دنیا کے سب سے بڑے دریا کے بارے میں کچھ دلچسپ و عجیب

دریائے نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 6670 کلو میٹر ہے۔ یہ افریقہ کی سب سے بڑی جھیل وکٹوریہ جھیل سے نکلتا ہے۔ اس علاقے میں بارش بہت ہوتی ہے، لہٰذا بہت گھنے جگلات پائے جاتے ہیں، ان جنگلات میں ہاتھی، شیر، گینڈے، جنگلی بھینسے، ہرن، نیل گائے اور دریائی گھوڑے(ہپو)، مگرمچھ اور گھڑیال وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ اس علاقے کو “نیشنل پارک” کا درجہ حاصل ہے۔

جب یہ دریا سوڈان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے، کیوں کہ دریا ایک زبردست دلدل سے گزرتا ہے۔ یہ دلدل دنیا کا سب سے بڑا دلدل ہے یعنی 700 کلو میٹر لمبا ہے۔ یہاں ایک قسم کی گھاس پاپائرس پائی جاتی ہے، جو پورے دلدل پر چھائی رہتی ہے۔ یہ اتنی گھنی اور مضبوط ہے کہ اس پر ایک ہاتھی کھڑا ہوجائے تو وہ نیچے نہیں جائے گا اور سیدھا کھڑا رہے گا۔ دریا کا پانی گھاس کے نیچے نیچے بہتا ہے۔ پتا نہیں چلتا کہ پانی کہاں ہے۔ یہاں سارس، بگلے اور پانی میں رہنے والی مختلف چڑیاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اسی گھاس سے کاغذ بنایا جاتا ہے۔


دریائے نیل کے سارے مددگار (معاون) دریا، حبشہ کے پہاڑوں سے نکل کر اس میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ دریا حبشہ میں جھیل تانا سے نکلتا ہے اور فوراً بعد آبشار کی صورت میں ایک نہایت گہرے کھڈ میں گرتا ہے اور بہتا ہوا خرطوم کے مقام پر دریائے نیل میں مل جاتا ہے۔ خرطوم کے بعد اتبارا کے مقام پر اتبارا نام کا ایک اور دریا، دریائے نیل میں شامل ہوتا ہے۔ یہ بھی حبشہ کے پہاڑوں سے جھیل تانا کے قریب سے نکلتا ہے۔

خرطوم کے بعد دریائے نیل میں کئی اتار (یعنی ڈھال جو ایک دم نیچے اترتا ہو) آتے ہیں۔ یہ تقریباً چھے مقامات پر ہیں۔ دریا کی تہہ میں بڑی مضبوط اور نوکیلی چٹانیں ہیں۔ ان کو دریائے نیل کی رکاوٹیں کہا جاتا ہے۔ ان مقامات سے کشتیاں یا موٹر بوٹس نہیں گزر سکتے۔

سوڈان میں مصر کی سرحد پر دریائے نیل انسان کی بنائی ہوئی دنیا کی سب سے بڑی جھیل یعنی جھیل ناصر میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں اسوان کے مقام پر اسوان بند باندھا گیا ہے۔ اس بند سے دریا کا پانی رک گیا ہے اور ایک جھیل بن گئی ہے۔ اس بند سے آب پاشی کے لیے نہریں نکالی گئی ہیں اور پانی کو سرنگوں سے گزار کر اس پانی سے بجلی پیدا کی گئی ہے۔ اسوان بند کی نہروں سے دریائے نیل کے دونوں طرف 50 میل تک کاشت کاری ہوتی ہے اور علاقہ نہایت سر سبز و شاداب اور آباد ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے مصر کو دریائے نیل کا تحفہ کہا جاتا ہے، جیسے ہمارے ملک میں صوبہ سندھ کو دریائے سندھ کا تحفہ کہا جاتا ہے۔


قاہرہ سے گزر کر دریا بہت خاموشی اور آہستہ آہستہ مختلف شاخوں میں بٹ کر اسکندریہ کے قریب بحیرہ روم میں گر جاتا ہے۔ دریا کی رفتار اور پانی کی کیفیت معلوم کرنے کے لیے مصری لوگ ایک پیمانہ بناتے تھے۔ یہ دریا کے کنارے ایک کمرا ہوتا تھا۔ اسے نیلو میٹر کہتے تھے۔ اس میں ایک سرنگ سے دریا کا پانی آتا رہتا تھا۔ اس پیمانے سے پانی کی حرارت، رنگ اور کیفیت معلوم ہوتی اور اس کا سال بھر ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا تھا کہ طغیانی آئے گی یا نہیں اور اگر آئے گی تو کیا اثرات ہوں گے۔ فصلوں کے لیے اچھی ہوگی یا نقصان دہ ہوگی۔

قدیم لوگوں کو علم ہی نہیں تھا کہ دریائے نیل کہاں سے نکلتا ہے، حالاں کہ ہزاروں سال سے لوگ اس کی وادی میں رہتے بستے آئے تھے۔ تہذیبیں جنم لیتی رہیں اور مٹتی رہیں، مگر کسی نے یہ دریافت کرنے کی کوشش نہیں کہ یہ کہاں سے نکلتا ہے، کن کن مقامات سے گزرتا ہے۔


سترھویں صدی میں کوشش کی گئی کہ دریا کے نکلنے کی جگہ معلوم کی جائے تو معلوم ہوا کہ یہ دریا جھیل تانا سے نکلتا ہے، مگر اس کے کنارے کنارے کوئی چل نہ سکا، کیوں کہ یہ بڑے خطرناک پہاڑوں اور کھڈوں میں گزرتا ہے۔ دریا کے تیز پانی نے چٹانوں کو کچھ اس طرح کاٹا ہے کہ دونوں طرف دیواریں سی بن گئی ہیں اور ان چٹانی دیواروں پر سے کوئی گزر نہیں سکتا۔


اٹھارویں صدی میں یورپی سیاحوں نے افریقہ کے اندرونی علاقے دریافت کرنا شروع کیے۔ رچرڈ برٹن اور جان ہیننگ ٹن اسپیک 1857ء میں افریقہ کے مشرقی ساحل سے روانہ ہوئے۔ دشوار گزار راستوں، جنگلوں اور پہاڑوں سے گزرے، مچھروں کی وجہ سے ملیریا میں مبتلا ہوئے۔ برٹن اتنا بیمار ہوا کہ آگے نہ بڑھ سکا، مگر اسپیک چلتا رہا اور جھیل وکٹوریہ تک پہنچ گیا۔ اسپیک کے مطابق یہی جھیل دریا نیل کے نکلنے کی جگہ تھی، جس کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔ یہ جھیل یوگنڈا میں ہے۔ کمپلا، یوگنڈا کا دارالحکومت ہے، جو اسی جھیل کے کنارے آباد ہے۔

دریائے نیل کے دہانے پر اسکندریہ کا شہر آباد ہے۔ اس کا نام سکندر اعظم کے نام پر ہے۔تیسرا بڑا شہر خرطوم ہے۔ خرطوم کے معنی “ہاتھی کی سونڈ” کے ہیں۔ یہ سوڈان کا دارالحکومت ہے۔