بڑے جن ہیں، جو ہر ایک نئے آنے والے کو لوٹ مار اور کرپشن کا راستہ دکھاتے ہیں۔ آپ یقین جانیں گزرے پچاس سالوں میں حالات اس نہج پر پہنچ چُکے ہیں کہ بیوروکریسی میں داخل ہونے والا اس ملک کا ہر سترھویں گریڈ کا آفیسر اپنے محکمہ میں مقرر ہوتے ہی سب سے پہلے اپنے لیے پوش علاقے میں ہزار گز کا بنگلہ اور ایک بہترین لگژری کار مانگتا ہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوتل کے ان جنوں کے اطوار بدلتے چلے جاتے ہیں۔ آپ شاید میری بات پر یقین نہیں کریں گے لیکن یہ لوگ اپنی فیملیوں کی خریداریاں لندن، پیرس اور سنگاپور میں جا کر کرتے ہیں۔ اور یہ اس اشرافیہ کا سب سے بڑا ٹرینڈ کہلایا جاتا ہے۔ یہ ہیں اس ملک کے اصل جن، ان پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔ یقین جانیں پاکستان میں کامیاب وہی ہوگا جو ان بوتل کے جنوں پر قابو پالے گا۔