وہ سترہ دن جب پاکستان، پاکستان بنا تھا - احسان کوہاٹی

بھٹی صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’،نہ نہ ،نہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت ہم سب فرشتے اور دودھ کے دھلے ہوئے تھے، اور وہ کیا کہتے ہیں کہ ایسے متقی پرہیزگار تھے کہ ہمارے لیے آسمان سے من و سلویٰ اترا کرتا تھا۔ بھائی! وہ بھی عام انسانوں کا ہی معاشرہ تھا جس میں دکھائی نہ دینے والے لالچ، حرص، طمع، بدنیتی، بغض کی چیرہ دستیاں سامنے دکھائی دیتی تھیں۔ ہاں ایسی اندھیر نہ تھی جیسی آج ہے۔ آج تو یہ حال ہے کہ جیسے ہم کسی گڑھے میں جا گرے ہیں۔‘‘ مختار بھٹی صاحب نے یہ کہہ کر اپنے زانو پر رکھے ہوئے موٹے پلاسٹک کے لفافے سے ایک ڈائری نکالی اوراسے رومال سے صاف کرتے ہوئے گویا ہوئے، ’’یہ انہی دنوں کی باتیں ہیں جو میں نے ڈائری میں محفوظ کر رکھی ہیں، ان میں ایک ایک دن کی روداد محفوظ ہے۔ میں صبح سویرے اسے لکھنے بیٹھ جاتا تھا۔ اس وقت میں آٹھویں جماعت کا لڑکا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب آٹھویں جماعت کا لڑکا لڑکا ہی ہوتا تھا، اس وقت کے لڑکے اپنی عمر میں ہی بڑے ہوتے تھے۔‘‘ مختار بھٹی صاحب نے سمجھانے کے بعد ڈائری نکالی اور اپنی لمبی سی ناک کی نوک پر عینک جما کر پڑھنے لگے۔

’’سات ستمبر 1965ء، مغلپورہ لاہور! کل ہندوستان نے رات کو ہمارے پیارے پاکستان پر حملہ کر دیا، ہمیں چاچا امین جنجوعہ سے جنگ کا پتہ چلا، ان کے پاس بڑا اچھا ٹرانزسٹر ہے، اس ہی سے پتہ چلا کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ چاچا جنجوعہ ایک ایک گھر کا دروازہ بجا بجا کر چیختا جاتا تھا، اٹھو اوئے اٹھو ہندوستان چڑھ آیا ہے، حملہ ہو گیا ہے، سارے جوان تیار ہو جاؤ۔ چاچا جنجوعہ پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگاتا جارہا تھا۔ پہلے تو صرف اس کی آواز سنائی دی، پھر پورا محلہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگا۔ میں نے جنگی جہاز بہت خوفناک آوازوں کے ساتھ آسمانوں پر اڑتے دیکھے۔ میری باجی ڈر کر امی سے لپٹ گئیں لیکن مجھے ڈر نہیں لگا۔‘‘ بھٹی صاحب خاموش ہوئے اور عینک کے اوپر سے مجھے تکتے ہوئے کہنے لگے ’’عجیب جنگ تھی جس نے سترہ دنوں کے لیے پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنا دیا تھا۔‘‘ ان کی اس بات پر میں چونک گیا۔

میں یہاں آپ سے بھٹی صاحب کا تعارف کرادیتا ہوں۔ بھٹی صاحب راولپنڈی میں رہتے ہیں، ریلوے کے ریٹائرڈ ملازم ہیں، پینتالیس برس کی طویل ملازمت کے بعد اب وہ اپنے پوتوں اور پوتیوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ بھٹی صاحب کا بچپن اور لڑکپن لاہور میں گزرا ہے جہاں ان کے والد صاحب محکمہ خوراک میں ملازم تھے۔ میں ان کے بھتیجے مسعود بھٹی کے توسط سے ان تک پہنچا تھا۔ مقصد جنگ ستمبر کے پاکستان کی تلاش تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ میں بالکل درست جگہ پہنچا ہوں۔ انہوں نے اپنی ڈائری میں جنگ کے سترہ دن محفوظ کر رکھے ہیں، ان کی صحت اور یادداشت کمال کی ہے۔ وہ مجھے بتانے لگے، ’’میں نے کہا تھا ناں کہ ایسا نہیں تھا کہ 65ء میں پاکستان میں سارے فرشتے ہی بستے تھے، جیسے ہر معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ہم بھی ویسے ہی تھے۔ پولیس بھی تھی، جیل بھی تھے، اٹھائی گیر، جیب تراش بھی ہوتے تھے اور بدمعاش بھی ہوتے تھے، لیکن اس وقت کا آج سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ میں بتا رہا تھا کہ چاچا درزی امین جنجوعہ نے محلے کے دروازے بجا بجا کر بتایا اور ان کی اطلاع کی تصدیق آسمان پر جنگی طیاروں کی خوفناک آوازوں نے کی۔ جب کوئی جیٹ طیارہ ساؤنڈ بیرئیر توڑتا تو ایسی آواز آتی کہ دل کی دھڑکن رک سی جاتی۔ میری باجی ذرا کمزور دل کی تھیں، وہ سیڑھی پر کھڑی تھیں، جب لڑاکا طیارے آسمان پر سے گزرے، ان کے ہاتھ میں سے لسی کا گلاس گر گیا اور انہوں نے وہیں سے امی جی کہہ کر آنگن میں چھلانگ لگا دی۔ وہ تو شکر ہے کہ نیچے چارپائی تھی، وہ بچ گئیں، ورنہ گٹا گوڈا تو ضرور ٹوٹتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ کشمیر؛ تاریخی تناظر اور موجودہ صورت حال - محمد سلیم جباری

