بی جے پی آئی ایس آئی سے پیسے لے رہی ہے

اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کے بعد مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگوجئے سنگھ نے کہا کہ بجرنگ دل اور بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے اہلکاروں کو آئی ایس آئی سے پیسے لے کر پاکستان کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش پولیس نے پکڑا ہے ۔ میں نے یہ الزام لگایا ہے ، جس پر آج بھی قائم ہوں۔

نئی دہلی : سینئر کانگریسی رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگوجئے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی اور بجرنگ دل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے پیسہ لے رہے ہیں ۔ ا س کے علاوہ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے لیے مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم جاسوسی کر رہے ہیں۔دگوجئے نے مدھیہ پردیش کے بھنڈ میں سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ باتیں کہیں ، انہوں نے کہا کہ ، بجرنگ دل اور بی جے پی آئی ایس آئی (پاکستان کی خفیہ ایجنسی ) سے پیسہ لے رہے ہیں ۔ ان پر تھوڑا دھیان دیجیے۔انہوں نے کہا کہ ، ایک بات او ربتاؤں پاکستان سے آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی مسلمان کم کررہے ہیں ، غیرمسلم زیادہ کر رہے ہیں ۔ ا س بات کو بھی سمجھ لیجیے۔
انہوں نے اس متنازعہ بیان کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعے ان کی تنقید کیے جانے پر دگوجئے نے اتوار کو ٹوئٹ کیا، کچھ چینل چلارہے ہیں کہ میں نے بی جے پی پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ آئی ایس آئی سے پیسہ لے کر پاکستان کے لیے جاسوسی کر تے ہیں ۔ یہ پوری طرح سے غلط ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ، بجرنگ دل اور بی جے پی آئی ٹی سیل کے اہلکار کو آئی ایس آئی سے پیسے لے کر پاکستان کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش پولیس نے پکڑاہے ۔ میں نے یہ الزام لگایا ہے جس پر میں آج بھی قائم ہوں ۔ چینل والے یہ سوال بی جے پی سے کیوں نہیں پوچھتے۔

وہیں بی جے پی قومی نائب صدر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے دگوجئے پر پاکستان کی زبان بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خبروں میں بنے رہنے کے لیے وہ ایسے بیان دیتے ہیں۔چوہان نے ٹوئٹر پر لکھا ، دگوجئے سنگھ جان بوجھ کر ایسی بیان بازی کرتے ہیں ۔ وہ اور ان کے رہنما پاکستان کی زبان بولتے ہیں ۔ ان کا اعتبار اب بچا نہیں ہے ۔ میں ان کے بیان کو اس لیے سنجیدگی سے نہیں لیتا ، کیوں کہ سارا ملک سنگھ اور بی جے پی کی حب الوطنی کو جانتا ہے، ہمیں دگوجئے جی کے سند کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے لکھا ہے ، دگوجئے سنگھ ، اسامہ جی اور حافظ جی کہنے والے رہنما ہیں ۔ وہ متنازعہ بیان اس لیے دیتے ہیں تاکہ سرخیوں میں بنے رہیں ۔ وہ اور ان کے رہنما جو پاکستان چاہتا ہے وہ بولتے ہیں ۔ ایسے رہنما کو میں نہ سنجیدگی سے لیتا ہوں اور نہ ہی ملک ان پر اعتبا رکرتا ہے۔ چوہان نے کہا ، دگوجئے سنگھ کی خود کی سوچ پاکستان کے ساتھ کھڑ ے رہنے کی ہے ۔ ان کے رہنما راہل جی نے بھی آرٹیکل 370 کے معاملے میں ایسا بیان دیا جس کا استعمال پاکستان نے کیا۔ ایسے رہنما کی بات کا کیا جواب دینا ، ملک سچائی سے واقف ہے۔