’ہندوتوا‘ کے انتہاپسندوں کا مسلم نسل کش ایجنڈا - قادر خان یوسف زئی

مسلم امہ پر دنیا کے تقریباََ تمام ممالک میں ذی حیات کو مشکل تر مشکل تر بنایا جارہا ہے ۔ کئی ممالک میں مسلم امہ کے ساتھ نسلی امتیاز برتنے اور اسلام فوبیا کی وجہ سے مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کو قدرتی وسائل سب سے زیادہ فراہم کرنے والے مسلم اکثریتی ممالک خاموشی سے یہ سب تماشا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جن جن مسلم اکثریتی ممالک کی دولت کا بیشتر حصہ غیر مسلم ممالک کی معیشت کو سنبھالا دیئے ہوئے ہے وہ مسلم اکثریتی ممالک بھی اپنی سیاسی و تجارتی مفادات کی وجہ سے مسلم امہ کی بے کس ملت پر ہوتے ظلم و ستم پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ فلسطین کے بعد شام ، لبنان ، عراق ، صومالیہ ، یمن اور افغانستان میں تو معاشی طاقتوں نے مسلم اکثریتی ممالک کو آپس میں بدست و گریباں کرکے اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک و ظلم رچا جا رہا ہے اس پر بھی مسلم اکثریتی ممالک کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں کی شہریت ختم کرکے انہیں دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دینے کے بعد جو کچھ اُن کے ساتھ برما کی حکومت نے کیا وہ تاریخ میں سیاہ ترین دور شمار ہوتا ہے۔ روایتی رسمی بیانات کے علاوہ مسلم اکثریتی ممالک و انسانی حقوق کی چیمپئن ہونے کی دعوے دار عالمی برداری ’ برما‘ جیسے چھوٹے کمزور ملک کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکے۔ تاریخ کی بدترین مہاجرت کے بعد بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میں روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم اور خواتین عورتوں و بچیوں کے ساتھ جو عصمت دری کا کھیل کھیلا گیا اس نے پوری ملت اسلامیہ کا سر شرم سے جھکا دیا لیکن کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ ظالم کے ہاتھوں کو مزید ظلم سے روکیں۔

بنگلہ دیش، جو کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کی شناخت کے ساتھ وجود میں آیا تھا، نسلی عصیبت کی بنا پر پاکستان سے الگ ایک نسلی شناخت کے ساتھ دنیا میں نمودار ہوا اور دو قومی نظریے کے بجائے نسلی شناخت کو اہمیت دی۔ 1971میں بھارت کے رچائے سازشی منصوبے نے پاکستان کو دو لخت کردیا ۔ ان حالات میں مغربی پاکستان ، اسلامی جمہوریہ پاکستان بن گیا اور مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا ۔ لیکن تاریخ خود کو ہر صورت میں دوہراتی ہے ۔ بھارت جس نے مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی و عدم یک جہتی کا فایدہ اٹھایا تھا ۔ کھل کر مسلم کشی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہوچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے’ ہندو توا ‘کے نظریے پر آر ایس ایس نے عمل کیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جا رہی ہے اور مسلم امہ خاموشی سے اپنے تجارتی مفادات کے تحت بھارت کی ناراضگی سے غالباََ خائف نظر آتے ہیں۔یہاں تک کہ سلامتی کونسل کے طاقت ور ترین ممالک بھی بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد لانے اور ہندو انتہا پسندوں کو ظلم و نسل کشی سے روکنے میں مجرمانہ کردار ادا کررہا ہے۔ اقوام متحدہ و سلامتی کونسل صرف اُن ممالک کے مفادات کا خیال رکھتی ہے جن کے فنڈ سے اقوام متحدہ کا ادارہ چل رہا ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں ، کشمیری مظلوموں کی نسل کشی کے بعد اب بھارت نے اپنے ’ہندوتوا ‘کے ایجنڈے کو مزید وسعت دے دی ہے اور اس وقت ’ آسام‘ میں20لاکھ سے زاید مسلمانوں کو ملک بدری و شہری شناخت کا مسئلہ درپیش ہے۔ آسام میں بھارتی ریاست کے شہری مسلمانوں کی شناخت ہی ختم کردی گئی ہے اور اگلے مرحلے میں انہیں بھارت سے جبراََ بیدخل کئے جانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

