ڈاکے مارتی پولیس کا ہاتھ کون روکے گا - محمد عنصر عثمانی

صاحب! میرا نام عار ف، میرے بھائی کا نام اکرم ہے، ہم لوگ اپنا مال مویشی بیچ کر آئے ہیں، ہمارے پاس تو اب واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں ہے، والد کا علاج کہاں سے کرائیں گے؟ ظالموں نے ہماری ساری جمع پونجی چھین لی، میرا بوڑھا والد منتیں کرتا رہا، پاؤں پکڑے ، ہاتھ جوڑے ،لیکن پتھر دل انسانوں کو ترس نہ آیا۔‘‘ ہم نے ایک نظر اس کے بوڑھے والد پر ڈالی جسے بیماری نے کسی شجر کا سوکھا پتہ بنا دیا تھا۔ کھانس کھانس کر بوڑھے کا برا حال تھا جس سے اس کی جھریوں بھری آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کے سیلاب میں اس کے صحت یاب ہونے کے سارے خواب ڈوب چکے تھے۔

یہ اتوار کی صبح تھی اور ہم معمول کی واک کرکے گھر لوٹ رہے تھے کہ سڑک کنارے دونوجوان اور ایک بوڑھا دیہاتی پریشان بیٹھے نظر آئے۔ ہم نے نوجوان سے پوچھا:’’ ماجرا کیا ہے؟‘‘ عارف نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور دکھ سے وہ روتے ہوئے کہا: ’’ہمارا تعلق پنجاب کے پسماندہ، غریب خستہ حال علاقے سے ہے جہاں ہم سمیت بہت سے غریب رہتے ہیں۔ ہم دو بھائی ہیں اورذراعت ہمارا گزر بسر ہے،اس نے بوڑھے کو دکھتے ہوئے کہا: ’’ابو کو دمہ اورٹی بی ہے، پنجاب کے ڈاکٹروں نے کہا کہ تم انھیں کراچی لے جاؤ، وہاں اچھے اور بڑے اسپتال ہیں، وہاں کے بڑے ڈاکٹروں سے ان کا علاج ہوگا تو یہ اچھے ہوجائیں گے۔ ہم بھائیوں نے مال مویشی فروخت کیے، اس لیے کہ بڑے اسپتال میں زیادہ خرچہ ہوگا۔ کراچی بس اڈے سے تھوڑا آگے ہمارے رکشے کو کچھ پولیس والوں نے روک کر تلاشی لیتے ہوئے ہمارے پیسے نکال لیے، جس کا ہمیں پتا بھی نہیں چلا، رکشے میں بیٹھا ایک شہری جو پڑھا لکھا لگتا تھا، اس نے ہمیں کہا کہ جیب میں اپنی رقم چیک کر لو، ہم نے جیبیں ٹٹولیں تو ہم بھائیوں کی جیبیں خالی تھیں، ہم ان پولیس والوں کے پاس گئے اور پیسوں کی واپسی کا کہا جو یقینا ان کے پاس تھے تب انھوں نے اُلٹا ہمیں زودکوب کیا، مارڈالنے کی دھمکیاں دیں اور یہ کہہ کر دھکے دیے کہ کیا ہم تمھیں چور وڈاکو نظر آتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   محاسبہ اور علاج - لطیف النساء

چین کے عظیم مفکر ’’کنفیوشس ‘‘ نے کہا تھا: ’’اگر نا انصافی کھلا سانڈھ بن جائے تو لوگ عزت نہیں، بلکہ حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہیں اور دھتکار پڑتی ہے، اگر حکمرانوں نے عوام کو مطیع و فرمانبردار بنانا اور عوام کے دلوں میں عزت و تکریم کے بیج بونے ہیں تو انھیں صاف وشفاف انصاف دے، حکام کو چاہیے کہ ہرریاستی شعبے میں ایسے ایماندار لوگ تعینات کریں جو اپنی کوتاہیوں، خامیوں سے آگاہ ہوں‘‘۔ ہماری پولیس میں صرف اتنا احساس ندامت جاگ جائے کہ اس محکمے کی تاریخی بنیادیں جس عظیم انسان نے رکھی تھیں، اسے عدل و انصاف کا پیکر کہا جاتا ہے، شاید پولیس کا مردہ ضمیر جاگ جائے۔

