یہ محرم کشمیری شہیدوں کے نام کریں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

یزیدی سوچ کا پیروکار نریندرا مودی کے نام سے برادرم اکرم چودھری نے دردناک کالم لکھا ہے۔ محرم کا مہینہ ہے اور کشمیر کو کربلا بنا دیا گیا ہے۔ یہ صرف محاورے کے طور پر نہیں، حقیقت میں کشمیر کو کربلا بنا دیا گیا ہے۔ پہلے ہی کشمیری ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ مودی نے انتہا کر دی ہے۔
میری مودبانہ گزارش اپنے شیعہ اور سُنی بھائیوں سے ہے کہ وہ اس محرم کو مظلوم کشمیری مسلمانوں کے نام کر دیں، اُن کے سروں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے ہیں۔ کربلا ظلم و ستم کے لیے ایک استعارہ بن گیا ہے۔ کشمیر پہلے ہی ایک کربلا ہے۔ بھارت کے ظالم حکمرانوں نے اس میں کئی کربلائوں کااضافہ کر دیا ہے۔

اکرم چودھری نے نریندرا مودی کو یزیدی سوچ کا پیروکار کہا ہے۔ یہ بات اب مستقلاً کربلا ک ساتھ منسلک ہو گئی ہے۔ غیر مسلم ظالموں کے لیے بھی یزید کا لفظ عام ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں بھی ظلم ہو گا وہاں کربلا قائم ہو جائے گی اس طرح یہ استعارہ اب عالمی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بار بار اکرم چودھری کا حوالہ آ رہا ہے، انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ میں اب اس ظلم کہانی کے علاوہ کچھ نہیں لکھوں گا۔ وہ کربلا اور کشمیر کو اپنا موضوع بنائیں لوگ سمجھیں گے یزیدی سوچ حسینی جذبہ اور کربلا کا قیام اب تمام مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے ایک شمعِ ہدایت بن چکا ہے۔

محرم کا مہینہ آتا ہے تو ا یک ہی محرمِ راز شخصیت اماموں کے امام حضرت امام حسین علیہ السلام یاد آتے ہیں، جنہوں نے شہادت کا رُتبہ پا کے د نیا والوں کو بتا دیا کہ ظلم اور ناحق بات کے خلاف اپنی جان اور اپنے سارے خاندان کی قربانی دے کے ایسی مثال قائم کرنا چاہئے جو بے مثال ہو۔ جسے ساری دنیا یاد رکھے اور جس کا تذکرہ بلند ہوتا رہے جو حسین جذبے کے پیروکار وں کو سربلند کرے۔
کشمیریوں کے لیے سوچنے والے حسینی جذبے سے مالا مال ہونگے تو پھر بھارت تو کیا کوئی غیر مسلم طاقت بھی مقابلے میں کھڑی نہیں ہو سکے گی۔ نریندرا مودی نے حقیقی معنوں میں یزیدی ظلم و ستم کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یزید نام کا مسلمان تھا۔ کوئی غیر مسلم بھی ظلم کی انتہا کر کے یزید کا خطاب پا سکتا ہے۔

نریندرا مودی نے کشمیریوں پر بالکل کربلا کی طرح کشمیر میں صورتحال پیدا کی ہے یہاں بھی خواتین و حضرات کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے گویا اس نے ہر گھر کربلا بنا دیا ہے۔ یہ یزید کے ظلم سے بھی بڑا ظلم ہے۔ یہ ظلم عظیم ہے۔ گھر والوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے نہ کوئی باہر آ سکتا ہے نہ کوئی اندر جا سکتا ہے۔ گھر جیل اور حوالات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اوپر سے ظلم و ستم بھی جاری ہے۔ ہر طرف کرفیو طاری ہے اور بھارتی اہلکار بندوقیں تانے ہوئے گھوم رہے ہیں۔ ان کی گولیوں کا نشانہ صرف اور صرف کشمیری مسلمان ہیں۔

آخر مودی نے کیا سوچ کر پورے شہر کو ایک حوالات بنا دیا ہے بلکہ سارے شہروں کا یہی حال کر دیا ہے۔
یہ ظلم بھی کشمیریوں کے جذبے کو کم نہ کر سکے گا۔ اس طرح مودی پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے۔ یہ انوکھی خبر دنیا والوں نے سُنی ہے کہ پورے شہر کے لوگوں کو مقید کر دیا گیا ہے ، اس سے ایک پیغام تو د نیا والوں کو گیا ہے کہ سارے کشمیر کو ایک قید خانہ بنا دیا گیا ہے۔ ہر گھر ایک حوالات بن گئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کشمیر پر بھارتی قبضہ ہے۔ وہ بھارت کا کوئی آزاد شہر نہیں ہے۔ بندوقوں والے اہلکار جس طرح شہر میں سیر سپاٹا کر رہے ہیں ان اہلکاروں کے علاوہ کوئی کشمیری انسان سڑکوں پر نہیں ہے۔ سڑکوں پر صرف کرفیو ہے بندوقوں کا رُخ صرف انسانوں کی طرف ہے۔

ابھی تو پاکستان کی طرف سے کسی مداخلت کا اندیشہ نہیں ہے اور کشمیر کو جنت نظیر وادی کا یہ حال ہے۔ کشمیر کی کئی سیاحوں مسافروں اور لوگوں نے جنت کہا۔ اسے بھارتی حکمرانوں اور خاص طور پر نریندرا مودی نے جہنم بنا دیا ہے۔
پہلے کشمیر میں سیروتفریح کرنے والوں کے قافلے اترتے تھے۔ اب وہاں کوئی جاتا ہی نہیں۔ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جایا جا سکتا ہے اب وہاں کیا دیکھنے کے لیے جایا جائے۔ بندوقوں کی نالیاں سیدھی انسانوں کی طرف کئے ہوئے فوجی اہلکار اور خوفزدگی کے حصار میں چھپتے چھپاتے لوگ کشمیر کے لیے آزادی کا خطرہ بھارتی حکمرانوں کو چین نہیں لینے دیتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس میں اُن کشمیریوں کا کیا گناہ ہے جو خاموشی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ وہاں گھر سے نکلنا لوگوں کے لیے ناممکن کر دیا گیا تو وہ پھر کشمیر سے ہی نکل جائیں گے اور وہاں مودی اپنے بندے آباد کر دیں گے۔ مودی سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا المیہ جنم لینے والا ہے۔ دنیا والوں کو اس طرف توجہ دینا ہو گی ورنہ اس طرف عمران خان بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ دنیا والے اس خطرے کو محسوس کریں۔؟