امامِ حسین سے عقیدت کے تقاضے - مفتی منیب الرحمن

محرم الحرام 1441ہجری کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں ملتِ اسلامیہ اپنے اپنے انداز میں امامِ عالی مقام حسین، آپ کے اہلِ بیتِ اطہار اور آپ کے اعوان و انصار رضی اللہ عنہم کی یاد مناتے ہیں، اُن کی بے مثال قربانیوں اور عظیم شہادتوں کا بیان ہوتا ہے، انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اُن سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ اُن کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، لازوال ہیں اور یہ تاریخِ اسلام کا ایک دردناک باب ہے۔

ہم تذکارِ حسین تو کرتے ہیں، لیکن اقدارِ حسین سے دور رہتے ہیں، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اُن اقدار کو اپنانے کا حوصلہ نہیں رکھتے، یزید کو ملامت بھی کرتے ہیں اور ہر برائی کے لیے اُسے استعارے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، لیکن یزیدِ دوراں کو کوئی بھی مخاطَب کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں سب کے پر جلتے ہیں۔ پس یہی سبب ہے کہ امامِ حسین سے اتنی فراواں محبت کے مظاہر کے باوجود ہمارے اندر کوئی جوہری تبدیلی نہیں آتی، ہمارے گردوپیش انھی اقدار کی جلوہ گری ہے، جن کو مٹانے کے لیے امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ نے تاریخِ انسانیت کی بے مثال قربانی پیش کی۔ ہمارے انفرادی اور اجتماعی کردار میں یہی دورنگی کارفرما ہے، پس ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ اپنے ہاں رائج مجالسِ حسین، مجالسِ عزا اور ذکرِ حسین کے شعار سے ہم امام حسین کے سامنے سرخرو ہوپائیں گے۔ امام حسین جب مکۂ مکرمہ سے عازمِ کوفہ ہوئے تو راستے میں مشہور شاعر فرزدق ملا، آپ نے اس سے اہلِ کوفہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: ’’اُن کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں‘‘۔ کیا آج ہمارا معاشرہ رویوں کی اسی دو عملی کا شاہکار نہیں ہے، یہ شعر اسی کیفیت کامظہر ہے:


عجب تیری سیاست ،عجب تیرا نظام

یزید سے بھی مراسم، حسین کو بھی سلام


امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی حکومت کو نبوی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ مسندِ اقتدار پر وہ متمکن ہو جو اس امانت سے عہدہ برآ ہونے کا اہل ہے، اُن کے نزدیک اقتدار نا اہلوں کو تفویض ہوچکا تھا اور یہ تعلیماتِ نبوت کے سراسر خلاف تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امانت ضائع کردی جائے توقیامت کا انتظار کرو، صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ! امانت کیسے ضائع ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب زمامِ اقتدار نااہل کے سپرد کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (بخاری:6496)‘‘۔ ظاہر ہے کہ سب سے بڑی امانت تو منصبِ حکومت ہے، کیونکہ اس کی طاقت سے لوگوں کو حقوق ملتے ہیں یا غصب کیے جاتے ہیں، عدل قائم ہوتا ہے یا سَلب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بےشک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حق داروں کو پہنچا دو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ تمہیں کتنی عمدہ نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے،اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبانِ اختیار ہیں ،سو اگر تم میں کسی بات پراختلاف ہوجائے تو (حتمی فیصلے کے لیے ) اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو،اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہی (شعار) بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء:58-59)‘‘۔

منہاجِ نبوت، منہاجِ خلافتِ راشدہ یا منہاجِ علی وحسین رضی اللہ عنہم کیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا: ’’وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ (نظامِ )صلوٰۃ و زکوٰۃ قائم کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ (الحج:41)‘‘۔ پس حسین سے محبت کے دعوے داروں پر لازم ہے کہ اپنے سامنے اقدارِ حسینی اور اقدارِ یزید کا ایک تقابلی خاکہ بنائیں اور پھر اپنا اپنا جائزہ لیں کہ ہم کردار کے اعتبار سے کس کے قریب تر ہیں، پتا چل جائے گا کہ یاحسین کا نعرہ لگانا کتنا آسان ہے اور حسینیت کی کسوٹی پر پورا اترنا کس قدر دشوار ہے۔ مولانا محمد علی جوہر نے سچ کہا ہے:


قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


ہماری نظر میں یہ شعر قرآنِ کریم کی ان آیات کی تعبیر ہے: (۱) ’’جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، اُن کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں ان کی زندگی کاشعور نہیں ہے۔ (البقرہ:154)‘‘۔(۲) ’’اور جو اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے، انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (آل عمران:169)‘‘۔ الغرض حیات و موت کا فلسفہ بدل جاتا ہے، قرآنِ کریم کا اندازِ بیاں نہایت دلچسپ ہے کہ جو راہِ خدا میں قتل کر دیا جائے اور ظاہری معیارات کے مطابق اس کی موت واقع ہوجائے، اس پر موت کے احکام نافذ ہوجائیں، انہیں مردہ کہنا تو درکنار، اپنے حاشیۂ خیال میں مردہ گمان کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ علامہ اقبال کے بقول یہی حقیقی حیات ہے:


برتر از اندیشہِ سود و زیاں، ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں، ہے زندگی


یعنی ظاہری معیارات کے مطابق حیات نظامِ تنفس کے جاری رہنے کا نام ہے اور ابدی معیارات کے مطابق جان کو جاں آفریں کے سپرد کرنے کانام ہے، سو ظاہراً امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی، لیکن حقیقت میں یہ یزیدیت کی موت تھی، چنانچہ آج ہر ایک اپنے آپ کو حسینی کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے اور کسی میں حوصلہ نہیں کہ منظرعام پر آ کر اپنے آپ کو یزیدی کہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:


ماسوی اللہ را مسلمان بندہ نیست

پیش فرعونی سرش افکندہ نیست

خون او تفسیر این اسرار کرد

ملت خوابیدہ را بیدار کرد

تیغ لا چون از میان بیرون کشید

از رگ ارباب باطل خون کشید

نقش الا اللہ بر صحرا نوشت

سطر عنوان نجات ما نوشت

رمز قرآن از حسین آموختیم

ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم


ترجمہ: ’’مسلمان اللہ کے سوا کسی کی بندگی قبول نہیں کرسکتا، کسی فرعونِ وقت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا، کلمۂ توحید کے اس راز کی تفسیر خونِ حسین نے رقم کی اور خوابِ غفلت میں پڑی ملت کو بیدار کر دیا، کلمۂ توحید کی ’’سیفِ لا‘‘ کو جب میان سے نکالا تو اسی میں اہلِ باطل کی موت تھی، آپ نے ’’اِلَّا اللہ‘‘ کا نقش صحرائے کربلا پر کیا ثبت کیا کہ ہماری نجات کا عنوان بن گیا، میں نے قرآن کے اسرار و رموز حسین سے سیکھے، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کیے‘‘۔

یزیدیت طاقت کو معیارِ حق ماننے کا نام ہے اور منصبِ شہادت پر فائز ہو کر امام حسین نے ثابت کیا کہ حق کی طاقت ہے، مادی طاقت کا اقتدار عارضی ہوتا ہے اور حق کی طاقت کا اقتدار دائمی ہوتا ہے، تلوار سے گردنیں جھک سکتی ہیں، لیکن حق کی طاقت کے نقش دلوں پر ثبت ہوتے ہیں جو کبھی نہیں مٹتے۔ آپ نے فتح و شکست کے معیارات بدل دیے اور یہی شعارِ مصطفوی تھا کہ غزوۂ حدیبیہ میں وقتی طور پر آپ ﷺ کو عمرہ کیے بغیر واپس جانا پڑا، لیکن قرآنِ کریم نے اسے فتحِ مبین سے تعبیر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے عمرے اور طوافِ کعبہ کا جو خواب بیان کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اُسے سچ ثابت کردیا۔ (الفتح: 27)‘‘۔

ہم نے علامات پر قناعت کرنا اپنا شعار بنا لیا اور حقیقت سے دور ہوتے چلے گئے، یزید مردود قرار پایا اور اَقدارِ یزید پنپتی رہیں، نعرۂ یاحسین تو پورے جوش وجذبے کے ساتھ لگایا، لیکن حسینیت اور حسینی اقدار سے دور ہوتے چلے گئے۔ حسینیت آج بھی ایک استعارے کے طور پر ہمارے دینی شعار کا حصہ ہے، لیکن اسے ہم اپنے اجتماعی نظام اور انفرادی زندگیوں میں ڈھال نہ سکے۔ کربلائے حسین تو اب بھی تابندہ ہے، لیکن بقولِ علامہ اقبال کربلائے عصرِ حاضر اپنے نمود کی منتظر ہے:


قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

گرچہ تابدار ہے اب بھی گیسوئے دجلہ وفرات


شکست قلّت سے نہیں ہوتی، بلکہ زعمِ کثرت سے ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’قریب ہے کہ دشمن تم پر ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، پوچھاگیا: یارسول اللہ! کیا ہم اُس وقت قلت میں ہوں گے۔ فرمایا: تم بڑی تعداد میں ہوگے، لیکن سمندر کے جھاگ کی طرح بے توقیر ہوگے، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا۔ پوچھاگیا: یارسول اللہ! کمزوری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حُبِّ دنیا اور کراہیتِ موت۔ (ابودائود:4297)‘‘۔ فرمایا:’’لوگو! دشمن سے ٹکراؤ کی تمنا نہ کرو، اللہ سے عافیت مانگو، لیکن جب ٹکراؤ ہوجائے تو ڈٹے رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا: اے کتاب نازل فرمانے والے! بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے! ہمارے دشمنوں کو شکست دے اور اُن کے خلاف ہماری نصرت فرما۔ (بخاری:3024)‘‘۔

امام عالی مقام حسین کو ہماری ضرورت نہیں، بلکہ آج بھی ہمیں اُن کی ضرورت ہے، شبِ عاشور آپ نے اپنے جاں نثاروں کو فرمایا تھا: ’’جو آج کی شب اپنے خاندان والوں کے پاس جانا چاہتا ہے تو میں اسے اجازت دیتا ہوں، تم پر رات کی ظلمت چھاچکی ہے، تم میں سے ہر ایک میرے گھر کے ایک فرد کا ہاتھ پکڑ لے اوررات کی تاریکی میں اپنے خاندانوں کی طرف نکل جائے، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، قوم کو صرف میرا خون چاہیے، جب وہ مجھے شہید کردیں گے تو ان کی پیاس بجھ جائے گی، کسی اور سے انہیں کیا غرض‘‘۔ اہلبیت کے مردوں نے کہا: ’’آپ کے بعد جینے میں کیا مزا، لوگ کہیں گے: تم نے اپنے بزرگوار، اپنے سردار، اپنے چچازاد اور بہترین چچا کو تنہا چھوڑ دیا، تم نے ان کی مدافعت میں ایک تیر اور ایک نیزہ بھی نہ چلایا، دنیاوی زندگی کی خاطر تم نے تلوار تک نہ چلائی۔ واللہ! ہم آپ پر اپنی جان و مال اور اہل و عیال کو قربان کردیں گے اور آخری سانس تک آپ کی مدافعت میں لڑیں گے‘‘۔ انہوں نے مشکل گھڑی میں امامِ حسین کا ساتھ نہ چھوڑا اور نقدِ جاں نثار کر کے اقدارِ حسینی کی شمع روشن کی، آج ہم کہاں کھڑے ہیں، اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

صبحِ عاشور آپ نے اتمامِ حجت کرتے ہوئے حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: کیا مجھ جیسی شخصیت کو قتل کرنا تمھیں گوارا ہے، میں تمھارے نبی کا شہزادہ ہوں اور آج میرے سوا اللہ کی زمین پر کسی نبی کا فرزند موجود نہیں ہے۔ علی میرے باپ، جعفرِطیار میرے چچا، حمزہ میرے والد کے چچا ہیں۔ میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’یہ دونوں نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں، میرا مقام جاننا ہو تو اصحابِ رسول سے پوچھو ‘‘۔ لیکن ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی اور سعادت ان کے مقدر میں نہ تھی۔