بھٹی صاحب سترہ دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگے، ’’میں یہ کہہ رہا تھا کہ اس وقت بھی معاشرے میں طرح طرح کے لوگ تھے۔ محلے میں شیدے پہلوان کی دودھ دہی کی دکان تھی، میں نے خود اسے دودھ میں پانی ملاتے دیکھا تھا۔ حکیم صاحب پنسار کی ہٹی چلاتے تھے اور کوڑیوں کے مول جڑی بوٹیاں خرید کر گاہکوں سے اچھے خاصے دام وصولا کرتے تھے۔ راشن شاپ والے منوماما ذخیرہ اندوز تھے لیکن جنگ ہوتے ہی سب میں جیسے کوئی اور ہی روح حلول کر گئی ہو۔ میں نے خود شیدے پہلوان کے ساتھ خالص دودھ کی بالٹیاں اٹھائی ہیں، وہ دودھ سے بھری بالٹیاں لے کر فوجی قافلوں کے راستے میں کھڑا ہوجاتا اور دوھ کے گلاس بھر بھر کر فوجی جوانوں کو پیش کرتا، ان کی جیپوں کے پیچھے بھاگتا۔ جس راستے سے فوجی گزرتے تھے وہاں میلہ لگ جاتا، لوگ سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہوجاتے، پاکستان زندہ باد کے وہ فلک شگاف نعرے لگتے کہ زمین بھی ہل جاتی۔ جنگ کا اعلان ہوا، پھر کہا گیا کہ اسپتال میں زخمیوں کے لیے خون کی ضرورت ہے تو وہی حکیم پنسار جو کسی پر آنہ نہ چھوڑتا تھا، دکان کھلی چھوڑ کر خون دینے اسپتال جا پہنچا۔ راشن شاپ والا منو ماما گڑ کی بوریاں لے کر فوجی جوانوں کے راستے میں کھڑا ہوگیا۔ میں آج سوچتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں۔ میرا تو کہنا ہے کہ اگر پاکستان کبھی صحیح معنوں میں پاکستان بنا ہے تو وہ 65 ء کے وہ سترہ دن ہی تھے۔ پوری قوم ایک ہو چکی تھی۔

اس وقت خبروں کا سب سے بڑا ذریعہ ریڈیو پاکستان اور محلے میں جنجوعہ صاحب کی دکان تھی۔ خبروں کے وقت ان کی دکان پر پورا محلہ جمع ہو جاتا۔ اس وقت ریڈیو پاکستان پر شکیل احمد نام کے ایک نیوز ریڈر ہوتے تھے۔ ان کی خبروں کا کیا ہی انداز ہوتا تھا۔ وہ اپنے منفرد انداز میں کہتے تھے، ’’یہ ریڈیو پاکستان ہے، شکیل احمد سے خبریں سنیے۔‘‘ تو پھر جیسے ہمارے دلوں کی دھڑکنیں ان کی آواز کے تابع ہوجاتیں۔ میں بعد میں ان سے ملا بھی، ان کا اصل نام وکیل احمد تھا اور وہ اداکار تھے، انہوں نے کئی تھیٹر کر رکھے تھے، ان کا نام آغا حشر نے بدل کر وکیل احمد سے شکیل احمد رکھا تھا۔ وہ آل انڈیا ریڈیو میں نوکر ہوگئے تھے، انہوں نے دوسری جنگ عظیم کی خبریں بھی پڑھیں، پاکستان بنا تو یہاں آگئے اور ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے لگے۔ 65ء کی جنگ میں ان کی خبریں پڑھنے کا انداز، ان کی آواز، ان کا لہجہ ۔۔۔میں، میں، میں دیکھو میرے بوڑھے ہاتھوں کا سفید رواں کھڑا ہو گیا ہے۔‘‘ بھٹی صاحب جذباتی ہو گئے، ان کی آواز بھرا گئی، کہنے لگے ’’ہمارے محلے میں شمیم باجی کی شادی ایک فوجی جوان سے ہوئی تھی، مشکل سے دس دن بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب جنگ چھڑی تو تڑپ کر اٹھا اپنا بیگ لیا اور اپنی دولہن سے کہنے لگا، جتنا رونا ہے ابھی رو لے، میرے پیچھے خبردار جو تیرا ایک آنسو نکلا، میں غازی بن کر لوٹوں گا، اور شہید ہوا تو جنت میں ملیں گے، اور میں شہید ہوا تو دیکھ رونا نہیں، تو ایک فوجی کی بیوی ہے۔‘‘ بھٹی صاحب نہایت جذباتی انداز میں سترہ دنوں کے پاکستان کی کہانی سنا رہے تھے اور میں سامنے پڑی ٹھنڈی ہوتی چائے کو بھول بھال کر ان کی باتیں سنے جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ابن مریم نہیں، دکھ کی دوا چاہیے - حبیب الرحمن

