منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟ - انوار احمد شاہین

آسٹریلیا میں سری لنکا کی تامل آبادی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے دو شیر خوار بچوں سمیت ایک چار رکنی خاندان کی جبری ملک بدری کے خلاف ایک جج نے طیارے کے پائلٹ کو فون کر کے اس ہوائی جہاز کو دوران پرواز ہی واپس بلا لیا۔تامل میا ں بیوی کشتیوں کے زریعے سفر کر کے علیحدہ علیحدہ 2012 اور 2013 میں پناہ کی تلاش میں آسٹریلیا پہنچے تھے ان کے دوسال اور چار سالہ بچیوں کی پیدایش آسٹریلیا میں ہی ہوئی تاہم ان کو وہاں کی شہریت نہیں دی گئی۔

ان کی ملک بدری کے لیے طیارہ فضا میں بلند ہو چکاتھا جب میلبورن کی خاتون جج نے پائلٹ کو فون کر کے اس کو طیارہ واپس زمیں پر لانے کا حکم دیا اور کہا کہ مزکورہ تامل خاندان کو حکام کے حوالے کرے جنہوں نے ان کو ملک بدری کے لیے احکامات دیے تھے۔ ہمارے منصفوں کی تاریخ نظریہ ضرورت پر مبنی ہے ۔ سرکار کی حمایت کے لیے عدالت کے اوقات بھی تبدیل کر دیے جاتے ہین اور دوران سماعت ججز کا تبادلہ بھی کر دیا جاتا ہے ۔ ابھی ڈیم والے بابا نے لن ترانیوں کا طوفان برپا کر رکھا تھا ۔ فیصلہ تو کوئ بھی نہیں کر سکے ۔ ان تمام معا ملات میں بھر پور حصہ لیا جو کہ عدالت سے باہر تھے ۔ ڈیم بنانے کا ٹھیکہ لیا اور ریٹا یرمنٹ کے فورا بعد یہ جا وہ جا ۔ گوروں کے دیس سدھارے۔ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
یا د رکھیئے!! جب تک اپنے ملک میں اپنے عوام کو سستا اور جلد انصاف مہیا نہیں ہوگا اس وقت تک بین الاقوامی سطح پر انصاف کے حصول کی توقع فضول ہے- ہمارے ملک کی بقا اور ترقی کا دارومدار ادراوں کی مضبوطی اور ان کی حدود کے تعین میں ہے-
شاید کہ تیرے دل مین اتر جاۓ میری بات