حکومتی سیاہ کاریاں، سفید جھوٹ - محمود فیاض

مسئلہ یہ ہے کہ آپ قوم کے غریب عوام سے وعدہ کر کے آئے تھے کہ کاروباری کے بھیس میں چھپے مافیا کی بلیک میلنگ سے عوام کو نجات دلائیں گے۔ آپ کی تقریریں جو ایسے ہی قرضوں اور سبسڈیوں کے خلاف ہیں، آج بھی میڈیا پر نشر ہو رہی ہیں۔ غریب قوم پچھلے ایک سال سے مزید غربت اور ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ اس امید پر سہہ رہی ہے کہ "اپنا ٹائم آئے گا"، اور آپ نے پہلی دو حکومتوں سے بھی بدتر کام کیا۔

نواز زرداری حکومتوں نے ان کاروباریوں سے گٹھ جوڑ کے باوجود ان کو یہ رعایت نہیں دی تھی، اور عدالتوں میں کیسز چل رہے تھے۔ آپ نے پہلے اپنی طفلانہ حرکات سے ملکی معیشت کا پہیہ جام کروا لیا۔ کاروباری جو آپ کے آنے پر خوفزدہ تھے، ٹیکس دینے کی تیاری کر رہے تھے، آپ کی "گڈ گورننس" پر اور شیر ہو چکے ہیں۔ اب آپ ان سے ٹیکس نکلوا کر دکھائیں، آپ کا سارا زور بھی غریب عوام پر چلنا ہے، جو پہلے ہی مرے ہوئے ہیں۔

مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق آپ نے تو عوام پر دوہرا ظلم کیا ہے۔ پہلے معیشت اور عوام کی بہتری کے نام پر پورے ملک میں اکھاڑ پچھاڑ کر کے معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا۔ اور اب انھی مافیاؤں کے سامنے طفل مکتب بنے بیٹھے ہیں۔

آج آپ کے "بزرجمہر" ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ اگر ہم مزید کیس لڑتے تو کاروباریوں نے یہ دو سو آٹھ ارب بھی نہیں دینے تھے، ہم کیس ہار جاتے۔ تو بھائی ہار جاتے، پہلے کون سا دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں کہ کیس ہارنے سے نقصان ہونا تھا۔ ہزاروں ارب جہاں ڈالر کا بیڑہ ایک ہفتے میں غرق کرنے پر ڈوب گئے ہیں، وہاں ان دو سو آٹھ ارب کی کیا اوقات تھی؟ کم از کم حکومت کیس ہار کر عوام کو یہ تو کہہ سکتی تھی کہ ہم نے اپنی پوری کوشش کی۔

اصل بات جو آپ کہنا نہیں چاہتے وہ یہ ہے کہ آپ کی کل عقل و دانش اور مہارت فیل ہو چکی ہے۔ آپ انہی "ان پڑھ جاہل پٹواری" کاروباری کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں جن کے ہاتھوں میں پرانی حکومتیں کھیلتی تھیں۔ وہ کرپٹ حکومتیں آپ سے سیانی تھیں، کم از کم اپنے لیے اربوں کے کک بیکس اور کمیشن تو بنا لیے، آپ نے تو یہ کام ایمانداری اور عوام کی بہتری کے نام پر کیا ہے۔

چمکتے سورج اور برستی بارش کو جھٹلانے والے ہمارے یہاں بہت ہیں۔ مگر وقت تو گذر رہا ہے۔ ایک سال ہو گیا ہے، جو کچھ عوام کو سامنے زمینی حقیقت کے طور پر نظر آ رہا ہے اس کو کب تک آپ کے "کوڈے" کور کر پائیں گے؟

گورننس کا حال یہ ہے کہ فرات کے کنارے پیاسا کتا مرے نہ مرے، ہماری جیلوں میں بیگناہ تشدد کر کے مارے جا رہے ہیں، گلیوں میں بچے ڈکیتیاں کر رہے ہیں، بجلی کے کھمبوں سے نوجوان مر رہے ہیں، اور ساہیوال سانحے جیسے واقعات آپ کی حکومت کے منہ پر ویسی ہی کالک مل رہے ہیں جیسی گذشتہ حکومتوں کے منہ پر ہم آپ کی حمایت میں ملا کرتے تھے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.