جب صحافی سسٹم کی زبان بولنے لگے…

حکومت کی مداخلت یا انتظامیہ کے دباؤ کا الزام لگانا ایک کمزور بہانہ ہے-میڈیا پیشہ وروں نے خود ہی خود کو اپنے اصولوں سے دور کر لیا ہے۔ وہ بےآواز کو آواز دینے یا حکمراں طبقے سے جوابدہی کی مانگ کرنے والے کے طور پر اپنے کردارکو نہیں دیکھتے ہیں۔ اگر وہ خود سسٹم کا حصہ بن جائیں‌گے، تو وہ ان سے سوال کیسے پوچھیں‌گے؟
صحافت پر کئی فلمیں بنی ہیں۔ بالی ووڈ صحافیوں کو نمونوں میں بدل دیتا ہے-پہلے کے زمانے میں وہ داڑھی والے، جھولاچھاپ آئیڈیل ہوا کرتے تھے ؛ اب وہ ٹی وی مائیک لےکر چلتے ہیں اور لوگوں سے بےتکے سوال پوچھتے ہیں-لیکن ہالی ووڈ سے کئی اچھی فلمیں آئی ہیں، مثال کے طور پر سٹیزن کین، آل دی پریسڈینٹس مین، دی پوسٹ، اسپاٹ لائٹ اور یہاں تک کہ دی فرنٹ پیج۔کم لوگ ہمفری بوگرٹ کی ڈیڈلائن یو ایس اے (1952) کے بارے میں جانتے ہیں، جو کہ جرم پر مبنی کہانی تھی، جس میں ایک مدیر ایک مجرم سرغنہ سے لڑتا ہے اور ساتھ ہی اپنے مالکوں کے ذریعے اخبار کو بیچنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔دی ڈے کے جہادی مدیر کے طور پر بوگرٹ اپنی طاقت ور شخصیت کو اپنے کردار میں ملا دیتے ہیں، لیکن وہ اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ اسٹار، اداکار پر حاوی نہ ہو جائے۔

ہم لوگ انھیں ایک سخت جاسوس کے طور پر یا ایک سرپھرا مگر رومانٹک عاشق کے طور پر دیکھنے کے عادی ہیں، لیکن یہاں ایک مصیبت میں گھرا ہوا کردار ہے، جو اخبار اور صحافی کی اپنی نوکری کے تئیں اتنا وقف ہے کہ وہ اپنے عشق کو جاری رکھنے میں خود کو نااہل پاتا ہے۔پہلے کی نسل کے صحافیوں کے لئے یہ فلم گزرے ہوئے وقت کے اخبار کے دفتروں کی یادوں کو تازہ کر دے‌گی-کھٹ کھٹ کرتے ہوئے ٹائپ رائٹر، ٹیلی ٹائپ، کھوسٹ مدیر، لطیفہ سناتے ہوئے دن بھر خبروں کا پیچھا کرنے والے خبرنویس-یہ سب مل کر پرانے وقت کے نیوز روم کے ماحول کو زندہ کر دیتے ہیں۔

لیکن میں ہندوستان کے ہر صحافی کو-خاص طور پر ان کو جو اس پیشے میں نسبتاً نئے ہیں-یہ فلم دیکھنے کی سفارش کروں‌گا۔ اور اگر ان کو یہ کچھ زیادہ ہی پرانا لگتا ہے (حالانکہ یہ ایسا نہیں ہے اور اس کی کہانی میں سب کو باندھ لینے کی صلاحیت ہے)، تو میں ان کو کم سے کم نیچے دئے کلپ کو دیکھنے کی صلاح دوں‌گا، جس میں بوگرٹ، جو مدیر ہیں، اخبار کی اہمیت اور اس کی قدروں کے بارے میں بول رہے ہیں۔

