مرحوم عبدالقادر کی حیران کن یادیں- انصار عباسی

سابق کرکٹر عبدالقادر انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین! میں عبدالقادر سے کبھی ملا نہیں لیکن میری کبھی کبھار اُن سے بات ہو جاتی تھی۔ میرے دل میں اُن کے لیے بہت عزت اور احترام تھا اور اس کی وجہ ستمبر 2013ء میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس نے مجھے عبدالقادر سے بہت متاثر کیا۔ 9ستمبر 2013کو میں نے اس واقعہ کے بارے میں جنگ کے لیے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ’’عبدالقادر! مجھے آپ پر فخر ہے‘‘۔ قارئین کرام کی دلچسپی اور ایک عظیم شخص کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے میں اپنا کالم دوبارہ پیش کر رہا ہوں:

’’سابق کرکٹر اور اپنے وقت کے مایہ ناز بالر عبدالقادر کے بڑے بیٹے کو پنجاب پولیس نے اپنے ساتھیوں سمیت جوا کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا اور حوالات میں بند کر دیا۔ ایک ٹی وی چینل نے یہ خبر 6ستمبر کو چلائی۔ ملزمان سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ الزام جھوٹ اور سراسر جھوٹ ہے۔ جب کرکٹر عبدالقادر سے ٹی وی چینل نے بات کی تو جو میں نے سنا، وہ حیران کن تھا۔ عبدالقادر کو میں اُن کی کرکٹ کی وجہ سے ضرور پسند کرتا تھا مگر مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک بڑا آدمی اور قابلِ فخر مسلمان ہے۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے حق میں بات کرے گا، چاہے بیٹا جوئے میں ملوث ہی کیوں نہ ہو، اُس کی معصومیت اور صفائی کی قسمیں کھائے گا، اُس کو پولیس سے چھڑوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا مگر جو اس سابق کرکٹر نے کہا، وہ میرے لیے ایک خوشگوار حیرانی تھی۔ جب نیوز کاسٹر نے عبدالقادر سے بیٹے کی گرفتاری اور الزام کے بارے میں پوچھا تو عبدالقادر نے کہا ’’میں نے ساری زندگی دولت نہیں کمائی۔ میں نے زندگی میں اگر کچھ کمایا تو عزت کمائی۔

یہ جو واقعہ ہے، یہ میرے لیے دردناک، افسوسناک اور شرمناک ہے۔ میں عدالت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے بیٹے کو سخت سے سخت سزا دے‘‘۔ جب عبدالقادر سے اُن کے بیٹے پر جوئے کے الزامات کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی الزامات نہیں ہیں بلکہ سچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے کیے پر پردہ نہیں ڈالیں گے۔ اس موقع پر عبدالقادر نے حضور پاکﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’آپﷺ نے فرمایا کہ اگر آپﷺ کی اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی چوری کرتیں تو اُن کے لیے بھی وہی سزا تجویز کی جاتی جو کسی عام فرد کو دی جاتی‘‘۔ عبدالقادر نے کہا کہ حضورﷺ کی تعلیمات پر ہر مسلمان کو عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہم مسلمان اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کی طرفداری کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کی نفی کرتے ہیں جس سے ہمارے پورے معاشرے میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ عبدالقادر کا ردعمل ایک عام باپ، ایک عام دوست اور ایک عام مسلمان کا نہیں تھا بلکہ انہوں نے ایک اچھے اور باعمل مسلمان کا رویہ اپناتے ہوئے اپنے بیٹے کے خلاف ایک بار پھر گواہی دیتے ہوئے کہا ’’بالکل اس (بیٹے) نے یہ کام (جوا کھیلا) کیا ہے۔ اُس کو قانون کے تحت جو زیادہ سے زیادہ سزا دی جا سکتی ہے، ملنی چاہئے۔

ہم مسلمانوں کی اولاد ہیں، ہم رسول پاکﷺ کو ماننے والے ہیں، ہم نبی کریمﷺ کے امتی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان ساری باتوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ شیطانیت کے کام ہیں۔ جوا کھیلنا اور شراب پینا یہ سب کچھ اسلام میں منع ہے۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کی حرکتیں کریں‘‘۔ اس کے بعد عبدالقادر نے کہا کہ انہیں اُس وقت بہت تکلیف ہوئی جب ایک چیف جسٹس، جن کو اللہ نے بہت عزت سے نوازا، کے بیٹے کا اسکینڈل سامنے آیا۔ اسی قسم کی تکلیف کا ذکر انہوں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کیا اور پھر نوجوان نسل کو والدین کی اہمیت کے بارے میں قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیا اور انہیں تنبیہ کی کہ اولاد کو والدین کی عزت اور نیک نامی کا ذریعہ بننا چاہئے نہ کہ اُن کے لیے بدنامی کا سبب بنے۔ میں نے اسلام کی انصاف اور گواہی سے متعلق تعلیمات کو پڑھا اور کئی بار سنا۔ اللہ اور اُس کے نبیﷺ کی تعلیمات کے مطابق مسلمان کو گواہی دینے کا حکم ہے، چاہے جرم یا گناہ کرنے والا اُس کا اپنا بیٹا، باپ، بھائی وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، مگر عملی زندگی میں مجھے بڑے بڑوں نے مایوس کیا۔

جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو ہم مسلمان اکثر اپنی اولاد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں، دوستوں، خاندان اور قبیلے والوں کی غلطی، اُن کے گناہ اور اُن کے جرم پر پردہ ڈالتے ہیں، اُن پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں، مہنگے مہنگے وکیلوں کی مدد لیتے ہیں باوجود اس کے کہ یہ سب اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے، مجھے اپنی زندگی میں عبدالقادر جیسے بہت کم لوگوں سے واسطہ پڑا جو اپنی اولاد کے خلاف اس بے باکی سے گواہی دیں اور وہ اس لیے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور نبیﷺ کی سنت ہے۔ اس سابق کرکٹر نے تو ٹی وی چینل کے رابطہ کرنے پر اپنا ردعمل دیا مگر جو کچھ اللہ نے اُس کی زبان سے نکلوایا وہ ہمارے معاشرے اور ہم تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ عبدالقادر نے سچ کہا کہ اللہ کے حکم سے روگردانی کرکے ہم اپنوں کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں، اُنہیں معصوم ثابت کرنے کے جتن کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ خرابی کی ان موجودہ حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس سابق کرکٹر کو اس آزمائش پر اس مثالی انداز میں پورا اترنے پر میرا سلام۔ عبدالقادر مجھے آپ پر فخر ہے‘‘۔