عارف اور اکرم نے یہ حادثہ کیسے برداشت کیا ہوگا، یہ سوال اپنی جگہ ، مگر عوام کے لیے ایسی کہانیاں نئی نہیں۔ کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جمع پونجی گنوانے والے عارف اور اکرم ہوں یا پنجاب پولیس کے تشدد سے ہلاک ہونے والا صلاح الدین ہمارا قومی وقارایسے واقعات سے گرتا جا رہا ہے۔ جن معاشروں میں ناانصافی سستی ہوجائے تو وہ معاشرے اپنی نسلوں کو ورثے میں غلامی کی زنجیریں دیتے ہیں، بدقسمتی سے’’ ریاست مدینہ نمبر دو‘‘ میں ایسے واقعات ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ جن سے انصاف کا جنازہ دھوم سے نکالا جا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کی اجارہ داری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ آئے دن کوئی نیا ایشو سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا، حکام بالا کو بھی سوشل میڈیا سے پتا چلتا ہے اور معاملہ سوشل میڈیا پر ہی حل کر لیا جاتا ہے، جس سے قومی اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عدالتیں لگا کر فیصلے سنا ناملک کے انصاف کے اداروں کے لیے ٹھیک نہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ غیر متوازن انصاف ریاستوں، ریاستی اداروں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ ملکوں کا معاشی استحکام انصاف سے جڑا ہے، جب تک انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جائے گا، ملک میں معاشی تبدیلی لانا سوئے خواب ہوگا۔

گزشتہ سالوں میں پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔2013 میں کراچی میں پولیس کاٹارگٹڈ آپریشن شروع ہوا ،جس میں پولیس کے ساتھ پاکستان رینجرزکی معاونت بھی شامل تھی۔ اس آپریشن کی پولیس نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد سے پولیس نے 4 ہزار 5سو 62 مقابلے کیے، جس میں 14 سو 99 ملزمان ہلاک ،جبکہ 1لاکھ 1 ہزار 761 ملزمان کو گرفتار کیا۔ رپورٹ کی تفصیلات میں حکام کو باور کرایا گیا کہ ہلاک ملزمان میں367 دہشت گرد، 38 اغوا کار، 10 بھتہ خور، 1084 ڈاکو شامل تھے اور پولیس نے عوام کی حفاظت کی خاطر شہر بھر میں جوکارروائیاں کیں ان میں 22 ہزار 115 چھوٹے بڑے ہتھیار بھی پولیس نے برآمد کیے، جن میں 23 خود کش جیکٹس بھی شامل تھیں۔ صرف سندھ میں آج تک جتنے بھی ٹارگٹڈ آپریشن ہوئے، ان میں پولیس کو رینجرز کی مکمل معاونت حاصل رہی، جس کی وجہ سے سندھ رینجرز کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے تھے۔ رپورٹ میں پولیس کی کارکردگی کو اچھا بتایا اور گرفتار ملزمان کی تعدادمیں لکھا گیا کہ 12 سو 41 دہشت گرد، 2785 قتل، 143 اغوا کار، 654 بھتہ خور، 3964 ڈاکو، 15345 مفرور ملزمان کا نام شامل ہے ،مگر مذکورہ تعداد صاف و شفاف تحقیقات پر مبنی اورہلاک و گرفتار ملزمان میں سے کوئی ایک بھی نا انصافی کی بھینٹ نہیں چڑھا،اس بات کی کوئی گارنٹی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   مظفرآباد ميں پوليس گردی - توقیر ریاض

محکمہ پولیس میں کام کی نوعیت کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعے سے لگا لیجیے۔ ہمارے ایک جاننے والے پولیس میں بھرتی ہوئے چھ مہینے بعد ملاقات ہوئی تو ہم نے پوچھا:’’ سناؤ! عوام کی حفاظت کا کام کیسا چل رہا ہے؟ کہنے لگے:’’ پولیس عوام کی نہیں بلکہ عوام ہماری حفاظت کرتی ہے‘‘۔ ہم بہت حیران ہوئے اور پوچھا: ’’وہ کیسے؟ وہ مسکرائے اور کہنے لگے: ’’چھ مہینے سے تنخواہ بنک سے نہیں نکالی،گھر کے اخراجات ، دوا دارو، بچوں کی فیسیں عوام ادا کر دیتی ہے، جس سے ہماری تنخواہ محفوظ رہتی ہے۔‘‘ ظاہر ایسے واقعات گنے چنے نہیں ہوسکتے کہ جس سے یہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے کہ اس سے اداروں کی کردارکشی نہیں ہوگی؟