اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

سنا ہے جب اکہتر کی جنگ میں نانا چھ سال کے لیے بنگال میں جنگی قیدی رہے تو پیچھے والوں پر قیامت کم نہیں گری تھی۔ منتوں مرادوں سے مانگے گئے خاندان کے بڑے بیٹے تھے، گویا کہ ساری ذمہ داری انھی کے کندھوں پر تھی، ان کی ماں غم سے جو نڈھال وہ الگ اور جو نانی دنیا کے ہاتھوں دربدر ہوئیں وہ الگ۔ وہ تو اسی غم سے وفات پا گئیں۔ جب سر پر کوئی سائیں نہ ہو تو یہ دربدری قسمت بن جاتی ہے۔

لوٹ کر آنے کی امید تو الگ زندہ بچنے کی امید بھی کہیں دم توڑ چکی تھی۔ میری ماں نے چھ سال تک اپنے باپ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ اسے نہیں پتا تھا اس کا باپ کیسا دکھتا ہے اور چھ سال بعد جب باپ لوٹا تو اسے نہیں پتا تھا ان بچوں میں جو اس کے گرد جمع ہیں میری بیٹی کون سی ہے۔ چھ سال بعد جب وہ لوٹا تو وہ اپنے ملک پر خود کو ہی نہیں اپنے خاندان کو بھی قربان کر چکا تھا۔ یہ تو ایک گھر کی کہانی ہے۔ ابھی تو لاکھوں ایسی کہانیاں منتظر ہیں کسی نظر کرم کی۔ شہادت ملی تو سر آنکھوں پر، جان ہی تو گئی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں جب وہ ساری زندگی دے کر غازی بن کر آتے ہیں تو ان میں ہمت ہوتی ہے، سارا خون نچوڑ کر وہ وطن پر قربان کر دیتے ہیں، باقی پیچھے تو صرف ماس کا ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ نانا کے آخری الفاظ جو ان کی ڈائری سے ملے تھے، آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں


ہم نے جلا کے خون دل و رشتہ حیات

رخ پر ہوائے تند کے روشن کیے چراغ


ہماری فوج پاکستان کا دایاں بازو ہے، ملکی سلامتی کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ جس کے جوانوں نے دھرتی ماں کی خفاظت کےلیے نہ صرف بے پناہ کوششیں کی ہیں بلکہ اس کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستانیوں کو اپنی کچھ بےوقوفیوں کے بعد اگر کسی سے پیار ہے تو وہ فوج ہے۔ مجال جو یہ قوم کسی بات پر اکٹھی ہو، آدھی ادھر اور آدھی ادھر ہی رہے گی، مگر جب فوج کی باری آئے تو آپ فوج کے خلاف کچھ کہہ کر جاتے کدھر ہیں، سب آپ کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں گے۔ ہمیں نہ صرف اپنی فوج سے پیار ہے بلکہ ان کی قربانیوں کا بھی احساس ہے۔ ہر پاکستانی تہہ دل سے افواج پاکستان کا شکر گزار ہے جو پاکستان کی اور ہماری حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور دہشت گردی کے دور میں جہاں اس قدر دہشت کا سماں رہا، فوج نے جس بہادری اور ہمت سے ان حالات کو چیلنج کیا اور دہشت گردوں کا مقابلہ جس جذبے سے کیا، اسی کی وجہ سے آج ہم امن و امان سے ہیں، جس قدر فوج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں وہ قابل فخر ہیں۔ یہ شہداء کا خون ہی ہے جس کے دم سے یہ ملک سلامت ہے اور یہ قوم سلامت ہے۔ انہی شہداء کی وجہ سے یہ وطن قائم و دائم جو اپنی جان و مال گھر بار سب کچھ خدا کے آسرے پر چھوڑ کر وطن کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سب کچھ وطن کی نظر کر دیتے ہیں۔ یہ وطن سلامت ہے تو ہم سلامت ہیں۔ اسی سے ہماری آن ہے اور یہی ہماری پہچان ہے۔ یہ آن بان سب ان قربانیوں کا نتیجہ ہے اور زندہ قومیں کبھی اپنے محسنوں کو بھولا نہیں کرتیں۔ وہ ہمیشہ نہ صرف دلوں میں بلکہ تاریخ کے ہر باب میں زندہ ہیں اور ان کی قربانیوں کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   انصاف کا, ایک تلخ حقیقت - امیر حمزہ