مجھے اس فلم کی یاد اس لئے آئی، کیونکہ کئی واقعات نے، جن میں کچھ حالیہ واقعات بھی شامل ہیں، ہندوستانی میڈیا کی بےحد خراب امیج پیش کی ہے۔یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ آج میڈیا کا بڑا حصہ-جس میں پرنٹ اور ٹیلی ویژن میڈیا شامل ہے، حکومت کا بھانٹ بن‌کر رہ گیا ہے۔ اور یہاں تک کہ وہ اخبار بھی جو خود کو ‘ متوازن ‘ اور ‘ متوسط ‘ مانتے ہیں، وہ بھی ویسی اہم خبروں کو پچھلے صفحات پر دھکیل دے رہے ہیں، جو حکومت کو اپنے خلاف لگ سکتی ہے۔ذاتی طور پر صحافی نریندر مودی کی طرف اپنے جھکاؤ کو چھپاتے نہیں ہے اور جہاں تک ‘غیر جانبدارانہ ‘ صحافی کا سوال ہے، جو کوئی پوزیشن لینے کی جگہ کمزور اور مبہم خیال پیش کرتے ہیں، ان کے بارے میں جتنا کم کہا جائے، اتنا اچھا ہے۔

پھر بھی، حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کو ختم کئے جانے اور ابلاغ کے تمام ذرائع کو کاٹ‌کر ایک پوری ریاست کوقید خانہ بنا دینے پر پر صحافیوں، پریس اداروں، میڈیا یونین اور کلب نے جس طرح کا سلوک کیا ہے وہ شرمناک ہے۔عام کشمیری کی تکلیفوں پر اہم رپورٹ، مضبوطی سے ادارتی پوزیشن لینے اور اس پریشان ریاست کے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہونے کی بات تو بھول ہی جائیے، ہندوستانی میڈیا اور صحافیوں کے یونین کا رویہ یا تو مشتبہ رہا ہے یا انہوں نے اپنی طرف سے ہی سینسرشپ تھوپنے کی کوشش کی ہے۔پریس کونسل آف انڈیاصحافیوں کی تنظیم نہیں ہے، لیکن اس سے پریس کی آزادی کے تحفظ کی امید کی جاتی ہے۔ اس کے صدر یکطرفہ طریقے سے کشمیری مدیر انورادھا بھسین کے ذریعے سپریم کورٹ میں ابلاغ پر لگی پابندیوں کو ہٹانے کی بابت دائر ایک عرضی میں بیچ میں کود گئے۔

حالانکہ، کونسل کے صدر کا بن مانگا ہوا نوٹ ابلاغ پر مکمل پابندی اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کورٹ کی مدد کرنے کی پیشکش کرتا ہے، لیکن یہ پوری طرح سے بےکار قدم ہے، جس کی بنیاد اس سوچ پر ٹکی ہوئی ہے کہ پریس کی آزادی کی بات کرتے ہوئے ملکی مفاد کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔یہ پوری طرح سے حکومت کے مفاد کا خیال رکھنا ہے، جو راشٹرواد اور ملکی مفاد کو باقی تمام چیزوں کے اوپر رکھتا ہے، جس میں ذاتی آزادیاں بھی شامل ہیں۔ کونسل کے دیگر ممبروں نے اس پہلو کو پلٹ دیا ہے، لیکن یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح سے اداروں کو پالتو بنا دیا گیا ہے اور مستقبل کی کوکھ میں کیا چھپا ہے؟دہلی پریس کلب نے کشمیر سے ہوکر آئے ایک فیکٹ فائنڈنگ گروپ کو وہاں ریکارڈ کیے گئے کسی ویڈیوکو دکھانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی بیچ انڈین وومینس پریس کارپ، جو صرف خاتون صحافیوں کو اپنا ممبر بناتی ہے،اس نے اس کے احاطے میں پریس کانفرنس کرنے کے لئے بھیم آرمی کے ذریعے کرائی گئی بکنگ کو رد کر دیا۔

