بھلا Roy کا بادشاہ سے کیا لینا دینا ہے - عبدالخالق بٹ

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے
تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

شعر منور رانا کا ہے اور اچھا ہے۔ یقیناً منور رانا بھی اچھے ہوں گے ۔۔۔۔۔ مگر ہم جن رانا صاحب کو جانتے ہیں وہ بہت ہی اچھے ہیں۔ پیشہ صحافت سے منسلک ، ہر دل عزیز اور ہمہ جہت شخصیت۔۔۔۔ان کی وجہ شہرت خور و نوش کے باب میں دو اصولوں کی وجہ سے ہے۔۔۔۔ اول: کھانا اگر اپنی جیب سے کھانا پڑ جائے تو اعتدال اور ڈاکٹر کی ہدایت دونوں کو پیش نظر رکھتے ہیں۔۔۔۔دوم: اگر معاملہ کسی دعوت کا ہوتو دنیا کی زندگی کو چند روزہ بتاتے اور کھا پی کر موج اڑانے کوترجیح دیتے ہیں۔اضافی خوبی یہ ہے کہ مباحثے میں سامنے کی بات چٹکیوں میں دھواں کردینے کا فن جانتے ہیں۔اس باب میں وہ آخری گولی پہلے چلانے کے قائل ہیں۔

بات پرانی ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ یاد نہ رہ سکے، کراچی پریس کلب میں ایک روز احباب کے درمیان مختلف الفاظ کی ’جامہ تلاشی‘ جاری تھی، کہ رانا صاحب نے یہ کَہ کر موضوع نبٹا دیا : ’ ضروری نہیں کہ ہر لفظ کے پیچھے کوئی کہانی ہو‘ ۔۔۔۔ پھر بطورِ مثال پہلے اپنا حوالہ دیا، اور عبرت کے لیے ہمیں چُنا۔کہنے لگے : ’ کیا یہ لازم ہے کہ ’رانا ‘ کا بھی کوئی مطلب ہو یا ’ بٹ ‘ بھی کوئی معنی رکھتا ہو‘۔ دلائل سے زیادہ ان کی آواز میں زور تھا اس لیے موضوع لپیٹ دیا گیا۔مگر ہمارے ذہن پر ’ رانا اور بٹ ‘ کے معنی کی تلاش سوار ہوگئی۔

’ بٹ ‘ کے معنی تو ہمیں ذاتوں اور گوتھوں سے متعلق ایک کتاب میں مل گئے۔ جس کے مطابق کشمیریوں کی مشہور ذات ’بٹ‘ کی اصل سنسکرت کا لفظ ’ بھٹارک ‘ ہے۔ جس کے معنی چاروں ویدوں کا عالم یا اسکالر ہیں۔ یہی ’ بھٹارک ‘ بعد میں ’ بھٹ ‘ ہوا جس کی ایک صورت ’ بٹ‘ بھی ہے۔۔۔۔۔’ بھٹ‘ کی رعایت سے جو نام ذہن میں آتے ہیں ان میں ’ پوجا بھٹ ‘ اور ان کی خواہر خوبرو ’ عالیہ بھٹ ‘ سرِ فہرست ہیں۔مگر یہ تصحیح کرلیں کہ اُن کا تعلق اس بھٹ قبیلے سے ہے جو ’ بھاٹیہ ‘ بھی کہلاتا ہے اور جسے ’بھٹ راؤ ‘ سے نسبت ہے، کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔رہی بات ’ بٹ ‘ کی نسبت سے کسی نام کے یاد آنے کی تو ’ گلو بٹ ‘ سارے ’ بٹوں ‘ پر بازی لے گیا ہے۔

صوتی تبادل میں حرف ’ ب ‘ مختلف موقعوں پر حرف ’ واؤ ‘ سے بدل جاتا ہے، اسی تبدیلی کے زیر اثر کشمیر میں ’ بٹ ‘ کی ایک صورت ’ وٹ ‘ بھی ہے۔چونکہ ’ بٹ ‘ کا تعلق خود ہماری ’ ذات ‘ سے تھا اس لیے اس کی تلاش تو بہر حال لازم تھی۔مگر خون ’ رانا ‘ کے معنی کی تلاش نے تُھکوایا۔

اسکول کی ابتدائی جماعتوں میں ’ مذکر سے مؤنث ‘ بنانے کا قاعدہ پڑھا تھا۔ اس میں مذکر پہلے تھا اور مؤنث بعد میں۔ جیسے بکرا سے بکری یا لڑکا سے لڑکی وغیرہ۔ ایک بات جو بعد میں سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ اکثر صورتوں میں ’ مؤنث ‘ بنانے کے لیے یائے نسبتی ’ ی ‘ لگا تے ہیں۔ جیسا کہ’ بکری اور لڑکی ‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک روز جی میں کیا آئی کے مؤنث سے مذکر کی تلاش شروع کردی اور اس کے لیے وہی سامنے کے الفاظ منتخب کیے جیسے ’ پتّی سے پتّا ‘ اور ’ مرغی سے مرغا ‘ وغیرہ ۔ اس مشق کے دوران ’ شیرنی سے شیر ‘ تک پہنچے تو یک دم ذہن ’ رانی سے رانا ‘ کی طرف منتقل ہوگیا، اور یوں لگا جیسے برسوں کی گتھی سلجھ گئی ہو۔بعد میں ہمیں ’ متروک الفاظ کی لغت ‘ میں حوالہ بھی مل گیا کہ ’ رانا کا مطلب سردار، سربراہ اور بادشاہ کے ہیں۔