خدا نے اس قوم میں بہادری کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ اس دھرتی کی ماؤں نے بے شمار بہارد سپوتوں کو جنا ہے جن پر پوری قوم فخر کرتی ہے اور رہتی دنیا تک کرتی رہے گی۔ ہماری فوج ہمارا مان ہے، ہمارا فخر ہے۔ ہم اگر اپنے گھروں میں چین و سلامتی سے موجود ہیں اور میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہیں تو یہ سب اسی فوج کی بدولت ہے۔ جس کے جوان باڈر پر سب گھر والوں اور پیاروں سے دور رہ کر اس کی خفاظت کرتے ہیں اور ایسے میں اگر جان سے جانا پڑے تو فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کےلیے کچھ کہنے لگو تو الفاظ کم پڑ جائیں، بس اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے۔

ہماری فوج نے کٹھن سے کٹھن حالات کا سامنا جس بہادری سے کیا ہے ایسا صرف ہمارے جوان ہی کرسکتے ہیں جو پیدا ہی وطن پر قربان ہونے کےلیے ہوتے ہیں۔ اور ہماری، مائیں ہماری بیٹیاں بھی کم بہادر نہیں ہیں جو اپنے بیٹوں کو، باپوں کو اور شوہروں کو دھرتی پر قربان کر کے فخر محسوس کرتی ہیں اور کہتی ہیں اگر ہمارے پاس کچھ اور بھی ہوتا تو قربان کر دیتیں۔ مگر آپ کیا سمجھتے یہ آسان ہے؟ بالکل بھی نہیں، بڑے حوصلہ کا کام ہے اور ایسا حوصلہ خدا نے صرف اسی قوم کو دیا ہے۔ وطن پر قربان ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں مگر اعزاز کبھی کبھی ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیتا ہے۔ ادھر بھوک مٹانے کو روٹی اور تن ڈھانپنے کو کپڑے نہیں مل رہے ہوتے اور اگر آنسو نکل آئیں تو اماں ایک لگا کر کہے گی اوئے تو شہید کی اولاد ہو کر رو رہا ہے۔ جب دوسروں کے بچے عید کےلیے نئے کپڑے بنوائیں اور آپ نے وہی پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور اگر شکایت کریں تو سننے کو ملے ابھی صبر کر، پھر دیکھنا تو جھنڈا اوڑھے گا۔ ایسے جذبے رکھنے والی قوم کے ماں باپ کیلئے یہاں کیا خراج ہوگا جو سارے بیٹے دھرتی ماں پر قربان کرکے بھی کہیں اگر اور ہوتے تو وہ بھی کر دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

ہمیں اپنے شہدا کے ورثا کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ وہ آسان زندگی نہیں گزارتے ہمیں ان کو ہر طرح سے سپورٹ کرنا چاہیے جن کے اپنے ہماری خاطر ان سے بچھڑ گئے۔ جہاں ہم پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں ایسے ہی ہم کشمیر کے جوانوں کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کر سکتے۔ جس طرح سے کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا ہے، خدا کرے یہ تحریک بڑھتی جائے اور پوری دینا تک پھیل جائے۔ اللہ کے فضل سے وہ دن بھی دور نہیں جب کشمیر قید کی زنجیروں سے آزاد کھلی فضا میں سانس لے گا۔ اور آخری اور لازمی بات جو ہمیشہ یاد رکھنا ضروری ہے، دراصل ہم تھوڑے جذباتی ہیں تو باتوں میں آ جاتے ہیں۔ ہاں تو جیسا کہ اللہ اللہ کرکے کہ لاکھوں معصوم لوگوں اور فوج کی بےشمار قربانیوں کے بعد ملک میں امن قائم ہوا ہے۔ اب اس امن کو قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، اور فساد کا باعث بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا ہے۔ فرقہ بندیوں سے خود کو دور رکھنا ہے۔ اپنی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی رائے کا بھی احترام کرنا ہے۔ کسی بھی بڑے عمل کو کسی کے بھی کہنے پر انجام دینے سے پہلے اس کی سچائی کا علم لگانا ہے۔ یہ باتیں صرف کان کے اوپر سے نہیں گزارنی بلکہ عمل بھی کرنا ہے۔ ٹھیک ہے؟ اور خدارا اب جذبات سے نکل کر تھوڑے سمجھ دار بھی ہو جائیں اور آپس کی لڑائیوں میں مت بچوں کی طرح الجھا کریں، صرف اس لیے کہ دوسرے کی رائے مختلف ہے۔