حالانکہ، یہ کشمیر کو لےکر نہیں تھا، لیکن اس کے پیچھے بھی دلیل وہی ہے اور اظہار کی آزادی پر حملے میں یہ اپنی مرضی سے حصے داری بےحد شرمناک ہے۔ اور ان میں سے کسی نے بھی اپنے اقدام کی کوئی وضاحت پیش کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی ہے۔کئی مواقع پر میڈیا نے خاموشی بھی اوڑھ لی ہے۔ چھٹی منانے کے لئے ملک سے باہرجا رہے پرنے رائے اور ان کی بیوی رادھیکا کو ایئر پورٹ پر روک لئے جانے پر میڈیا تنظیموں کے ذریعے کوئی بڑی مزاحمت درج نہیں کی گئی، نہ ہی اخباروں میں اس کو لےکر کوئی سخت تبصرہ کیا گیا۔

کئی بڑے اخبار گروپوں کو دیا جانے والا سرکاری اشتہار روک دیا گیا ہے-ان میں سے سبھی حکومت کے تئیں خاص طور پر مخالف رخ نہیں رکھتے ہیں-اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پردے کے پیچھے چھوٹے اور کم رسوخ دار اشاعتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جن کے لئے ایسے اشتہار ان کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔لیکن اس کی شاید ہی کہیں کوئی مخالفت دکھائی دی ہے۔ ویسی اشاعتوں کے ذریعے بھی، جن پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ہندوستان میں اجتماعی صحافتی تنظیم روایتی طور پر کمزور رہے ہیں۔ پرانے پریس یونین غائب ہو چکے ہیں اور یہاں تک کہ اپنے سنہرے دنوں میں بھی وہ تنخواہ اور کام کے حالات میں زیادہ الجھے رہتے تھے، نہ کہ اظہار کی آزادی کے بنیادی مسائل میں۔

پہلے کی حکومتوں کے ذریعے کبھی کبھی پابندیاں لگائے جانے والے اقدام کی مخالفت کی جاتی تھی اور ایمرجنسی کے دوران تھوڑی سی مزاحمت ہوئی تھی، حالانکہ وہ کافی نہیں تھی۔ ہم آج جو دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی فطرت میں الگ ہے۔کافی کچھ پردے کے پیچھے انجام دیا جا رہا ہے اور اخبار کے انتظامیہ اور مدیران نے نہ صرف گھٹنے ٹیک دئے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے چاروں طرف اپنی طرف سے لکشمن ریکھا بھی کھینچ دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی روح میں حکومت کی روح سما گئی ہے اور وہ کسی کی دیوار بننے کی جگہ بچ‌کر رہنا چاہتے ہیں۔یہ صورتِ حال کافی لمبے وقت سے تیار ہو رہی تھی۔ کافی سالوں سے صحافیوں نے یہ پایا ہے کہ وہ کارپوریٹ دنیا کے بارے میں، خاص طور پر بڑے تجارتی گھرانوں کے بارے میں، اتفاق سے جو سب سے بڑے اشتہاردہندہ بھی ہوتے ہیں، کھل کر نہیں لکھ سکتے ہیں۔ آخری بار کب ہم نے کسی کمپنی کے بہی کھاتہ کی بڑی تحقیقات کسی بزنس اخبار میں دیکھی تھی؟

