میڈیا بازاری بن گیا ہے - حبیب الرحمن

اظہار رائے پر پابندی پاکستان میں کب نہیں رہی۔ اب تو سر کے بالوں میں چاندی ہی نہیں اتر آئی بلکہ جسم کے سارے بال ہی پک گئے ہیں۔ ایک ایسا فرد جو چھیاسٹھیا بھی گیا ہو اسے پاکستان میں آنے جانے والی حکومتوں کی تاریخ کا کیونکر علم نہیں ہوگا۔ اس ساری مدت میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں دیکھنے میں آیا جب لوگوں کے لبوں پر تالے لگے ہوئے نہیں دیکھے۔ اتنی کڑی پابندیوں کے باوجود بھی کوئی چہرہ اگر پھر بھی بول اٹھتا تھا تو وہ پہچانے جانے کے قابل ہی نہیں رہتا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جس میں نہ کوئی ادیب بچا، نہ کوئی شاعر، نہ کالم نگار نہ ڈرامہ نگار، نہ سیاسی رہنما اور نہ ہی مذہبی اسکالر۔ جو بھی بولا وہ نہ صرف دھرلیا جاتا تھا بلکہ ایسے بد زبان اور بد لحاظ کو دوسرے جہان کی سیر کرانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا تھا۔ خبریں اس بری طرح سنسر کی جاتی تھیں کہ اخبارات و رسائل پر قینچیاں ہی قینچیاں بنی نظر آتی تھیں اور اخبارات کے مالکان اور ذمے داران کو پس دیوار زنداں ڈالدیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ زمانہ پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا اس لئے یا تو ایسے سارے اخبارات جو حکومتی تشدد کے آگے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہ ہوتے انھیں قینچیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور جو مصلحت وقت کا شکار ہوکر جبر کے سامنے جھک جایا کرتے تھے ان کی چاندی ہوجاتی تھی اور ان کے منھ بند کرنے کے لیے ان کے پیٹوں میں سرکاری اشتہارات بھر دیے جاتے تھے۔ ان تمام باتوں کے باوجود بھی حق پر ڈٹ جانے والوں کے پائے استقامت پر کوئی لرزش تک نہیں آتی تھی۔ زمانے اور حالات کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلتا گیا اور میڈیا اخبارات سے نکل کر الیکٹرونک چینلوں تک جا پہنچا۔ ایسے سارے چینل، بد قسمتی کہیے یا ہماری سادگی، ہم انھیں آزاد چینل خیال کرتے رہے اور ایسا ہی عوام الناس کو سمجھایا بھی گیا لیکن معلوم ہوا کہ یہ تو پرانے دور سے بھی زیادہ پابند اور پیسوں کے غلام ثابت ہوئے۔

ایک زمانہ تھا کہ صحافی صرف صحافی ہی ہوا کرتا تھا اور وہ ہوتا بھی صحافی ہی تھا لیکن الیکٹرونک میڈیا ایسی عورت ثابت ہورہا ہے جس کے ساتھ لوگ "بازاری" بھی لگانے لگے ہیں۔ اس میں جو لوگ اپنے آپ کو صحافی کہلواتے ہیں ان میں سے اکثریت صحا فت کے "ص" سے بھی واقف نہیں اور جن کا مضمون صحافت ہوا کرتا تھا ان میں سے ایک کثیر تعدا "بازاری" ہو چکی ہے۔ ایسے سب نام نہاد صحافی پیسوں یا طاقت کے غلام بن گئے ہیں جس کی وجہ سے جو "سچ" چینلوں سے نشر کیا جاتا ہے اس کا بھی معاوضہ لیا جاتا ہے اور جو "سچ" نشر کرنے سے روک لیا جاتا ہے اس کوبھی نشر نہ کرنے کا معاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ باالفاظ دیگر سچ نشر کیا جائے یا سچ کو نشر ہونے سے روک لیا جائے، ہر دو صورتوں میں پیسہ چلتا ہے۔

پہلے شعرا ہوں، ادیب ہوں، سیاسی لیڈر ہوں یا مذہبی اسکالر، یہ سب کس لئے پابند سلاسل کر دیے جاتے تھے؟۔ اس لئے کہ وہ حق گوئی کو فرض سمجھا کرتے تھے اور اب ایسا کیا جواز ہے کہ ان کو پابندے سلاسل کیا جائے گا کہ وہ سب کے سب کھنکتے سکوں کے غلام ہیں، جو بولتے ہیں تو ان کو پیسا بلوا رہا ہوتا ہے اور خاموش رہتے ہیں تو اس کے پس پردہ بھی سکوں کی چمک دمک یا کھنک کارفرما ہوتی ہے۔

