کشمیر بھی قصہ پارینہ بن جائے گا - حبیب الرحمن

پاکستان کا ہر دن کسی نہ کسی بڑے سانحے کی زد میں رہتا ہے۔ کوئی نہ کوئی بڑا اسکینڈل ایسا جنم لیتا رہتا ہے جو پچھلے تمام اسکینڈلوں کو اپنے پیچھے یوں چھپا لیتا ہے گویا کوئی بڑا حاثہ یا سانحہ گزرا ہی نہ ہو۔ اخبارات، رسائل اور ہمارے مادر پدر آزاد ٹی وی چینلز "حاضر" حادثے، سانحلے یا کسی بھی ظہور پذیر ہونے والے بڑے واقعے کو اتنی ہوا دیتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل سے اہم ترین مسئلہ یہی ہے اور جیسے ہی یہ مسئلہ حل ہوجائے گا، پورا پاکستان امن کی بنسی بجارہا ہوگا۔

دور نہیں جاتے۔ نواز حکومت آئی آئی تھی۔ اس کے آنے کے ساتھ ہی یوں لگا جیسے پاکستان میں شدید ترین زلزلے آنا شروع ہو گئے ہوں۔ کئی بڑے بڑے واقعات ایسے ہوئے جن کو سامنے رکھ کر یہی کہا جاسکتا تھا کہ پاکستان پر جیسے غیر ملکی افواج نے قبضہ کر لیا ہو جس کی وجہ سے ہر فردوبشر پر لازم ہو گیا تھا کہ وہ اٹھ کھڑا ہو اور حکومت کے تخت کا تختہ کر کے رکھ دے۔ نواز حکومت کے خلاف شدید تحریک چلنا شروع ہو گئی اور دارالخلافہ کے گھیراؤ اور نواز بھگاؤ کی منصوبہ سازی ہونے لگی۔ اسی دوران پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم المیہ ہوا اور ماڈل ٹاؤن (لاہور) میں پولیس درندگی کی انتہا ہو گئی۔ ناجائز تجاوزات یا حفاظتی بیریئرز کو ہٹانے کے بہانے ایک دینی طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے پولیس نے نہ صرف لاٹھی چارج کیا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی پولیس نے اتنے "سیدھے" فائر نہیں کئے ہونگے جو اس موقع پر ہوئے۔ نتیجے میں 14 شہادتیں ہوئیں جن میں خواتین بھی شامل تھیں اور 100 سے زیادہ افراد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ پولیس نے جس بیدردی سے لاٹھی چارج کیا اور معمر افراد تک کا کوئی لحاظ نہ کیا، اس کی مثال بھی پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل کہیں نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا بڑا المیہ تھا جس نے نواز حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کو اور بھی ہوا دی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو کئی برس تک زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن "ارمی پبلک اسکول" (اے پی ایس) میں ہونے والے المناک واقعے نے ماڈل ٹاؤن سانحے سمیت اسلام آباد کے 126 دن کے گھیراؤ کے سارے اسکینڈل کو ماضی کے گرد و غبار میں دبا کر رکھ دیا۔

قصور میں بچوں کے ساتھ فحش ویڈیوز کا چرچہ ہوا، قصہ ماضی بن گیا، وکلا گردی مچی، قصہ ماضی بنی، حافظین کو مار مار کر جان سے مارڈالنے کے بعد بھی درندوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو ان کی لاشوں کو درختوں سے الٹا لٹکا دیا گیا۔ اس پر بہت شور مچا، ٹھنڈا ہو گیا۔ ریمنڈیوس نے سرعام دو پاکستانی شہری ہلاک کر دیئے، اس کو قید بھی کیا گیا لیکن وہ بھی پتلی گلی سے نکال دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ جس خاندان سے ان دو پاکستانیوں کا تعلق تھا، وہ بھی خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے ملک سے باہر بھیج دیئے گئے۔ آسیہ ملعونہ کا کیس آتش فشاں کی طرح پھٹا لیکن لوگ اب اس آتش فشانی کو بھی بھول چکے ہیں۔ پی پی پی کے دور کے سلمان تاثیر کا قتل، پھر ان کے بیٹے کا اغوا، گیلانی کے بیٹے کا اغوا جیسے واقعات سارے کے سارے سرد خانوں میں ڈال دیئے گئے۔ سانحہ ساہیوال پر بہت شور و غلغلہ مچا، خان صاحب نے دعویٰ کیا کہ عمرے سے واپسی پر میں مجرموں کو الٹا لٹکا دونگا لیکن مجرم تو نہ لٹک سکے البتہ کیس بالکل ہی الٹا لٹک گیا اور مارے جانے والے افراد ہی قصور وار قرار دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیرمیں کرفیو: پاکستان کی کاوشیں بے ثمر کیوں؟ علی حسنین نقوی