یہ معلوم و معروف بات ہے کہ ’ رانا ‘ راجپوتوں سے متعلق ہے اور اس کا تلفظ ’ رانڑا ‘ ہے۔ اسی رانا کی دیگر صورتیں ’ راؤ اور رائے ‘ ہیں ۔ اب ’ را ئے ‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے انگریزی کے Roy پر غور کریں ۔اسی Roy سے ہندُستان میں تعینات ہونے والا برطانوی بادشاہ کا نائب ’ Viceroy ‘ بھی ہے۔ پھر لفظ Royal بھی ہے جو شاہی سے متعلق ہے۔
رانا یا راجا کو فارسی میں ’ پادشاہ ‘ کہتے ہیں۔چونکہ اردو میں ’ پادشاہ ‘ کے جز اول سے ’ بدبو‘ کا تصور وابستہ ہے، اس لیے اردو میں اسے ’ بادشاہ ‘ بنا لیا ہے۔فارسی کا ’ پادشاہ ‘ دولفظوں ’پاد‘ یعنی ’محافظ ‘اور ’ شاہ ‘ یعنی ’اعلیٰ‘ سے مرکب ہے۔ یوں اس کے معنی ہوئے ’ محافظ اعلیٰ‘۔

شاہ کے معنی اور مفہوم میں بڑا ، بزرگ ، عظیم تر ، برتر ، قوی کے ساتھ كمیت یا كیفیت کے اعتبار سے بہترین ، عمدہ ، اچھا اور معیاری بھی شامل ہے۔ جیسا کہ عام مشاہدہ ہے کہ کتنے ہی جانور اپنی حفاظت اپنے سینگوں سے کرتے ہیں۔اسی رعایت سے قدیم زمانے سے ’ سینگ ‘ حفاظت کا ’ نشان ‘ سمجھے جاتے ہیں۔شمالی یورپ کی مشہور جنگ جُو قوم وائی کنگ (Viking) اپنے سینگوں والے آہنی سرپوش (ٹوپی) کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی۔

دنیا کے عظیم فاتحوں میں سے ایک ’ سائرس اعظم ‘ کو فارس سے نسبت تھی۔ ’پاسادگار‘ (ایران)میں اس کے آثار آج بھی موجود ہیں جہاں دیوار پر کندہ اس کے تصویر میں اسے سر پر سینگ سجائے دیکھا جاسکتا ہے۔کئی مفسرین قرآن کے نزدیک قرآن کا ’ ذوالقرنین ‘ یعنی ’ دوسینگوں والا ‘ دراصل یہی ’ سائرس اعظم ہے۔

سِینگ کو فارسی میں ’شاخ‘کہتے ہیں۔فارسی میں جھوٹی،محال اور ناممکن بات کے لیے محاورہ ہے: ’ براتِ عاشقاں بر شاخِ آہو ‘۔۔۔۔ یعنی عشاق ہرن کے سینگوں پر برگ و بار آنے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔

چوں کہ قبیلے یا قوم کا سردار بر بنائے عہدہ اپنے لوگوں کا محافظ ہوتا تھا اس لیے وہ علامتی طور پر سر پر شاخ (سینگ)سجائے رہتا تھا۔صوتی تبادل کے عام اصول کے مطابق حرف ’خ‘ اکثر صورتوں میں حرف ’ح‘ یا ’ہ‘ سے بدل جاتا ہے۔ جیسے مشہور امیر البحر ’خیر الدین باربروسا‘ ترکی زبان میں ’حیر الدین باربروسا‘ ہے۔ اس کے برخلاف مشہور صوفی شاعر ’رحمان بابا‘ پشتو میں ’رخمان بابا‘ ہیں۔ 1970 میں سندھ کے گورنر لیفٹینٹ جنرل ’رخمان گل‘ تھے۔ وہ اپنا نام اردو ہی نہیں انگریزی بھی’ رخمان ‘ ہی لکھتے تھے۔اسی صوتی تبادل کے نتیجے میں فارسی ’شاخ‘ بعد میں ’شاہ‘ہوگیا اور اس کے معنی میں بادشاہ اور بزرگ وغیرہ شامل ہوگئے۔

اردو میں بادشاہ کی زوجہ کو ’ملکہ‘ کہتے ہیں۔ ہمیں یہ بات اس لیے سمجھ نہیں آئی کہ عربی زبان میں بادشاہ کو ’ مَلِک ‘ کہتے ہیں اور اس کی زوجہ ’مَلِکہ‘ ہوتی ہے۔ ہمارا سوال یہی تھا کہ عرب کی ’ملکہ‘ فارس میں کیا کررہی ہے؟ ۔بہر حال کھود کرید پر بادشاہ کی اصل زوجہ کو ڈھونڈ نکالا، جسے فارسی میں شاہ کی نسبت سے ’ شاہ بانو ‘ کہتے ہیں۔قبل اس کے کہ پادشاہ و شاہ بانو سے بات حرم شاہی تک جا پہنچے ہمیں اجازت دیں۔
بشکریہ اردونیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.