سناٹے میں شور بہت ہے - سمیرا امام

ننھو من موجی کے جیون کی ڈھب ہی نرالی تھی۔ پیدا ہوا تو باوا گزر گئے۔ مَیَّا نے ہتھیلی کا چھالا بنایا، نہ دن کی فکر نہ رات کا ہوش۔ ذمہ داری، بردباری کس بَلا کے نام ہیں ننھو کی جانے جوتی۔

وہ ہنسی موج مذاق کا آدمی تھا۔ اِس بیٹھک کی شان، اُس چوپال کی آن۔ جہاں بیٹھتا سماں باندھ دیتا۔ خوش گپیوں، چٹکلوِں، سے مالامال تھا۔ وجاہت گھر کی دیوی نہ تھی لیکن لڑکیاں بالیاں ننھو کی دیوانی تھیں۔ وہ باتیں بگھارنے کاماہرتھا۔ لڑکیاں ہنسی ٹھٹھے پہ فدا ہوئی جاتیں۔

ننھو نے سنجیدگی نام کی چڑیا کے کبھی درشن کیے ہی نہ تھے۔ وہ محفل کی جان تھا جہاں ہوتا لوگ باگ گھیرا ڈال کے بیٹھ جاتے۔ وہ ہر بات پہ لطیفہ کہتا شان سے کِلی اڑاتا عام سی بات پہ ایسا چٹخارہ بھرتا کہ سننے والے لوٹ پوٹ ہوئے جاتے۔ ننھو کی ان حرکتوں سے اوباش، آوارہ متاثر رہتے اور شرفاء سے اس کو کبھی واسطہ پڑا نہیں تھا۔

کہتے ہیں ہر سیر پر سوا سیر ہو تا ہے۔ ننھو پر سوا سیر ماسٹر رام لال بن کر آئے۔ ماسٹر رام لال منخنی وجود اور ناٹے قد کے شدھ بنگالی تھے۔ ننھو ہنسی تماشے کا بادشاہ تو رام لال کی جیون میں ہنسنے کا دن فقط ایک بار آیا تھا جب ان کی مائی بر دکھاوے کے لیے یہ کہہ کر لے گئی تھیں کہ مسکرائے گا تو جورو آئے گی۔ ورنہ ایسے ہونٹ سیے کو کوئی لڑکی قبول نہ کرے گی۔ اس دن ماسٹر جورو پانے کی خاطر سارا دن دھیمے دھیمے مسکاتے رہے۔

جوں ہی لڑکی کے ابا مانے، رام لال کے چہرے پر سنجیدگی ڈیرا ڈال کے بیٹھ گئی۔ بعد میں جورو آٹھ آٹھ آنسو روتی دہائیاں دیتی، رام لال کے دھوکے نے ناری کو آگ میں لا جھونکا۔ نہ وہ اس دن بھانچیں کھلا کے بیٹھتا نہ ہی دونوں کی کنڈلی ملتی۔

گاؤں والے نئے نئے آئے اکلوتے ماسٹر کی آؤ بھگت اور دل بستگی کی خاطر ننھو کو پکڑ لائے۔ ننھو لفظوں کا کھلاڑی، جملے پہ جملہ پھینکے جاتا۔ لڑکے ہنسی سے دوہرے ہو جاتے اور ماسٹر ٹھس بیٹھا پتھر کا مجسمہ لگتا۔

رام لال کی سنجیدگی نے ننھو کے دل پہ گہرا وار کر ڈالا۔ وہ ہر چٹکلے کے بعد ماسٹر کو گوتم بدھ بنا دیکھ کے کوفت سے پاگل ہوجاتا۔ اگلے جملے کی مزید نوک پلک سنوارتا اور ایٹم بم کی صورت داغ دیتا۔ لیکن ماسٹر کا دل اور دماغ ہیرو شیما نہ بن سکا۔

اپنے فن کا یہ حشر ننھو نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ وہ غم و غصے میں مبتلا ہو گیا۔ چاہتا تھا چیخ چیخ کے پوچھے کون کافر ہے یہ جسے کے ہونٹ کسی ویرانے کی چڑیل نے سی ڈالے ہیں۔ رام لال ننھو کے جذبات سے بے نیاز سپاٹ انداز میں پالتی مارے بیٹھے تھے۔ ننھو کی من موجی طبیعت پہ پہلا وار ماسٹر کی سنجیدگی کی صورت ہوا تھا۔ بھلا یہ کیسا آدم زاد ہے جسے مسکرانا نہیں آتا۔

محفل کے اختتام تک ماسٹر رام لال ہی رہا لیکن ننھو من موجی نہ رہا تھا۔ اسے دل کا روگ لاحق ہوگیا تھا۔ ایسا بھی کوئی ہوسکتا ہے جو ننھو سے ملے اور خود کو بھول نہ جائے۔ لیکن ایسا ہو چکا تھا۔ ننھو کی چمک ماند پڑ گئی تھی۔ اسے غم نے آلیا تھا۔ اس کے ذہن پہ رام لال کا چہرہ نقش ہو کے رہ گیا تھا۔ وہ کیوں نہیں ہنسا؟ وہ کیوں خاموش رہا؟

دن رات صبح شام بس ماسٹر رام لال نتھو کے دماغ پر چھایا رہتا۔ اسی غم نے ننھو کو بستر سے لگا دیا۔ ماسٹر اسکول کے بچوں میں گم ہو کے ننھو کو کب کا بھول بھال چکا تھا۔
گاؤں کے لوگ آتے ننھو کو دیکھتے آہیں بھرتے اور یہ کہہ کہ چل دیتے کہ ننھو پہ بھوت پریت کا سایہ ہو گیا ہے۔ ننھو من موجی اب ننھو آسیبی ہو چلا تھا۔ ذات کے زعم میں گم من اور موج کا کھلاڑی ذات کی نفی سہہ نہ پایا۔

بھوت پریت اور آسیبوں نے خلقِ خدا کی ہر الجھن کا ذمے دار بننا قبول کر لیا ہے۔ ننھو قصہ پارینہ ہوگیا اور دنیا نہیں جان پائی کہ ننھو کو کیا فکر کھا گئی۔ تالیوں کی گونج میں رہنے والا سناٹے کا صرف ایک لمحہ سہہ جاتا تو آج کہانی کچھ اور ہوتی۔