خبر ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ریاستی اداروں کی جانب سے غیر اعلانیہ سنسرشپ کی وجہ سے آزادی اظہار شدید خطرے میں ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر اپنے خطاب میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ پی ایف یو جے نئے پاکستان میں میڈیا کی آزادی سلب کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ، ہمیں اختلاف رائے اور تعمیری تنقید برداشت کرنا سیکھنا چاہیے۔ جب ہم اختلاف کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتے تو ہم ترقی کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتے۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں سوال اٹھایا کہ کیا حکومت آزادی اظہار کی ضمانت دے گی؟

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی پی پی ایک طویل عرصے مرکز میں حکمران رہی ہے اور پوری جمہوری دور میں صوبہ سندھ تقریباً پی پی پی کے پاس ہی رہا ہے۔ پوچھا جاسکتا ہے جس آزادی کا وہ موجودہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کیا ان کے دور میں اخبارات یا الیکٹرونک چینلز پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں تھی؟۔ بات یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتیں حکومت سے باہر ہوتی ہیں تو ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ خبروں کی اشاعت پر پہرے لگے ہوئے ہیں اور جب وہ حکومت میں ہوتی ہیں تو ان کی نظروں میں چینل بے لگام محسوس ہونے لگتے ہیں اور وہ ان کے منھ سے پرانی لگام نکال کر ایک نئی لگام ڈال کر یہ سمجھنے لگتی ہے کہ آزاد چینل مزید آزاد ہوگئے ہیں اور ان کے مخالفین خوامخواہ پرپیگنڈہ کرتے پھر رہے ہیں کہ آزاد چینلز پابند کر دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پی ایف یو جے کی ایگزیکٹیو کونسل کے ایبٹ آباد میں تین روزہ اجلاس کے بعد جاری ایک تفصیلی اور سخت بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی نئی حکومت کا اس غیراعلانیہ سینسرشپ میں کوئی کردار نہیں لیکن اس کی خاموشی اس میں شامل ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ اس کے مطابق اس غیراعلانیہ سینسرشپ کے خلاف بیرون اور اندرون ملک احتجاج کے باوجود یہ خاموشی معنی خیز ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کے دستخط سے جاری اس بیان میں کہنا تھا کہ نئی حکومت اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور ان اداروں سے اس پر بات نہیں کر رہی ہے جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دھونس، اشتہارات پر کنٹرول، ہراسیت اور یہاں تک کہ صحافیوں پر حملوں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی اداروں نے میڈیا کو قابو میں رکھنے کی خاطر اپنے "فرنٹ مین" کے ذریعے کئی ریڈیو اور ٹی وی سٹیشن قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے نجی چینلوں اور اخبارات میں اپنے لوگ بھی بھرتی کروائے ہیں۔ یونین نے شکایت کی کہ چھاؤنی کے علاقوں میں قومی اخبارات کی تقسیم میں روڑھے اٹکائے جا رہے ہیں جبکہ بڑے چینلوں کو کیبل آپریٹروں پر دباؤ کے ذریعے روکا جا رہا ہے جس کا مقصد میڈیا ہاؤسز کو ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کنٹرول کرنا ہے۔

دو صفحات پر مبنی اس بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ صحافیوں کو بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں میں آزادانہ طور پر رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے اور انھیں سکیورٹی کے نام پر تشدد کے شکار علاقوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں درجنوں صحافیوں پر حملے ہوئے ہیں، انہیں ہراساں اور کئی ایک کو قتل بھی کیا گیا ہے لیکن ان میں ملوث کسی بھی شخص کو خفیہ ادارے بھی تلاش یا گرفتار نہیں کرسکے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے دباؤ کی وجہ سے پولیس حملوں کی تحقیقات سے انکار کر دیتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ ان حالات کی وجہ سے پاکستان میں مزاحمتی صحافت بھی دم توڑ رہی ہے کیونکہ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز نے ریاستی اداروں کے غصے سے بچنے کی خاطر سیلف سینسرشپ شروع کر دی ہے۔ اجلاس نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے کارپورٹائزیشن کی وجہ سے مالکان نے بطور ایڈیٹرز یا چیف ایڈیٹر کے نیوز رومز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس وجہ سے مدیر کا اہم عہدہ جو میڈیا کی آزادی میں اہم کردار ادا کرتا تھا اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ستم گر محبوب - سہیل وڑائچ

پی ایف یو جے کے حوالے سے بی بی سی کی اس رپورٹ پر راقم کا خیال بین بین ہے۔ ہر شائع ہونے والی رپورٹ اصل میں 100 فیصد درست نہیں ہوتی بلکہ ایک نقطہ نظر ہوتا ہے جو عموماً یا تو اندازے اور تجزیوں یا قیاس اور گمانوں پر تیار کی جاتی ہے لیکن اگر پاکستان کے آزاد (پابند) چینلوں اور اخبارات کا مطالعہ باریک بینی سے کیا جائے اور چینلوں کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ہر چینل کسی نہ کسی سیاسی پارٹی یا مقتدر ادارے کا ترجمان نظر آئے گا۔ اس پر نظر آنے والے نام نہاد صحافی، تجزیہ اور تبصرہ نگار صاف اور واضح طور پر صحافی، تبصرہ و تجزیہ نگاروں کی بجائے "پارٹی" یا اداروں کے ترجمان دکھائی دیں گے۔ وہ جو جو کچھ بھی کہہ رہے ہوتے ہیں ان کے صوتی اثرات میں (بیک گراؤنڈ میوزک میں) سکوں کی چھناچھن صاف سنائی دے رہی ہو تی ہے جس کے واضح ثبوت کیلئے یہ بات ہی کافی ہے کہ جونہی ان کا چینل بدلتا ہے ان کی زبان و بیان یکسر تبدیل ہوجاتا ہے یا حکومتیں بدل جانے پر ایسے حضرات اور چینلوں کی پالیسیاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ اپنی جگہ درست ہے یا غلط، اس بحث سے ہٹتے ہوئے پہلے تو اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آزاد صحافت کہا کس کو جاتا ہے۔ ایک صحافی کا کیا کردار ہونا چاہیے اور تجزیہ نگار یا مبصر کی آنکھیں، منھ اور زبان کی بناوٹ کیسی ہونی چاہیے۔ اگر میں ایک صحافی، تبصرہ نگار اور تجزیہ نگار کی آنکھیں، منھ اور زبان کو دیانتداری کے ساتھ کسی ایک لفظ سے تشبیہ دوں تو میرے ذہن میں ایک ہی لفظ گونجتا ہے اور وہ ہے "آئینہ" یا کیمرہ کی آنکھ۔ آئینے اور کیمرے کی آنکھ کا کام اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ آئینہ جو کچھ بھی دیکھتا ہے وہی کچھ دکھاتا ہے اور کیمرے کی آنکھ جو کچھ بھی دیکھتی ہے اسی کے عکس کو اسی طرح محفظ کر لیتی ہے۔ آئینے میں نظر آنے والا منظر ہو یا کیمرے کی آنکھ کا محفوظ کیا کوئی عکس، اس میں اگر رد و بدل ہے تو پھر وہ "فوٹوشاپ" تو کہلا سکتا ہے اصل نہیں لیکن پاکستان میں ہر چینل جب تک تمام اصل مناظر میں فوٹوشاپ کے ذریعے اپنی مرضی کی مطابق ترامیم نہیں کرلیتے اس وقت تک ان کو عوام کے سامنے پیش نہیں کرتے۔

اس موڑ پر آکر میں بی بی سی سے شائع ہونے والی رپورٹ پر یہ کہنا چاہونگا کہ پاکستان ہی کیا دنیا کی کوئی خبررساں ایجنسی، اخبار، چینل اور کسی بھی قسم کا میڈیا 100 فیصد آزاد ہوتا ہی نہیں، وہ پابند ہوتا ہے کہ ان کی حکومتیں جو بھی پالیساں بنائیں ان کے مطابق میڈیا چلے اور وہ سب اپنی اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کے مطابق ہی چلتے ہیں لیکن پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ حکومت کی پالیسی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ میڈیا کو صرف اپنی حمایت میں زمین و آسمان ملانے کی آزادی کے علاوہ اور کوئی آزادی دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتی۔

بات اب شاید حکومت کے قبضہ قدرت سے بھی آگے جاچکی ہے اور اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دولت، لالچ اور چمک اور ساتھ ہی ساتھ کچھ مقتدر اداروں کی اثرورسوخ زیادہ بڑھ گیا ہے اور اب وہ پابند ہیں یا تو طاقت کے یا غلام ہیں سکوں کی کھنک کے جس کی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ اب میڈیا ایک "بازاری عورت" بنتا جارہا ہے جس کو کوئی بھی چند سکوں کے عوض اپنے تصرف میں لا سکتا ہے۔