بینظیر کے دور میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا مرڈر ہوا اور ہوا بھی پولیس جیسے ادارے کے ہاتھوں۔ نتیجے میں پوری حکومتی بساط لپیٹ دی گئی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ پولیس کو میر مرتضیٰ بھٹو کو مارنے کا حکم دیا کس نے تھا۔ بینظیر ایک خود کش بم دھماکے میں شہید کردی گئیں۔ جس پارٹی کی وہ لیڈر تھیں وہی پارٹی الیکشن جیت کر اقتدار پر قابض ہوئی۔ اس کے پورے دور سے لیکر تا حال یہ بات معلوم ہی نہ ہو سکی کہ یہ سازش کس کی تھی۔ زرداری، جو صدر مملکت تھے، انھوں نے پاکستان کی تمام ایجنسیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائیں۔ جس ملک کے صدر کو ہی اپنے ملک کی ایجنسیوں پر اعتماد نہیں ہو اس کے عوام سے کہا جائے کہ وہ "جے آئی ٹیز" کو صحیفہ آسمانی مانیں، کیا یہ خلاف عقل بات نہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو کا معاملہ ہو یا بینظیر کی شہادت، سب کے سب قصہ ماضی بن چکے ہیں اور اب عوام کو جیسے ان معاملات کی کسی بھی قسم کی کوئی پرواہ نہیں۔

چند ماہ پہلے "کتابوں" کا معاملہ ہر قسم کے میڈیا کی زینت بنا اور خوب ہی بنا۔ ایک وہ کتاب تھی جو پاکستان کے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے بھارت کی سب سے خطرناک خفیہ ایجنسی "را" کے سابق سربراہ کے ساتھ لکھی تھی اور ایک وہ کتاب جو پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کی سابقہ زوجہ محترمہ نے خان صاحب کی ذاتی زندگی پر لکھی تھی۔ دونوں ہی معاملات کوئی غیر اہم نہیں تھے اس لئے میڈیا کی زینت بنے لیکن اللہ جانے کس کتاب نے کس کتاب کو دبا دیا اور اب لوگ اس ساری کہانی کو فراموش کر چکے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان جو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے تھے اور اپنے وزیر اعظم بن جانے کے اور پورا سال گزرجانے کے بعد باوجود واشنگٹن کی جانب منھ کرکے تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے تھے، اچانک امریکہ یاترا پر چل نکلے۔ پاکستان کے آرمی چیف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امیریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ سے دونوں اہم شخصیات کی ملاقات ہوئی بلکہ ان میں سے ایک کو تو پوری 21 توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی۔ ان کی واپسی کے ساتھ ہی بھارت کا رویہ پاگل کتے جیسا ہو گیا اور اس نے کشمیر کے سلسلے میں امریکی "ثالثی" کی پیش کش کا جواب کشمیر کیلئے بنے آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی شق 35 اے ختم کرکے اس طرح دیا کہ پورے کشمیر پر زبردست فوج کشی کردی اور آج 36 یوم سے زیادہ گزرجانے کے باوجود، کشمیر میں لگے کرفیو کو اٹھانے کیلئے بھی تیار نہیں۔ قتل و غارت گری اور عزتوں کی پامالی اپنی جگہ، بھارت 80 لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی زندگی تک کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ یہ صورت حال حکمرانوں کیلئے یا صاحب اختیارروں کیلئے ممکن ہے کسی حد تک قابل قبول ہو لیکن پاکستان کے عوام اس بات کو کسی طور برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ سارے پاکستان میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑی ہوئی ہے اور حکمرانوں کا ہر اقدام لگی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی سعی میں مصروف "جہاد" نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شکریہ جماعت اسلامی - احسان کوہاٹی