بھٹی صاحب کہنے لگے ’’عجیب منظر تھا۔ بھارتی طیارے ادھر رخ کرتے، فضائی حملے کا سائرن بجتا اور لاہوری خندقوں میں چھپنے کے بجائے کوٹھوں پر چڑھ جاتے اور پاک فضائیہ کے طیاروں کو غیض و غضب میں بپھرا ہوا دیکھ کر نعرے لگاتے۔ اسپتالوں میں حال یہ تھا کہ خون دینے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتیں، وہ معذرت کر کر کے تھک جاتے کہ اب ہمارے پاس جگہ نہیں رہی، لیکن لوگ جانے کا نام نہ لیتے۔ ایک مزے کی بات بتاتا ہوں، مودا حلوائی بہت موٹا تھا، اتناموٹا کہ اس سے چلا بھی نہ جاتا، وہ بھی خون دینے پہنچ گیا اوراسے جب کہا کہ ہمارے پاس ابھی جگہ نہیں ہے تو اس نے پاس پڑا پیپا اٹھا لیا، بضد ہو گیا کہ اس ہی میں خون لے لو، بعد میں جس میں رکھنا ہے رکھ لینا، وہ کچھ سننے سمجھنے پر تیار ہی نہیں تھا، اس کی ضد دیکھ کر مجبورا اس کا لوگوں سے چھپا کر خون لینا پڑا۔‘‘

مختار بھٹی صاحب بتا رہے تھے کہ تب پوری قوم شیر و شکر ہو گئی تھی۔ سیاست دانوں کے اس وقت بھی آپس میں اختلافات تھے لیکن سب نے اختلافات ایک طرف رکھ دیے۔ میرے داد ا جماعت اسلامی کے زبردست حامی تھے، انھیں اخبار سنانا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور کی صدر ایوب سے نہیں بنتی تھی، اور صدر ایوب کو بھی جماعت اسلامی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی، وہ جماعت اسلامی پر پابندی بھی لگا چکے تھے، مولانا مودودی ان کے حکم سے جیل کاٹ چکے تھے، اس کے باوجود جب ایوب خان نے قومی مشاورت کے لیے اپوزیشن کو مدعو کیا تو مولانا مودودی مرحوم بذریعہ کار لاہور سے راولپنڈی پہنچ گئے کہ معاملہ پاکستان کا ہے۔ یہ تھے اس وقت کے لیڈر اور یہ تھا ان کا قد کاٹھ۔ ان کے مقابلے میں تو آج کل کے سارے بونے ہیں، بالشتیے ہیں، بتاؤ ہیں کہ نہیں؟‘‘ میں نے میکانکی انداز میں سر اثبات میں ہلا دیا۔

وہ سترہ دن واقعی تاریخ کا اثاثہ ہیں۔ ایک جانب قوم متحد ہو کر قائد ملت کا مکا بن چکی تھی تو فوج کا مورال بھی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ بھارت پچاس ہزار فوج اور بدمست ٹینکوں کے ساتھ آگے بڑھا تھا۔ بھارتی آرمی چیف کا خیال تھا کہ یہ جنگ چند گھنٹوں کی مار ہوگی لیکن اسے وہ مار پڑی کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا۔ بھارت بی آر بی نہر عبور نہ کر سکا۔ سیالکوٹ کی طرف اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن ’’فخر ہند‘‘ کو آگے بڑھایا تو چونڈہ کا میدان فخر ہند کے شرمن ٹینکوں کا قبرستان بن گیا، اور ہفت روزہ ٹائمز کا نمائندہ لوئس کیرار 23 ستمبر 1965 کے شمارے میں لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ میں پاک بھارت جنگ کو شاید بھول جاؤں گا لیکن پاک فوج کا جو افسر مجھے محاذ جنگ پر لے کر گیا تھا، میں اس کی مسکراہٹ کبھی نہیں بھول سکتا جو مجھے بتا رہی تھی کہ یہ پاکستانی جوان کس قدر نڈر اور دلیر ہیں، جوان سے جرنیل تک میں نے انہیں اس طرح آگ سے کھیلتا دیکھا ہے، جسے بچے گولیوں سے کھیلتے ہیں۔‘‘ کاش پاکستان پھر وہی سترہ دنوں کا پاکستان بن جائے، ایک قوم کا پاکستان، سب پاکستانیوں کا پاکستان۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.