چند اچھی کتابیں- ڈاکٹر عبدالقدیر خان

سیاست زوروں پر ہے۔ جیسا کہ میں نے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا وہ لوگ بھی بھارت پر ایٹم بم برسا رہے ہیں جن کو غلیل چلانا بھی نہیں آتی مگر زبان کے غازی ہیں۔

چلئے حکمرانوں اور سیاستدانوںکے ذمے ہم ملک کی حفاظت سونپتے ہیں اور آج چند دلچسپ، اچھی کتابوں پر تبصرہ کرتے ہیں۔

(1)سب سے پہلے آپ کی خدمت میں ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کی نہایت مفید کتاب ’’بچوں کے لئے اسلامی معلومات پر مبنی سبق آموز کہانیاں‘‘ کے بارے میں عرض کرتا ہوں۔ ڈاکٹر عارف کسانہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع ایک بڑے اعلیٰ اسپتال میں کام کرتے ہیں۔ میں نے 1964میں ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی ڈیلفٹ کے طلباء کے ساتھ ڈنمارک اور سویڈن کا دورہ کیا تھا اور ان ممالک کی یونیورسٹیوں اور صنعتی اداروں کا دورہ کیا تھا۔ یہ اسپتال اتنا بڑا تھا کہ اس کی بالکنیوں میں چھوٹی چھوٹی بائیسکل کھڑی رہتی تھیں اور اسٹاف ان پر بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا تھا۔ سویڈن سے خوبصورت اور صاف ستھرا ملک میں نے کہیں نہیں دیکھا تھا۔

وہاں ہم نے اعلیٰ اِسٹیل ملز، یونیورسٹیاں، بڑے مشہور صنعتی ادارے دیکھے۔ لوگ انگریزی بولتے تھے اور نہایت پرخلوص و محبت کرنے والے تھے۔ ہمیں جو کتاب سویڈن کے بارے میں دی گئی تھی اس میں بہت سے کارٹون تھے۔ ایک کارٹون میں ایک مرد اور ایک عورت جنگل میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے دکھائے تھے اور اس کے نیچے تحریر تھا کہ ’’سویڈن کے شہری قدرت کے مناظر کو بے حد پسند کرتے ہیں اور بے حد شرم و حیا کے شوقین ہیں‘‘۔

اب ڈاکٹر عارف کسانہ کی کتاب کے بارے میں چند معروضات پیش کرتا ہوں بلکہ بہتر یہی ہے کہ خود ڈاکٹر کسانہ کی زبانی اس کتاب کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

’’بچوں کے لئے میری دوسری کتاب ’’سبق آموز کہانیاں۔2‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کتاب میں دینِ اسلام کے بارے میں دلچسپ کہانیوں کی صورت میں بچوں کے سوالات کے جوابات ہیں۔ کہنے کو تو یہ کتاب بچوں کے لئے ہے لیکن حقیقت میں یہ کتاب والدین اور اساتذہ کرام کے لئے لکھی گئی ہے۔ عام لوگ بھی اسے اپنے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کے لئے مفید پائیں گے۔ یہ کہانیاں قرآنِ حکیم اور سیرتِ رسولِ اکرمﷺ کی روشنی میں لکھی گئی ہیں تاکہ بچوں کی دینی تعلیمات کی روشنی میں تعلیم و تربیت ہوسکے۔ اسلام کے بارے میں بچوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جوابات بھی قرآن اور اسوۂ حسنہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے دلچسپ اور معلوماتی انداز میں دیئے گئے ہیں۔ اس سے قبل بچوں کے لئے میری پہلی کتاب ’’سبق آموز کہانیاں‘‘ جب شائع ہوئی تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتاب اس قدر مقبول ہوگی کہ اردو کے بعد اور بہت سی زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ دنیا بھر میں اس کوشش کو سراہا گیا اور ’’سبق آموز کہانیاں‘‘ کی سویڈن، ناروے، جاپان، چین، ڈنمارک، بلجیم، ہالینڈ اور جرمنی میں تقاریبِ رونمائی منعقد ہوئیں اور اسے بہت پذیرائی ملی‘‘۔