کارپوریٹ رپورٹنگ کے نام پر منافقت کی جاتی ہے، جو کمپنیوں کے پریس ریلیز اور عوامی رابطہ قواعد پر مبنی ہوتی ہے۔ وہاں سے لےکر آج کے منظرنامہ تک، سیاسی رپورٹنگ کے نام پر بی جے پی (اور مٹھی بھر رہنماؤں)کی کامیابیوں کے بیان، حزب مخالف کی ملامت اور حکمراں پارٹی کے خلاف تنقید کی کسی بھی آواز کو دبانے کے علاوہ شاید ہی کچھ کیا جا رہا ہے۔اب کچھ صحافی ایک قدم اور آگے چلے گئے ہیں۔ ارون جیٹلی کی موت کے بعد کچھ سچ مچ میں چاپلوسی والےتبصرہ سامنے آئے۔ صحافیوں میں نہ صرف مرحوم رہنما کے ساتھ اپنی قربت دکھانے کی ہوڑ مچ گئی، بلکہ وہ ان کو اپنا دوست، رہبر اور گرو بھی قرار دینے لگے۔ایک اینکر نے غم میں بھر‌کر-اور شاید ایمانداری کے ساتھ-کہا کہ جن سے وہ ہر صبح بات کرتی تھیں، وہ شخص اس دنیا میں نہیں رہا۔ شاید یہ بات دوسرے صحافی احتیاط سے چھپا لیتے۔ لیکن صرف اس صحافی پر ہی الزام کیوں لگایا جائے جب دوسروں نے بھی ان کے ساتھ اپنے رشتوں کو شوق سے یاد کیا؟

صحافی اب پھونک-پھونک‌کر قدم رکھنا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کچھ بولتے وقت کافی محتاط رہتے ہیں۔ حکومت کو کہیں سے کوئی چیلنج نہیں ملتا-سوشل میڈیا پر تنقید بڑے-بڑے فلسفیانہ الفاظ، خیالی باتوں یا کمزور دلیلوں میں لپٹی ہوتی ہے، یا کبھی یہ دکھانے کے لئے کہ وہ کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتے، فرضی برابری کے لئے کانگریس کو بھی گھسیٹ‌کر لے آیا جاتا ہے۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کے خلاف لگاتار مخالفت کا پرچم بلند کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ جائز دلیل ہے۔ لیکن جب صحافی ‘ملکی مفاد ‘کے نام پر حکومت کے ہر قدم کی طرفداری کرنے لگتے ہیں اور اپنے بچاؤ میں حب الوطنی کی آڑ لیتے ہیں، تب یہ واضح طور پر پیشہ ور انہ اخلاقیات کو طاق پر رکھ دینے کے مانند ہے۔

اقتدار-ادارہ، چاہے وہ حکومت ہو یا حکمراں پارٹی یا اصل میں کارپوریٹ سیکٹر-ہمیشہ رشوت یا دھمکیوں سے کسی کو اپنے میں نہیں ملاتا۔ یہ بس میڈیا کو سسٹم کا حصہ بنا لیتا ہے۔ صحافی حکمرانوں کی بولی بولنا شروع کر دیتے ہے۔ صحافت کسی زمانے میں اقتدار کے سامنے سچ کہنے کا نام تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔(یہ صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہے۔ برٹن میں میڈیا پر مٹھی بھر لوگوں کا تسلط ہے، جن کے اور بھی کئی پیشہ ورانہ مفاد ہیں۔ اس کے علاوہ مدیر، صحافیوں کا پس منظر بھی وہی ہے جو اہم سیاسی اور سرکاری شخصیتوں کا ہے، جس کا نتیجہ دونوں کی قربت کے طور پر نکلتا ہے، جو اصل آزادی پربیڑیاں لگاتی ہے۔)

ہندوستانی میڈیا میں پیشہ ور انہ قدروں کی سطح کا اتنا نیچے گر جانا کوئی اچانک ہوئی چیز نہیں ہے-یہ کئی سالوں سے ہو رہا ہے اور کسی حصے سے اس کی متاثر کن مزاحمت نہیں ہوئی ہے۔ صحافیوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔حکومت کی مداخلت یا انتظامیہ کے دباؤ پر الزام لگانا ایک کمزور بہانا ہے-میڈیا پیشہ وروں نے خود سے ہی اپنے آپ کو اپنے اصولوں سے دور کر لیا ہے۔ وہ بےآواز کو آواز دینے یا حکمراں طبقے سے جوابدہی کی مانگ کرنے والے کے طور پر اپنے کردار کو نہیں دیکھتے ہیں۔ اگر وہ خود سسٹم کا حصہ بن جائیں‌گے، تو وہ سسٹم سے سوال کیسے پوچھیں‌گے؟