بھارتی حکام نے گذشتہ برس غیر قانونی تارکین وطن کی جانچ پڑتال کے لیے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) جاری کیا تھا جس کے تحت تین کروڑ 30 لاکھ افراد کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ریاست کے رجسٹر کوآرڈینیٹر پرتیک حاجیلا نے کہا ہے کہ حتمی فہرست میں اب تین کروڑ 10 لاکھ افراد شامل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کردی گئی ہے۔شہریت منسوخ ہونے والے افراد کو ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے اور کیس کی شنوائی کے لیے 120 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ ان افراد کو ٹریبونل کے بعد اعلیٰ عدالت سے بھی رجوع کرنے کا حق دیا گیا ہے۔آر ایس ایس کے نظریئے کے مطابق بھارت میں صرف ہندئووں کو رہنے کا حق ہے اور جو بھارت میں رہنا چاہتا ہے تو وہ ہندو بن کر رہ سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح 8لاکھ کے قریب جارح افواج نے کشمیری نہتے عوام کو ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کرفیو و دفعہ 144کے نام پر گھروں میں اسیر کر رکھا ہے اور دنیا کے کسی ملک کے کان پر جوں بھی نہیں رینگ رہی ، اسی طرح آسام میں بھی بھارت نے 17اضافی سیکورٹی فورسز کو مختلف مقامات میں تعینات کرکے اقدامات کو مزید سخت کردیا ہے۔ واضح رہے کہ جب سے بھارتی جنتا پارٹی جو کہ آر ایس ایس کی ذیلی سیاسی شاخ ہے ، اقتدار میں آئی ہے ۔ اس کی پالیسیاں مسلم کشی و اسلام دشمنی میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ 2014میں 1951میں مرتب کردہ ریاستی شہریوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کے مرحلے میں نئی فہرست سے تقریباََ26لاکھ افراد کو نکال دیا گیا۔ آرایس ایس کے مطابق یہ لوگ بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں سے بھارت میں غیر قانونی طور پرآباد ہیں۔گذشتہ برس جولائی میں 40لاکھ افراد کے نام نئی فہرست میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ اب دوبارہ نئی فہرست سے 20لاکھ مسلمانوں کی بھارتی شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا ہے اور انہیں 120کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ 71سے پہلے کی شناخت کا ثبوت پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   لاک ڈائون اور کرفیو بدستور نافذ، ڈھیل جھوٹ ہے - عبدالرافع رسول

اس وقت مسلم اکثریتی علاقہ ہندو اکثریت علاقے میں بدل چکا ہے اور حکومت کی جاری کردہ فہرستوں کے مطابق مسلمان اقلیت میں آچکے ہیں۔ 2014 کے بعد پانچ برس کے عرصے میں خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا اور انہیں این آر سی اندارج سے محروم کردیا گیا ۔ جس سے کئی اضلاع میں مسلم اکثریت اب اقلیت میں شمار ہوتی ہے۔ آر ایس ایس کے سازشی ’ہندو توا ‘منصوبے کا اس بات اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رواں برس جنوری میں بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں نے بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کے ان تمام شہریوں کو بھارتی شہریت دینے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی، جو کم از کم چھ سال سے بھارت میں مقیم ہیں اور جن کا مذہب اسلام نہیں ہے۔ بھارتی ریاست آسام میں شہریت دینے کی متنازعہ قانون سازی کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ اس قانون کے مطابق مسلمانوں کے علاوہ باقی سب سکھ، عیسائی اور ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی۔ شمال مشرقی بھارتی ریاست آسام میں گزشتہ برس ایک رجسٹریشن دفتر بھی قائم کیا گیا تھا۔ ریاست میں مقیم33 ملین افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھارتی شہریت حاصل کرنے کے لیے ایسے ثبوت فراہم کریں کہ وہ 1971 سے قبل ریاست میں پہنچ کر مقیم ہوئے تھے۔

