چناروں کی وادی کی ایک شہزادی - فاطمہ طاہر

وہ ایک ننھی سی پری کی مانند تخیل کی دنیا میں اڑتی پھرتی تھی۔ پھولوں کی سی نازک، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے والی۔ اس کی خصوصیت نہ اس کے سیب جیسے سرخ گال تھے نہ ہی گھنے سنہرے بال۔ اسے منفرد بناتی تھیں اس کی ڈھیروں خواب سجائے چمکتی ہوئی سبز آنکھیں۔ سالوں کی سیڑھی پر قدم رکھتےرکھتے وہ بڑی ہوگئی۔ بدلا تھا تو صرف اس کا قد۔ معصومیت اور بچپنا تو ویسا ہی تھا۔

اک دن پرستان کی اس پری کی دنیا اجاڑنے ایک ظالم دیو آپہنچا، اونچا لمبا، بڑی بڑی مونچھوں ، بھاری بوٹوں اور وردی والا۔ اٹھی ہوئی گردن جھک گئی۔ کندھے ڈھلک گئے، آنکھوں کی جوت بجھ گئی، وہ منہ کے بل گری تھی۔ کیا یہ اس کی خطا تھی کہ وہ چناروں کی وادی میں پیدا ہوگئی؟ جہاں اس کی عزت و عصمت بکاؤ مال کی طرح تھی۔

ان چمکتی آنکھوں میں محض ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں ہی بچی تھیں۔ اب وہ اڑ نہیں سکتی تھی، کیونکہ اس کے پر کٹ گئے تھے۔ تنہا ہوگئی تھی۔ مگر اذیت یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ستم بالائے ستم، وہ کسی پہ دل ہار بیٹھی۔ اس پر جو اسے کبھی مل ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ جو آزاد دنیا کا باسی تھا۔ وہ جو آسمان کا چمکتا ستارہ تھا اور وہ خود کیا تھی؟ شاید کچھ بھی نہیں۔

خوابوں کے شیش محل کی ابھی تو بنیادیں ہی ازسرنو تعمیر کے مراحل میں تھیں کہ حقیقت کا پتھراؤ ہوا۔ "وہ محبت تو صرف فلموں ناولوں میں ہوتی ہے جس میں سب حادثے بھلا دیے جاتے ہیں، سب اچھا ہوجاتا ہے۔ حقیقت مختلف ہے۔ اللہ معاف کر دیتا مگر بندے حساب لینے والے بن جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوا تو؟؟" اس عزیز ترین کی نگاہوں میں اپنے لیے نفرت کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔

ان آنکھوں میں ایک آخری رنگ واضح ہے اب، حزن و ملال کا رنگ! کسی سے حال دل کہہ نہیں پائی تو قلم اٹھایا اور لکھ ڈالا۔ دروازے پر پھر سے بھاری بوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔ اردگرد ایک ان دیکھا دھواں پھیل رہا ہے۔ گھٹن سے سانس رک رہی ہے۔ قلم انگلیوں سے پھسل کر فرش پر گر چکا ہے۔ ایک اور کہانی دفن ہوچکی ہے۔