تبدیل ہوتے موسم اور پاکستان - احمد علی قریشی

گزشتہ چند برسوں سے پوری دنیا کے موسموں میں حیرت انگیز طور پر تبدیلیاں رونما ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ 1850 سے 1900 کے دورمیں صعنتی ترقی کے شعبے نے بے مثال نت نئی ایجادات و اشیاء تیار کرکے پوری دنیا کے عوام کو ورطہ حیرت میں ممبتلا کردیا۔ اسی صعنتی ترقی کے دور میں یورپ روس امریکہ جاپان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے رہے۔ مقابلے کے اس رجحان نے جہاں دنیا کو بےشمار فوائد، سہولیات، تیز ترین ذرائع آمدورفت اور روزگار سے نوازا، وہیں ایک بنیادی مسئلہ ان صنعتوں و کارخانوں سے نکلنے والی زہریلی گیسوں کے اخراج کا بھی پیدا ہواجوکہ تاحال جاری ہے۔ ان صعنتوں سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے فضائی و ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق بیسوی صدی سے اب تک زمین کے درجہ حرارت میں 1 سینٹی گریڈ ڈگری تک کا اضافہ ہوا ہے۔ سمندروں میں چلتے بحیری جہاز فضاؤں میں اُڑتے ہوائی جہاز اورملکوں شہروں میں چلتی گاڑیاں اوران سے نکلنے والا خطرناک دھواں فضائی آلودگی اوردرجہ حرارت میں اضافے کا موجد ہے۔

دنیا کے ارد گرد اللہ تعالیٰ نے ایک حفاظتی اوزون کی تہہ بنائی ہوئی ہے جو سورج کی تیز تابکاری شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اگر اوزون کی تہہ نہ ہوتو یہ تابکاری شعاعیں براہِ راست زمین پر پڑنے سے جانداروں جنگلات اور انسانوں کی زندگیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ سائنس دانوں کی تحقیقات کے مطابق اس اورون کی حفاظتی تہہ میں فضائی آلودگی کے باعث شگاف پڑ چکا ہے۔ یہ ہی محرکات واسباب ہیں کہ پوری دنیا کو موسمی تبدیلیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ادارے آئی پی سی سی کے مطابق اگرعالمی برادری نے درجہ حرارت میں اضافے کو محدود رکھنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو سمندروں کی سطح مزید بلند ہوجائے گی جس کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہوجائیں گے۔ علاوہ ازیں سخت گرمی قحط اور شدید بارشوں کا مسئلہ بھی درپیش رہے گا۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر عالمی حدت آج کی شرح سے یوں ہی جاری رہی تو دنیا کا درجہ حرارت اس صدی کے آخر تک 5۔3 سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وکیل آئے ہیں - مریم حسن

یہ تلخ حقائق ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ فی الوقت پوری دنیا میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے موسم گرما کا دورانیہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ رواں برس یورپ میں گرمی کے گزشتہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ جرمنی، فرانس، اسپین، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ میں رواں سال جون 2019 میں شدید گرمی پڑی۔ درجہ حرارت خلاف معمول 40 ڈگری تک جا پہنچا۔ اہل یورپ اس حیرت انگیز موسمی تبدیلی سے سخت پریشان وحیران دکھائی دیتے ہیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے باعث انٹارکیٹکا اور دیگر بڑے گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل پہلے کی نسبت زیادہ تیز ہوچکا ہے۔ سمندروں کی سطح تیزی سے بلند ہوتی چلی جارہی ہے جس کے سبب جزیرہ نما ممالک ملائیشیا، انڈونیشا، سری لنکا اور جاپان کے عوام کو مستقبل قریب میں خطرات مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انڈونیشا کا دارالحکومت جکارتہ تیزی سے ڈوبنے والے شہروں میں سرفہرست ہے۔ جکارتہ کا شمالی حصہ 25 سینٹی میٹر فی سال کی رفتار سے ڈوب رہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی ممالک اس موسمی تبدیلیوں سے بچاؤ کےلیے موثر حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔

زمین کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں درخت جنگلات ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتے ہیں۔ درخت فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسوں کے منفی اثرات کو ختم کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔ یورپ میں شجرکاری مہم پر خصوصی توجہ مرکوز ہے، نیز اب یورپ اوردیگر ممالک ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے بجائے بیٹری و بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا استعمال کررہے ہیں نیز وہ قومیں آنے والے خطرات و چیلنجز سے بخوبی آگاہ اوراُن سے نبٹنے کے لیے کوشاں تیار و پرعزم دکھائی دیتی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی موسمی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں موسم گرما دن بدن شدید اور طویل ترین ہوتاچلاجارہا ہے، نیز موسم برسات میں بارشیں معمول سے بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ یہ موسمی تبدیلیاں ہماری زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں۔ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ڈیمز تعمیرکرنے پر سابقہ حکومتوں نے کوئی خاص توجہ مرکوز نہیں کی، نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فقط 30 دن جبکہ بھارت کی 120 دن ہے۔ دوسری جانب بھارت نے پاکستان کے دریاؤں پر بھی متنازع ڈیمز بنانے شروع کردیے ہیں۔ بھارت جب چاہے بغیر اطلاع کے اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کو مصنوعی سیلاب کی آفت میں ممبتلا کر سکتا ہے جس کا عملی مظاہرہ گزشتہ دنوں اُس نے کیا تھا جس کے باعث پاکستان کے متعدد دیہات زیر آب آگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک - میر افسر امان

وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ حالات کی پیچیدگی و نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مستقبل کی موثر منصوبہ بندی فوری طورترتیب پر دینی ہوگی۔ ہم اگر زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کرسکتے تو کم ازکم جنگلات کی کٹائی میں ملوث مافیا کے خلاف توقانونی کارروائی کرسکتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومتِ وقت شجرکاری مہم نئے پودے لگانے کے پروگرام پر ہنگامی بنیادوں پر موثر کام کرے۔ مہمند ڈیم پر کام کا آغاز ہوچکا ہے، زراعت کی بہتری اورملک کی خوشحالی کے لیے مزید چھوٹے بڑے ڈیمز قلیل مدت میں تعمیر کیے جائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں موسمی تبدیلیوں سیلاب و قحط اور پانی کی قلت جیسے مصائب و مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