کراچی، وسائل سے مسائل کا شہر کیوں بنا؟ شیخ خالد زاہد

کراچی کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت سندھ کی زیادہ ہے جبکہ جزوی طور پر یہ ذمہ داری بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ جب وزیر بلدیات، بلدیاتی اداروں کے ساتھ باہمی ربط قائم نہیں کریں گے، کیا ہو رہا ہے؟ کیسے ہو رہا ہے؟ اور کام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی زحمت نہیں کریں گے تو پھر ذمہ دار تو گھر کا بڑا ہی ہوتا ہے۔ عمومی رائے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد سے کراچی والوں کو ان کے اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت تو کبھی بھی کراچی کے ساتھ اپنی نیک نیتی کا ثبوت نہیں دے سکی۔

جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جو کراچی میں پہلے بھی اور اب بھی اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہے، لیکن ایسا کیوں لگتا ہے کہ جماعت اسلامی نے کبھی بھی مکمل حمایت کے لیے کراچی والوں کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا یا بڑھایا تو کچھ ایسا تاثر رہا ہے کہ کراچی والے کھلے دل سے حمایت کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ (وجوہات کسی اور مضمون میں پیش کریں گے) یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی مخصوص معاملات میں منظر عام پر رہتی ہے اور عملی کام میں کہیں دکھائی نہیں دیتی (شاید اس کی وجہ اختیارات نہ ہونا بھی ہوسکتا ہے)۔ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کراچی کو متحدہ قومی موومنٹ کے اٹوٹ سحر سے باہر نکالا (قانون نافذ کرنے والوں کا اپنا کردار ہمیشہ سے رہا ہے)، گو کہ ابھی بھی کراچی کی اکثریت متحدہ کو ہی کراچی کی نمائندہ جماعت سمجھتی ہے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے ان ہی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کراچی والوں کے ووٹوں کا احترام کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں حصہ دار بنایا اور کراچی کو واپس روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے ہر ممکن ساتھ دیتے رہنے کا عزم کیاہوا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت قومی اسمبلی میں کراچی سے منتخب ہونے والے علی زیدی صاحب کی چلو کراچی صاف کریں مہم ہے۔ یہ علی زیدی صاحب کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ شہر کراچی شدید اور طویل بارشوں کا دورانیہ برداشت کر گیا۔ اگر نالوں کی اور جگہ جگہ سے کچرا نہیں اٹھایا گیا ہوتا تو سب خوب جانتے ہیں کیا ہوتا۔

آج بھی کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ کماؤ پوت شہر ہے،گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور گاؤں دیہاتوں سے لوگوں نے کراچی میں روزگار کے لیے ہجرت کی ہے جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی اچانک دوگنی تگنی ہوگئی۔ ہجرت کرنے والوں کو جس چیز نے اپنی طرف راغب کیا وہ کراچی میں روز گار کے وسائل ہیں۔ یہ بات بھی اب سب جان چکے ہیں کہ کراچی ایک غریب پرور شہر ہے، یہاں سڑک کنارے یا کسی پارک میں سونے والا بھوکا اٹھے گا ضرور لیکن بھوکا سوئے گا نہیں۔گزشتہ کراچی کے اخبارات میں شہ سرخیاں لگیں، وہ کراچی والوں کے دل پر کسی تیز دھار آلے کی طرح چلیں یقینا محب وطن تمام پاکستانیوں کیلئے بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی ہوں گی کہ کراچی بہترین شہروں کی فہرست سے نکل کر بد ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہوگیا۔

ایک وقت تھا جب کراچی کے منتخب نمائندے، کراچی کی گلی، محلوں، سڑکوں اور یہاں تک کہ نکاسی آب کے نظام کو خود درست کرتے دکھائی دیتے تھے۔ آج کراچی کسی یتیم مسکین کی طرح اپنی مدد کےلیے ادھر ادھر دیکھ رہا ہے، کراچی کی آواز گم ہوچکی ہے اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کراچی مختلف قسم کی مافیاؤں کی زد میں ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ان مافیاؤں کی زد میں دیا کس نے؟ آخر پاکستان کا سب زیادہ وسائل پیدا کرنے والا شہر مسائل کی سولی ایک رات میں تو نہیں چڑھ گیا۔ آج کراچی حسرت بھری نظروں سے خاموشی سے اپنی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوں کو تکتا رہتا ہے، جگہ جگہ پانی کہ جوہڑ وں میں مچھر مکھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ارباب اختیار سے ایک ادنی سی گزارش ہے کہ حکومت سندھ اور بلدیاتی ادارے علاقائی سطح پر، ہر علاقے میں مخیر و معتبر خواتین و حضرات پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں، ان کمیٹیوں میں علاقے کے تھانے کو بھی تنبیہ کی جائے کہ وہ کمیٹی کی ہر ممکن قانونی معاونت کرے، انہیں اس بات کی ضمانت دی جائے کہ کوئی ان سے کسی قسم کی رشوت یا بدعنوانی کے لیے نہیں کہے گا۔ بلدیاتی ادارے اپنی ہر قسم کی افرادی و مشینی مدد فراہم کریں گے، بلدیاتی افسران کچرے کو تلف کرنے کی جگہ اور پہنچانے کے لیے بروقت گاڑیاں فراہم کریں گے۔ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے جس میں اس طرح کی کمیٹیاں مسجدوں کی سطح پر بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ وسائل سے فائدہ اٹھانے والوں کی تو کمی نہیں ہے لیکن مسائل سے جان چھڑانے والے علی زیدی اور ان جیسے دیگر خاموش سپاہی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ کہنے کو تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ آئیں کراچی کو اپنائیں لیکن مذکورہ کمیٹیاں عملی شکل میں میدان عمل میں آگئیں تو سمجھ لیں کہ کراچی کو اپنانے والے اپنے گھروں سے نکل آئیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com