کیا انسانی دانش آسمانی دانش سے برتر ہے؟ مجیب الحق حقی

آسمانی دانش کو انسانوں کے مسائل کے حل میں ناکام قرار دینا ایک سطحی اور غیر منطقی بات ہے کیونکہ پہلے آسمانی دانش کی تعریف تومتعیّن کی جائے۔ اگر آسمانی دانش سے صرف آسمانی کتابیں اور وحی مراد ہے تو یہ آسمانی دانش کی بہت ہی محدود تعریف ہوگی کیونکہ مذہب کا اصرار تو یہ ہے کہ کائنات بشمول انسان میں موجود ہر علم کا منبع آسمانی دانش ہے۔

مزید وضاحت اس امر کی اس طرح ہوگی کہ انسان کی دانش جو عقل کی مرہون منّت ہے وہ کسی بھی علم کی تخلیق کار نہیں ہے۔ انسانی دانش کی ستائش میں اسے درجہ اولیٰ دینے والے صرف یہ بتادیں کہ کائنات اور انسان کے اندر تہہ در تہہ علوم اپنی اپنی جگہ پر کیوں ہیں؟

سادہ سی بات یہ ہے کہ انسان اپنے حواس کے تئیں مشاہدات کرتا ہے اور عقل سے کسی مظہر میں موجود علم کو کشید کرتا ہے۔ اس تناظر میں یہاں صرف یہ سوال ہے کہ وہ علم وہاں پر موجود کیسے ہے؟ ایٹم کے اندر پارٹیکلز کے علوم کیا انسانی دانش نے تخلیق کیے؟ نہیں،، تو یہ کیسے موجود ہیں؟

ثابت یہی ہوا کہ انسانی دانش یعنی سائنس ایک عظیم تر دانش یعنی ایک سپر سائنس کی پیچیدگیوں کی کھوج میں رہتی ہے ، اس عمل میں حقیقتاً انسان علم دریافت کرتا ہے پیدا نہیں کرتا مگر جو علوم وہ پا جاتا ہے اسے اپنی عقل کی کامیابی گردان کر خود اس علم کا تخلیق کار بن بیٹھتا ہے۔

بہر حال یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کچھ لوگ آسمانی دانش کا ادراک نہیں کرپاتے بلکہ اس کو انسانی تصوّر کہتے ہیں،، اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ اس کے جواب میں آسمانی دانش سے انسان کی کشیدہ معلومات کا عقل کی روشنی میں ذکر دلچسپی سے خالی نہیں، ملاحظہ کریں:
ابھی تک کے ہمارے علم کے مطابق جاگتے میں ہمارے دماغ کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں یعنی الفا alpha ، بیٹا beta اور گاما gamma جبکہ سوتے میں ڈیلٹا delta اور تھیٹا theta ۔(واضح رہے یہ مظاہر یا فینامینا وہ سائنس ہیں جسے انسان نے نہیں بنایا) ، بیٹا نارمل حالت ہے جبکہ گاما دماغ کی زیادہ فعّال حالت ہوتی ہے جس میں روحانی اور مراقبے کے تجربات ہوتے ہیں۔ ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ہماری عقل اورشعور بھی غالباً ایسی ہی منزلیں رکھتے ہیں۔ یہ مفروضہ اس لیے منطقی ہے کہ شعور اور عقل بھی دماغ کے پراڈکٹ ہیں۔ گویا عام طور پر فرداً فرداً ہر انسان کا مجموعی شعور بیٹا موڈ میں حواس خمسہ اور عقل کے بموجب خالص مادیّت کے مدار میں ہی مقیم اور متحرّک ہوتا ہے۔۔ بیٹا موڈ میں انسان اپنی عقل کے تئیں محض حواس کے عدسے سے ہی اطراف کی مادّی دنیا کی جانچ کرتا ہے اور نتیجتاً حاصل معلومات یا علم کو ہی مکمل گردان کر خود کو مطمئن کر لیتا ہے۔ یہ بے شمار سوالات کے جواب جانے بغیر بھی اپنے تئیں مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کی سوچ کا مدارہی مادیّت میں معیّن ہوتا ہے۔ جیسا کہ اوپر درج سوال کہ علوم کسی جگہ کیوں موجود ہیں ؟ کا جواب ایک بیٹا استطاعت والا ذہن نہیں دے پائے گا بلکہ فلسفوں میں الجھ جائے گا۔ کیونکہ اس کے ذہن مین ایک بیرئر ہے جو اس کے مادّیت پر مبنی نظریے کے تئیں لگا ہے۔ یعنی انسان کا عقیدہ وہ محور ہے جس کے گرد اس کے خیالات گردش کرتے ہیں۔ اسی لیے آج کل کی دنیا میں انسانوں کی بڑی تعدادا پنے عقائد کی بنیاد پر خالص مادّیت کی سوچ اسی لئے رکھتے ہیں کہ ان عقائد نے سوچ کی وہ راہیں مسدود کردیں جو حقیقت آشنائی کی طرف لے جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ فہد اقبال - پانی اور وحی

جبکہ دوسری طرف وہ افراد جن کے شعور زیادہ فعّال ہوکر گاما موڈ میں مصروف کار ہوجاتے ہیں وہ زندگی اور کائنات کے بارے میں بہتر رائے کے حامل ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کے شعور اور سوچ کی وسعت ہوتی ہے جس میں مادّی اور روحی دونوں زاویوں سے انسان معاملات کو دیکھتا ہے۔ ہر شخص کسی بھی سوال کا اپنے شعور کی استعداد کے حوالے سے ہی جواب ڈھونڈ پاتا ہے انسان کا علم ، عقائد اور عبادات جب وحی کے طابع ہوتے ہیں تو شعور بیٹا سے گاما درجات کی طرف ترقّی کرتا ہے۔

جدید سائنس در حقیقت عظیم تر سائنس سے مستعار لیے وہ علوم ہیں جو عقل کے واسطے سے انسان تک پہنچے۔ انسانی دانش علم، عقل، شعورو زندگی کے منبع کو نہیں تلاش کرپائی بلکہ انسان کے اندر نیند کا سسٹم ہی اس کے لیے ایک مسٹری ہے تو آگے کیا کہیں۔ ہمارے نزدیک یہ ایک سپر سائنس کے مظاہر ہیں کہ شاید کبھی انسان انہیں جان بھی لے۔

اب یہ بات کہ انسانی مسائل کے حل میں آسمانی دانش ناکام ہوگئی ایک عام انسان کے لیے کہ جن کا وژن محدود ہے وزنی ہو سکتی ہے مگر جن کے علم میں وحی کی نسبت کشادگی ہے ان کے لیے ایک غیر منطقی بلکہ غیر عقلی ہوگی کیونکہ گہرائی میں اس بات کو ثابت کرنے کے حقیقی عقلی دلائل نہیں ہیں۔انسان آسمانی دانش کو سمجھنے اور اپنانے میں کیوں ناکام ہے اس کی وجوہات دوسری ہیں۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.