ترکی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے - سفیر پاکستان

سفیر پاکستان جناب محمد سائرس سجاد قاضی نے کشمیر میں کشمیریوں کی جدہد جہد آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست سے یک طرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے گزشتہ 31 روز سے پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ چھ ستمبر 2019 کو یومِ دفاع اورشہدا کے موقع پر ترکی کی دارالحکومت انقرہ میں سفارت خانہ پاکستان میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

اس تقریب میں بڑی تعداد میں انقرہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور ترک باشندوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کی اہم بات یوم دفاع اور شہدا کے ساتھ ساتھ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اس دن کو یوم دفاع پاکستان اور یک جہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا۔ سفارت خانہ پاکستان میں منعقد ہونے والی اس تقریب سے قبل شہدا کے ایصال ثواب کے لیے قران خوانی کا اہتمام کیا گیا اور قران خوانی کے اختتام پر دعا کروائی گئی۔


تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام سے ہوا۔ بعد میں سفارت خانہ پاکستان کے چارج ڈی افئیر سید اسد گیلانی نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نیازی کا قوم کے نام پیغامات پڑھ کر سنائے۔


بعد میں سفیر پاکستان محمد سائرس سجاد قاضی نے حاضرین سے خطاب کیا۔انہوں نے اس موقع پر یومِ دفاع کی اہمیت اور چھ ستمبر 1965ء کو پاکستان کو اپنی بقا کے لیے لڑی جانے والی جنگ اور اللہ و تعالیٰ کی مدد سے اس جنگ میں سرخرو ہونے اور دشمن کو پست قدمی پر مجبور کیے جانے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاک فوج جسے پاکستان کے عوام کی مکمل حمایت حاصل تھی دشمن کو ناک چنے چبانے پر مجبور کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلح افواج ہر ممکنہ خطرات سےنبٹنے کے لیے ہمیشہ چوکس ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جموں و کشمیر کامسئلہ حل ہونے جارہا ہے؟ پروفیسر جمیل چودھری


سفیر پاکستان جناب محمد سائرس سجاد قاضی نے کشمیر میں کشمیریوں کی جدہد جہد آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست سے یک طرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے گزشتہ 31 روز سے پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سسلہ جاری ہےلیکن بھارت اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جیسے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم ہو گا تحریک آزادی کشمیر کو روکنا ممکن نہ رہے گا۔


انہوں نے اس موقع پر دنیا کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ د دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو رکوانے کے لیے اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داری کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔


انہوں نے اس موقع پر حکومتِ ترکی اور ترک عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے پاکستان کے ایک دوست اور برادر ملک ہونے کا حق ادا کردیا ہے اور انہوں نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی کی مکمل حمایت کی ہے جس پر ہم حکومتِ ترکی اور ترک عوام کے مشکور ہیں۔ بعد میں یہ تقریب چائے کی تواضع سے اپنے اختتام کو پہنچی۔