عوام کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ تین ہفتوں سے بھی کہیں زیادہ عرصے بعد وزیر اعظم پاکستان کو کشمیریوں کے دکھ میں شریک ہونے کا خیال آیا اور گزشتہ سے گزشتہ جمعے کو پوری قوم کو "کھڑا" ہونے کی ہدایت کر تے ہوئے یہ واضح اور صاف صاف الفاظ میں کہا کہ حکومت ہر جمعے کو کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کا طریقہ کار کا اعلان کریگی۔ اگلا جمعہ 6 ستمبر کا تھا۔ کشمیریوں کے سلسلے میں اظہار یک جہتی کا کوئی واضح شیڈول تو نہ دیا گیا لیکن اس یوم دفاع کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا نام کر دیا گیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ پورے دن یوم دفاع کے پروگراموں کے علاوہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں سے کچھ بھی نشر یا شائع نہیں ہوا۔

آج کل پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا، پنجاب پولیس کے ظلم و ستم کے ہر واقعے کو اتنا ہائی لائٹ کئے ہوئے ہے کہ کشمیر کا ذکر تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ میرا سوال اہل پاکستان، دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور مبصرین سے صرف اتنا ہی ہے کہ پولیس پنجاب کی ہو یا پاکستان کے کسی بھی صوبے کی، جس قسم کی وارداتوں کو بہت زیادہ شہ سرخیوں کی زینت بنایا ہوا ہے، کیا ایسا پاکستان میں اور خصوصاً پنجاب میں چند دن پہلے شروع ہوا ہے؟۔ کیا راؤ انوار کے 400 سے زیادہ ماورائے عدالت قتل پورا پاکستان بھلا سکتا ہے۔ کیا اندرون سندھ اور پنجاب میں پولیس کی درندگی کی داستانیں ماضی میں کبھی سننے اور دیکھنے میں نہیں آئیں۔ پولیس ہی کیا، ہماری فورسز کی کہانیاں بھی کوئی بہت مختلف نہیں۔ کیا لوگ مشرقی پاکستان کو بھول سکتے ہیں، کیا کراچی میں 1992 سے جاری آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہزاروں گرفتاریوں اور قتل کو فراموش کیا جاسکتا ہے۔ کیا مسنگ پرسنز کو اٹھائے جانے، پھر ان کی مسخ شدہ لاشوں کا ملنے سے لیکر ان کے بالکل ہی لاپتہ ہونے کی داستانوں سے پاکستان کی تاریخ بھری ہوئی نہیں۔
پنجاب میں جو کچھ بھی اب ہو رہا ہے اور جس انداز میں اسے اچھالا جارہا ہے بہت اچھا ہے اس لئے کہ ظلم جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانا اور اس کو جڑسے ختم کرنا بہر صورت ضروری ہے لیکن کیا پنجاب پولیس کی کارروائیوں کا سہارا لیکر کشمیر کے معاملے کو دبانے کی بھرپور تیاری نہیں ہو رہی۔ کیا اب ہمارا میڈیا کشمیر کشمیر کھیلتے کھیلتے پیجاب پولیس پنجاب پولیس نہیں چیخنے لگا۔

پاکستان میں ہر بڑے واقعے کو اسی طرح کسی دوسرے واقعے کو ہوا دیگر دبایا جاتا ریا ہے۔ جو ماحول اب بن رہا ہے وہ بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ چند جمعے قوم کو شاید اور کھڑے ہونے کا حکم دیا جاتا رہے لیکن اس کے بعد پوری قوم کو بھٹے کی طرح بٹھا دیا جائے گا اور لوگ کشمیر اور کشمیریوں کے سارے دکھ درد بھول کر "تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو" میں لگادیے جائیں گے۔