نقاب ہٹاؤ چہروں سے! - سائرہ نعیم

چھن چھن کرتے قدم، گھونگرو کی تال ایسے جیسے زیور قہقہے لگا رہے ہوں۔ دبی سی ہنسی کی آواز کے ساتھ عطر کی تیز خوشبو بکھیرتا ایک قافلہ رواں تھا۔ زبان حال سے وہ ہر ذی نفس کو دعوت نظارہ و آس مِلن دیتا۔ جذبات بھڑکانے، جلوے دکھانے اور چت گرانے کی خواہش لیے چلے جارہا تھا۔ گرچہ قافلے کی نازنینوں کا پورا وجود پردے کی قید میں تھا۔ حتیٰ کہ چہرے پر بھی فرصت سے سنورے نین، جن پر پہرہ دیتی تیر کمان سی بھنوئیں ہی نظر آتی تھیں۔ لیکن یہ نظارہ بھی دلکش تھا۔

مدینے کی گلیوں کو معطر کرتا چند نفوس پر مشتمل یہ قافلہ، جب گلی کی نکڑ پر پہنچ کر دوسری جانب مڑنے کو تھا کہ ایک بارعب مردانہ آواز لہراتی ہوئی کان کے پردوں سے ٹکرائی ”رکو!“، چھنچھناتے قدم یک لخت رک گئے۔ سانسیں تھم گئیں۔ ”نقاب ہٹاؤ چہروں سے!“ گرج دار آواز میں حکم ہوا۔ ”وہ۔۔ وہ ہم۔۔“ پردے کے پیچھے سے سنورے ہوئے ہونٹ ہلے یوں جیسے وہ منمنائے ہوں۔ سازندے بھی دم بخود تھے۔ آواز رکی ہی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ سمجھ گئے۔ کوڑا فضا میں لہراتے ہوئے پوچھا: ”تم لوگوں نے کب سے محسنات (محفوظ خواتین) کی طرح حجاب کرنا شروع کردیا؟“۔ لب سلے رہے۔ پھر آوازہ گونجا: ”یہ شریفوں کا لباس ہے جو تمھارے پیشے سے جڑے لوگوں کے لیے ناموزوں ہے۔ آئندہ اس کا اہتمام نہ کرنا۔“ اس دن کے بعد سے عام بازاری خواتین اور خاندانی شریف زادیوں کی معاشرے میں ایک واضح پہچان بن گئی، خصوصاً چہرے کا حجاب عظمت و توقیر کا استعارہ سمجھا جانے لگا۔

نجانے کیوں آج کے دانشور خواتین و حضرات، مستورات کے حجاب پر عجیب و غریب بحثوں، فضول کے سوالوں میں پڑے رہتے ہیں۔ انھوں نے حجاب کی اس ترتیب کو ہی الٹ دیا۔ ان کو قرآن کی آیت ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمھاری عورتیں گھر سے نکلتے وقت اپنی چادر کے پلو سر اور سینے پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اور اللہ غفور و رحیم ہے۔“ (سورہ احزاب ۵۹) جن کو اس کے معنی و مفہوم سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے، یقیناً وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ حالاں کہ تعصب اور بغض کے تالے کھول کر سوچیں تو خواتین کے لیے کتنا واضح حفاظتی پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

زمانہِ جاہلیت میں انسان بے لباس تھا پر بےحیا نہ تھا۔ کبھی درخت کے پتوں سے کبھی چھال سے جسم چھپانے کا اہتمام کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ تہذیب کے مراحل طے کرتے ہوئے لباس زیب تن کیا، پھر اس میں زینت و جدت آنے لگی اور آج تک یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ فی زمانہ بے حجابی اور بے لباسی کا فروغ اور اس پر فخر کرنا ہمیں تنزلی، بدتہذیبی اور جہالت کی اتھاہ گہرائی میں دھکیلتا جارہا ہے، اور ہم اسے ترقی و روشن خیالی سمجھتے ہوئے گرتے ہی چلے جارہے ہیں۔