راوی کے کنارے سے صدا آئی ہے - سید مصعب غزنوی

ایک صحافی دوست کا فون آیا، کہنے لگے ایک ضروری کام ہے اور نیکی کا بھی ہے، کیا آپ کر دیں گے؟ میں نے جواب دیا جی ضرور کیوں نہیں۔ تو وہ مجھے اپنے ساتھ ایک آدمی سے ملوانے لے گئے۔ آدمی چہرے سے ہی انتہائی پریشان اور مایوسی کا شکار نظر آرہا تھا۔ میرے دوست نے ان سے میرا تعارف کروایا اور اس سے کہا کہ آپ اپنی پریشانی انہیں بتا دیں، یہ آپ کی شاید کوئی مدد کر سکیں۔ وہ آدمی بولا آپ کے بارے میں سنا ہے۔ آپ کالم وغیرہ لکھتے ہیں تو ایک کالم ہماری پریشانی پر بھی لکھ دیں، آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا، ہم پر اس نے اپنی ساری بات بیان کرنا شروع کی۔

راوی کے کنارے ایک گاؤں ہے ''بابا بڈھن شاہ''، ڈاکخانہ گڑھ فتح شاہ،تحصیل تاندلیانوالہ اور ضلع فیصل آباد ہے۔ دریائے راوی کے کنارے واقع اس گاؤں کی آبادی میں قریبا 200 گھر موجود ہیں، اور یہ گاؤں کے رہائشی تقریبا 300 سال سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ راوی میں کٹائو کا عمل جاری ہے اس وجہ سے اس گاؤں کے زیر آب آنے کا شدید خدشہ ہے۔ اس کٹاؤ کو روکنے کے لیے بند دو سال پہلے منظور ہوا تھا، اور صرف ایک مرتبہ نہیں اس بند کی منظوری پانچ دفعہ ہوچکی ہے۔ گاؤں کے رہائشی جب محکمہ ایریگیشن اور محکمہ انہار کے افسران سے اس بند کے مسئلہ پر ملے تو انہوں نے کہا کہ ابھی بند کی منظوری نہیں ہوئی اور نہ ہی فنڈ آئے، مگر اس ہی طرح ان دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے پانچ چھ ماہ گزر گئے، تب جاکر افسران نے کہا کہ بند بنانے کی منظوری ہوگئی ہے اور فنڈ آگئے ہیں اب دوبارہ سروے ہوگا کیونکہ اب کٹاؤ بڑھ چکا ہے اور اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں۔

اس طرح ان گاؤں والوں کو ان افسران کے دفاتر کے چکر لگاتے ہوئے 2 سال سے بھی زائد عرصہ ہوگیا ہے اور اس عرصہ میں پانچ بار ہی سروے ہوا اور پانچ بار ہی بند بنانے کی منظوری ہوئی، مگر ہر سروے کے بعد یہ ہی کہا گیا اب سروے دوبارہ ہوگا پہلا سروے پرانا ہے، اور اب دریا بڑھ چکا ہے ذیادہ اخراجات ہوں گے جس کیلئے ذیادہ فنڈ درکار ہے، یہ کرتے کرتے دو سال گزر گئے اور ابھی تک بند کی تعمیر نہیں ہوئی۔ ہر سروے کے بعد کہا گیا کہ وزیراعظم سے فنڈز کا اجراء نہیں ہوا، کبھی وزیر اعلی سے فنڈز کا اجراء نہیں ہوا، اور کبھی کہا گیا ہمارے ملکی معیشت کے حالات ناساز ہیں، فنڈز کی کمی ہے اور اس طرح کے تمام جھوٹے بہانے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

دو ماہ پہلے اریگیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور نے کہا کہ آپ کے فنڈز جاری ہوگئے ہیں، آپ جاکر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے ملیں، وہ آپ کا کام کروائیں گے، گاؤں والے ڈپٹی کمشنر صاحب سے ملے تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے بھی کہا کہ ہاں فنڈز آگئے ہیں آپ کے اسسٹنٹ کمشنر آپ کا کام کروائیں گے۔ پھر گاؤں والے بارہا اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ سے ملے مگر انہوں نے کام ابھی تک نہیں کروایا اور اب اسسٹنٹ کمشنر کہہ رہے ہیں کہ یہ کام میں نے نہیں کروانا اور نہ ہی میں کروا سکتا ہوں۔

اس دوران ہمارے گاؤں کی زمین پر بہت سارا کٹاؤ ہوچکا ہے، اور ہمارا بہت سارا زرعی رقبہ دریا میں شامل ہو چکا ہے، اور دن بدن ہمارے گاؤں کی زمین اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہا ہے۔ ہم اپنے ذرعی رقبہ سے تو محروم ہو ہی چکے ہیں، اب صرف گھر ہی بچے ہیں اگر جلد ہی دریا کے کٹاؤ کے آگے بند نہ باندھا گیا تو ہم سب بے گھر بھی ہوجائیں گے۔ ہم گاؤں والوں نے ہر ایک جگہ جاکر کوشش کر کے دیکھ لیا، اپنی آواز سنانے کیلئے احتجاج بھی کیا۔ مگر ہمارے احتجاج بھی سیاست کی نظر ہوگئے۔ ہم لوگ پاکستان کے رہائشی ہیں، ہم ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ ڈالتے ہیں گو کہ ہر وہ کام کرتے ہیں جو کہ ایک شہری کے فرائض میں شامل ہیں، مگر اس سب کے باوجود ہمارے علاقے میں کسی قسم کی کوئی سہولت میسر نہیں، نہ ہی کوئی گورنمنٹ سکول ہے، نہ ہی کوئی ڈسپنسری اور نہ ہی کوئی دوسری بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اور اوپر سے یہ دریائی کٹاؤ بہت جلد ہمیں بے گھر کر دے گا اگر اسے نہ روکا گیا، ہم لوگ غریب ہیں ان گھروں کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں ، اگر دریا ہمارے گھروں کو بھی بہا لے گیا تو ہم سب کھلے آسان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی ٹی 20 فیصل آباد! شیخ خالد زاہد

یہ کہنے کے بعد وہ شخص چپ ہوگیا اور کہا بھائی آپ ہماری آواز وزیر اعظم اور وزیر اعلی تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں کہ ہمیں بےگھر ہونے سے بچا لیں اور ہماری بنیادی سہولیات جو ہمارا حق ہے، وہ ہمیں مہیا کردیں، ورنہ ہماری آنے والی نسلیں دربدر ہوجائیں گی۔ گاؤں والے حکمرانوں سے اس چیز کی التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بے گھر ہونے سے بچایا جائے اور جس قدر جلد ممکن ہو دریا کے کنارے بند باندھا جائے۔ میں نے اسے یقین دہانی کروائی کہ میں اس بارے میں ضرور لکھوں گا تو اس کے چہرے پر کچھ خوشی کے آثار محسوس ہوئے۔ میری حکام بالا اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ ، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست ہے کہ اس گاؤں والوں کی اس مشکل کا فورا حل نکالیں، تاکہ اہلیان گاؤں بے گھر ہونے سے بچ سکیں، اور یہ آپ کی ذمہ داری اور فرض منصبی بھی ہے۔