ڈاکٹر عارف کسانہ نے اس اہم معلوماتی کتاب میں مندرجہ ذیل مضامین شامل کئے ہیں:(1)بچوں کے حضورؐ (2)آدمؑ اور فرشتوں کی کہانی (3)عبادت کا کیا مطلب ہے (4)روزے کیوں فرض کئے گئے (5)رسول ﷺکی ولادت، کائنات کیلئے رحمت (6)کونسی چیزیں کھانی پینی نہیں چاہئیں (7)دوسروں سے حسن سلوک (8)اسلام میں جانوروں کے حقوق (9)جنت میں کونسے لوگ جائینگے (10)قرآن اپنے بارے میں کیا کہتا ہے (11)کیا جہاد کا مطلب غیرمسلموں کو قتل کرنا ہے (12)سائنسی ترقی میں مسلمان سائنسدانوں کا کردار (13)ماحولیات کے بارے میں اسلامی تعلیمات (14)مسلمان ترقی میں دوسری قوموں سے کیوں پیچھے ہیں (15)غوروفکر اور علم حاصل کرنا (16) مستقل اقدار (17)اسلامی تہذیب و تربیت (18)سرسید احمد خان کون تھے؟ (19)بچوں کا اقبالؒ (20)کامیاب زندگی کے اصول۔

یہ کتاب بچوں کے لئے نہایت مفید اور اہم ہے اور والدین کو چاہئے کہ وہ بھی اس کا مطالعہ کریں تاکہ بچوں کو صحیح علم دے سکیں۔ اس کتاب کو ملک کے مایہ ناز ادیب و مصنف جناب ڈاکٹر انعام الحق کی سرپرستی میں شائع کیا گیا ہے۔

(2)دوسری بہت ہی اچھی کتاب محترمہ پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت کی تحریر کردہ ’’لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنادیا‘‘ ہے جو کراچی سےشائع ہوئی ہے۔ کتاب کا عنوان جگرؔ مراد آبادی کے اس مشہور شعر سے منسوب ہے۔

لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا

جس دل کو تم نے دیکھ لیا، دل بنا دیا

پروفیسر ثروت سلطانہ سے میرا بہت قریبی پُرخلوص رشتہ ہے یہ بھی میری طرح جنت مقام بھوپال کی ہیں اور ان کے عزیز و اقارب سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔ ان کے ایک عزیز میرے اردو کے استاد تھے دوسرے عزیز ڈاکٹر عارف قریشی وہاں انجینئرنگ کے پروفیسر تھے اور تیسرے عزیز، عزیز قریشی اردو اکیڈمی بھوپال کے صدر تھے، صوبائی وزیر بھی تھے اور بعد میں شمالی ہندوستانی صوبہ (نینی تال، شملہ وغیرہ) کے گورنر تھے۔ عارف قریشی اور عزیز قریشی میرے بڑے بھائی مرحوم عبدالحفیظ خان کے بہت پیارے دوست تھے۔

پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت نے تقریباً تین درجن اعلیٰ کتب تحریر کی ہیں جن میں نعتیہ کلام، غزلیں، نظمیں، افسانے، قطعات، قومی ملّی نغمات شامل ہیں۔ آپ کی کتابیں اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ آپ نہ صرف اردو ادب میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ نہایت لذیذ بھوپالی کھانے پکانے میں بھی ماہر ہیں۔ موسم سرما میں ان کے تیار کردہ پائے اپنا جواب نہیں رکھتے انگلیاں ایک دوسرے سے چپکنے لگتی ہیں۔ میں نے ان کی مشہور کتاب ضرب المثل اشعار پر بھی تبصرہ لکھا تھا جو انھوں نے اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس تبصرے میں ان کو میں نے نواب مرزا خان داغؔ کے الفاظ میں یہ دُعا دی تھی۔

خط ان کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی