خدارا سٹریٹ کرائم کو روکیے - راجہ احسان

موجودہ حکومت کو اسٹریٹ کرائمز کو روکنے کے لیے کچھ ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ بہت سےنوجوان ایسے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ کچھ فوری اقدامات میں خطرناک مجرموں خصوصا سٹریٹ کرائم میں ملوث نوجوانوں کے لیے سخت سزا دینے کی پالیسی شامل ہوسکتی ہے۔ جیوینائل عدالتوں کو جرم کی تاریخ سے چار ماہ کے اندر مثالی طور پر جلد از جلد مقدمے کی سماعت کر کے فیصلے سنانے ہوں گے۔ سزاؤں کی بڑھتی ہوئی شرحوں سے مسئلہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی ، بصورت دیگر یہ منحرف گروہ اس تاثر میں رہے گا کہ حکام ان کو پکڑنے کے لئے اہل نہیں ہیں ، جس سے جرائم کے لئے ان کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے، کئی دہائیوں سے سیاسی جماعتوں کے منشور میں نوجوانوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو کبھی ترجیح نہیں ملی۔ سیاسی جماعتوں کے پاس اس قوم کے نوجوانوں کے لئے صرف نعرے ہیں اور ان کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں ہے۔ نوجوانوں کے تعاون سے اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنے والی موجودہ سیاسی جماعت کو یقیناً اس حوالے کچھ عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وہی پرانی میٹھی گولیوں کو عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس سے سٹریٹ کرائم کو روکنے کی کوششوں یا جیوینائیل کورٹس کے نظام کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی بجائے عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اسٹریٹ کرائم کو روکنے کے لئے کوئی حکمت عملی پیش نہیں کی، اور نہ ہی نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمی سے دور رکھنے کے لئے کوئی خاطرخواہ اقدامات کیئے۔ در حقیقت ، نوجوانوں کے منحرف طرزِ عمل کو درست کرنا ان کے انتخابی ایجنڈے یا منشور میں کبھی بھی ترجیح نہیں رہی۔ دوسری طرف ، مغربی دنیا میں انتخابی منشور میں ہمیشہ نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے واضح پالیسیوں موجود ہوتی ہیں خصوصاً انہیں مجرمانہ سرگرمیوں سے دور رکھنا ، تفریح اور تفریحی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے وعدے وغیرہ۔ ابھی حال ہی میں ، برطانیہ میں ، موجودہ وزیر اعظم ، جانسن نے بھی الیکشن کمپین میں کچھ اسی قسم وعدے کئیے تھے۔ نئے وزیر اعظم نے یہ وعدہ کیا ہے کہ نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کے بہتر مواقع اور جامع ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشیش کریں گے اور منحرف نوجوانوں کے لئے زیادہ سخت ضابطے کی سزا کا وعدہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

راولپنڈی میں ڈھوک رتہ، نصیر آباد، ڈھوک ہسو، فوجی کالونی پیرودھائی، ڈھوک کھبہ اور غریب آباد جیسے معاشرتی طور پر پسماندہ اور غربت سے متاثرہ علاقے پاکستان کے ہر ایک شہر میں موجود ہیں، یہ ایسی جگہیں ہیں جن کی تعمیر و ترقی کے متلعق شاذ و نادر سوچا جاتا ہے، یا یہاں تک کہ انتخابات کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کے کسی باشندے نے ان کا دورہ تک کرنا گوارہ نہیں کیا۔ ایسی جگہیں اکثر انتخابی طور پر نہیں بلکہ پرتشدد جرائم کے لئے مشہور ہوتی ہیں۔ غربت زدہ علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کے لئے انتخاب کا فقدان ہے۔ ایسے نوجوانوں میں سے اکثریت جو سزایافتہ ہیں جرم کے وقت بے روزگار تھے جبکہ انکے گھریلو حالات دگرگوں تھے۔ سڑکوں پر ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لئے حکام کے سخت رویہ، ناکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور نوجوانوں کے خلاف تلاشی کے حالیہ سلوک سے کبھی بھی ان پر قابو نہیں پایا جا سکے گا جبکہ اسلحہ (غیرقانونی) رکھنے والے نوجوانوں کی موجودہ تعداد ، جرائم کی علامت ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنا یا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کو اسلحہ رکھنا یا کسی گروپ میں شامل ہونا اور جارحانہ روئیہ اپنانا ضروری محسوس ہوتا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ نوجوان جنہوں نے گروہوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا یا اپنی روزی روٹی کے لئے مجرمانہ سرگرمی اختیار کی اور اس میں مبتلا ہوگئے ان کے پاس ترقی کے مواقع کے فقدان کے ساتھ تفریحی سرگرمیوں کے وسائل بھی نہ ہونے کے برابر تھے اس وجہ سے ان کی زندگیاں اپنے محلوں تک ہی محدود رہیں۔ جس وجہ سے وہ مثبت مباحثوں اور تعمیری سوچ بچار سے بھی محروم رہے۔ نتیجتاً یہ نوجوان انہی محلوں کی روایات و اقدار اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں اور مختلف گروہوں میں شامل ہو رہے ہیں ۔ کچھ لوگ اسے امیر بننے کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں۔

حکمرانوں کو ان نوجوانوں کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم اسٹریٹ کرائم کے بحران کو کبھی حل نہیں کر پائیںگے۔ در حقیقت یہ مواقع کی عدم دستیابی یا عدم موجودگی اور عدم مساوات کا ردِ عمل ہے جو ہم سٹریٹ کرائم کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ نوجوانوں کی تعمیر و ترقی اور تفریحی سرگرمیوں کے لئے مواقع فراہم کرے اور ان کے روزگار کا مناسب بندوبست کرے ۔ اگر حکومت اسٹریٹ کرائم میں ملوث نوجوانوں کی پروفائل تشکیل دے تو ان کے نتائج سے یہ بات یقینی طور پر سامنے آجائے گی کہ اکثریت بے روزگار ہے اور کئی دہائیوں سے نظرانداز کی جانے والی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون ، قانون ہاتھ میں نہ لے - حبیب الرحمن

نوجوانوں کے منحرف سلوک کی بنیادی وجہ معاشرتی مسائل ہیں۔ یہ صورتحال معاشرتی ماہرین اور ماہرینِ جرمیات کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات کریں اور پولیس کو نوجوان نسل میں ہونے والے منحرف سلوک کو روکنے میں مدد کریں۔ ماہرینِ جرمیات کے مطابق ان نوجوانوں معاشرتی ترقی کے زیادہ سے زیادہ طریقوں کی تشکیل اور نوجوانوں کے اس محروم طبقے کی معاشرتی نقل و حرکت میں اضافہ نہ صرف انتہا پسندی بلکہ نوجوانوں میں سٹریٹ کرائم کو بھی کم کرنے کے لئے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔ اسٹریٹ کرائم اس لیے سامنے آیا ہے کہ نوجوانوں کے پاس اپنی خود کو منوانے کے لئے محدود ذرائع و وسائل ہیں۔ اگر ہم نظرانداز شدہ مقامات اور کمیونٹیز کے نوجوانوں کے لئے تفریحی سہولیات مہیا کریں تو ہم صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان سہولیات میں مفت لائبریریاں ، کھیلنے کے لئے زیادہ میدان ، کمیونٹی سینٹرز اور شہروں کے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو کھیلوں کے مختلف مقابلوں ، مباحثوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے ضم کرنے کی حکمت عملی شامل ہوسکتی ہے۔ اس گروپ کی مثبت بات چیت انہیں ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے معاملات کو مثبت انداز اور نقطہ نظر سے حل کرنے میں مدد دے گی۔ بصورت دیگر ، اگر ان بچوں کو ان کی دہلیز پر کچھ مل جاتا ہے تو ، وہ ضرور اسے اٹھا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ وہ اس تاثر میں ہیں کہ یہاں یہی کچھ ہوتا ہے یہی یہاں کی اقدار و رواج ہیں اور ان کے پاس کرنے کو اس کے سوا کچھ نہیں۔