آسام میں رہنے والے 20لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اب اپنی شہری شناخت کا مسئلہ درپیش ہے اور ظاہر یہی ہورہا ہے کہ ایک نیا انسانی المیہ جنم لینے کی تیاری کررہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے آسام میں رہنے والے مسلمانوں سے خصوصی طور پر انٹرویوز کئے تو مسلمانوں نے اپنی شہری شناخت کے حوالے سے اپنی بقا و سلامتی پر سخت تحفظات و خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ آخر بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرکے انہیں جبراََ بھارت سے بیدخل کس طرح کرسکتا ہے۔ بھارت کی آر ایس ایس ریاست کا مفروضہ یہی ہے کہ 71میں بنگلہ دیش بننے کے بعد بڑے پیمانے پر آسام ہجرت کی تھی۔ 50 برسوں بعد آر ایس ایس کی حکومت بننے کے بعد اب جا کر ہندو توا نظریئے کی حامل جماعت کو خیال آیا ہے کہ بنگلہ دیش سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین بھارت آئے تھے۔ کیا آر ایس ایس نے بنگلہ دیش بنانے کے لئے جو سازشی منصوبے گھڑے و اُس پر عمل کئے تھے اس پر اقوام متحدہ نے کبھی کوئی ایکشن لیا کہ بھارت کی جانب سے قبول کرنے کے بعد کہ بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کا ہاتھ تھا ،۔ اب آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر ملک بدر کرنے کی جو سازش ومنصوبے پر عمل پیرا ہیں اس کو کون روکے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف کسی بھی عالمی فورم نے بھارت سے نہیں کہا کہ فوری طور پر ایک ماہ سے لگائے گئے کرفیو کو اٹھایا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق عمل کیا جائے ،، شملہ معاہدے کے مطابق ہی سہی مذاکرا ت کئے جائیں لیکن اقوام عالم کی بے حسی اب ایک نئے انسانی المیے اور سانحے کو جنم دی رہی ہے۔ اس وقت اگر اقوام عالم نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو مسلمانوں کی مسلم کشی جیسے منصوبوں سے پوری دنیا میں احتجاج و پُر تشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے جو بھارت کے مسلم کشی کے منصوبے کے ردعمل میں پیدا ہوں گے ۔ اس سے قبل کہ ایک اور انسانی المیہ جنم لے اور مسلمانوں کی لاکھوں کی آبادیوں کو بھارتی جارحیت کا سامنا ہو ، مسلم امہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائے ، یہود و نصاری کو دوست بنانے اور ان کے رنگ میں رنگ جانے سے اسلام و انسانیت کی کوئی خدمت نہیں ہورہی بلکہ اس سے مسلم کشی کرنے والے فاشٹ نظریات رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیل ہوتے موسم اور پاکستان - احمد علی قریشی

بنگلہ دیش نے پہلے ہی ان لاکھوں مسلمانوں کو اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ 1985میں آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹس کی تحریک کو حکومت سے معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا جس میں اس بات پر بھی دستخط کئے گئے کہ بنگلہ دیشی مہاجرین کو نکال دیا جائے گیا ۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے فیصلے کے بعد آرایس ایس کی ریاستی پالیسی کے نتیجے میں اب لاکھوں مسلمان بھارتی شہریت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ہزاروں مسلمانوں کو حراستی مراکز میں قید کیا جاتا ہے ۔ ان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ چار مہینے بعد لاکھوں مسلمانوں کو آسام سے کہاں بیدخل کیا جا ئے گا اس سے لاکھوں مسلمانوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ آسام میں رہنے والے مسلمان خود کو پیدائشی بھارتی شہری سمجھتے ہیں لیکن کم تعلیم و آگاہی نہ ہونے کے سبب دستاویزات میں کمی کے باعث دشواریوں کا سامنا ہے ۔کیا اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کے ادارے سمیت اقوام متحدہ و سلامتی کونسل نئے انسانی المیے پر قبل ازوقت ایکشن لیں گے یا پھر روہنگیائی ، فلسطین ، شام ، یمن ، افغانستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی طرح اس بڑے المیہ پر بھی خاموش رہیں گے ۔ زیراعظم نریندر مودی کی حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرکے اپنے جذبات کو سکون پہنچا رہی ہے۔ وہ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس قانونی مسودے کا غلط استعمال کررہی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کچھ عرصہ پہلے غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔امیت شاہ نے ان افراد کو دیمک قراردیا ہے لیکن اقوا م عالم نئے انسانی المیہ پر کیا کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