ٹرمپ کی کشمیر پر خاموشی، خود سر لیڈروں کے لیے غلط پیغام - ڈیوڈ پی میرز

جب ہم سمجھنے لگے تھے کہ نام نہاد جمہوریتوں کی آستینوں کے سارے کرتب دیکھے جا چکے ہیں کہ اچانک ہی حیران کن نیا کرتب سامنے آیا۔ جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر جو 70 سال سے پاک بھارت تنازعے کی جڑ ہے، کی طویل عرصے سے قائم خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا۔

یہ علاقہ 1947ء سے جب بر صغیر دو حصوں (پاکستان اور بھارت) میں تقسیم ہوا تو بھارت کو ملا تھا۔ لیکن بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے مطابق اسے سوائے دفاع اور خارجہ تعلقات کے بڑی حد تک خود مختاری دی گئی ہے، جس کا اب تک بڑی حد تک احترام کیا گیا، لیکن حال میں بھارتی صدر رام ناتھ کووند جو کہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر ہیں، نےوزیر اعظم کے متعدد اقدامات کے نتیجے میں اس خود مختاری کو ختم کر دیا۔ راتوں رات کشمیر کی تاریخی حیثیت ختم کردی گئی، ایک کمیونیکیشن بلیک آؤٹ نافذ کردیا گیا۔ اس کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو بھارتی سرکار نے گرفتار کرلیا۔

یقیناً اس اقدام کے پیچھے کہانی ہے، مسلمان اس ریاست کی 70 فیصد آبادی ہیں، اور مودی کے بی جے پی کے لیے مستقل سردرد اور خطرہ ہیں، جو بھارت کو نسلی طور پر ”خالص ہندو“ بنانا چاہتی ہے۔

اب چونکہ مودی 2019ء کے انتخابات میں بہت بڑی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو کر طاقت اپنے ہاتھوں میں مرکوز کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے، اس لیے وہ بی جے پی کے تصوراتی ”خالص ہندو بھارت“ کی طرف تیزی اور دلیری کے ساتھ جانا شروع کر دیا ہے، جس کا بھارتی آئین میں دی گئی انصاف، آزادی، برابری کی ضمانتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اگر اس معاملے کا مقامی تناظر ہے تو بین الاقوامی بھی۔ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جو ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان جیسوں کا ہے، اسے جعلی یا نام نہاد جمہوریت کہا جا سکتا ہے۔ ( یہ سب ووٹ لیکر منتخب ہوتے ہیں لیکن جمہوری رویوں سے کوسوں دور ہیں) اس کے سب سے بڑے وکلاء میں اوربان، مودی، پیوٹن، نیتن یاہو اور ہمارے اپنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کہانی… (13) - رؤف کلاسرا

یہ سب ایک جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اپنے مخالفین کی توہین اور تذلیل کرتے ہیں (زیادہ تر شوشل میڈیا پر)۔ اقلیتوں، تارکین وطن اور غریب طبقے کے خلاف اشتعال انگیز، جھوٹے اور اکثر نسل پرستانہ زبان و نعرے بلند کرتے ہیں۔ سرحدوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے اور پُرامن اور قانون پسند رہائشیوں جوکہ نسلی، زبانی یا مذہبی طور پر ان سے مختلف ہوں، کو جلاوطن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب تو ان میں سے کچھ اپنے خیالی دشمنوں کے خلاف علاقائی تنازعات میں جارحانہ رویے کو جائز کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑنے بھی کوئی عار نہیں سمجھے۔ اس معاملے میں روسی صدر پیوٹن اس نام نہاد جمہوری لیڈروں کے کلب میں اولیت کا حامل ہے۔ اس نے 2014ء میں مغربی یوکرائن پر قبضہ کر کے ایک راستہ دکھایا۔ حالانکہ ساری دنیا بشمول اقوام متحدہ اس حرکت کو غیر قانونی قبضہ قرار دیتی ہے لیکن پیوٹن اور اس کے چمچے اسے کریمیا کے عوام کی مرضی کا نفاذ قرار دیتے ہیں۔ یورپین یونین اور امریکی پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ پیوٹین ابھی تک اتنا ہی ظالم اور مضبوط ہے، جتنا پہلے تھا۔

ابھی مودی بھی یہی کچھ کشمیر میں کر رہا ہے، جب دنیا دیگر کئی مسائل میں پھنسی ہوئی ہے، امریکہ میں عوامی مقامات پر شوٹنگ، برطانیہ کا یورپین یونین سے افراتفری کے ساتھ اخراج اور ماحولیاتی تبدیلیاں وغیرہ وغیرہ، بھارتی افواج نے بظاہر امن و امان اور معاشی ترقی کے بہانے اپنی کارروائی ڈال دی اور دنیا نے چوں تک نہیں کی۔

دنیا کے اس غیر مؤثر ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پہلے کریمیا پھر کشمیر، اب صرف وقت کی بات ہے کہ ایک اور جعلی جمہوری کارروائی ڈال دی جائے، اور اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو جو کہ اس وقت ایک مشکل انتخابی مہم میں مشغول ہے، ممکن ہے کہ مغربی کنارے کو بھی ضم کرنے کا فیصلہ کر لے۔

یہ بھی پڑھیں:   اے کاشمیر! تیری جنت میں آئیں گے ایک دن قدسیہ ملک

بھارت و پاکستان، اور اسرائیل و فلسطین کی صورتحال میں بڑی مماثلت ہے۔ دونوں بر طانوی راج کے خاتمے کا نتیجہ ہیں۔ دونوں مغربی کنارے اور کشمیر کی آبادی اپنے ممالک کی اکثریت اور نسلی خالص چاہنے والوں میں مخالف اور ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں مودی اور نیتن یاہو اپنے ممالک کی مسلمان آبادی کے لیے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز زبان کے استعمال میں کوئی تکلف نہیں برتتے۔ دونوں کو ٹرمپ کی عملی یا (حمایت انگیز) خاموشی کی مدد حاصل ہے۔ اگر نیتن یاہو اپنے وقتا فوقتا دیے جانے والے اعلان کہ وہ مغربی کنارے اور اس کے تین ملین فلسطینیوں کو اسرائیل میں ضم کر لے گا، پر عمل کر ڈالے تو ٹرمپ کیا کرے گا؟ کیا وہ اور اس کے ساتھی جعلی جمہوری یہ کہیں گے کہ یہ نیا ورلڈ آرڈر ہے؟

ممکن ہے ایسا ہی ہو، اسی لیے جب بھی نام نہاد جمہوری لیڈر اپنی طاقت کو غیر جمہوری اور غیر قانونی طریقے سے بڑھانے کی کوشش کریں تو ہم سب پر لازم ہے کہ کھڑے ہو کر احتجاج کریں۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنے ممالک میں سول سوسائٹی کے اداروں کے ساتھ مل کر شہریوں کے برابری کے حقوق کے لیے مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر جدوجہد کریں۔ ہم سب اس بات پر اصرار کریں کہ جمہوری ممالک جمہوریت کے عظیم اصولوں پر جو ان کے آئین اور دیگر دستاویزات میں تحریر شدہ ہیں، پر پورا پورا عمل کریں، کہ یہی آج کل کے جعلی جمہوری معاشرے میں، نسلی اور مذہبی و لسانی تعصب کے زہر کا بہترین تریاق ہے۔

(ڈیوڈ پی میرز یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں یہودیت کی تاریخ کے پروفیسر ہیں اور لسکن سینٹر برائے تاریخ و پالیسی کے ڈائریکٹر ہیں۔ اردو ترجمہ : اعظم علی)