تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

اس روڈ پر تین چار نجی سکول تھے۔ چھٹی کے بعد وہی اکیڈمی اور ٹیوشن سنٹر بن جاتے۔ اسی روڈ پر سٹیشنری کی بہت بڑی دکان تھی۔ بچوں کے لیے اعلی سے اعلی اور مہنگی ترین پنسلیں اور پین یہاں موجود تھے جو بچے ضد کر کے لے ہی لیتے۔ سکول ٹائم سے اکیڈمیز آف ہونے تک وہاں رش رہتا۔

کچھ دن سے وہ دیکھ رہی تھی کہ ایک اسکول سے ذرا ہٹ کر ایک باریش بزرگ جن کی عمر تقریبا اسی سال تھی، یا شاید اس سے کچھ اوپر ہی ہوں گے، زمین پر کپڑا بچھائے دو تین درجن پینسلیں، کچھ ربڑ اور شارپنرز سجا کر بیٹھے تھے۔ میرب سوچنے لگی کہ کوئی اتنی بڑی دکان چھوڑ کر اس چادر بچھائے بزرگ سے کیا لے گا۔ وہ بزرگ کبھی اس شاندار دکان کو دیکھتے اور کبھی اپنی چیزیں نئے سرے سے ٹھیک کرنے لگتے۔ میرب کو بہت دکھ ہوتا یہ سب دیکھ کر۔ آج بھی وہ جب اپنے بیٹے کو سکول چھوڑنے گئی تو دیکھا کہ ان بزرگ کی چادر پر اب ایک ٹافیوں کا پیکٹ پڑا ہوا تھا۔ جب وہ علی کو سکول چھوڑ کر واپس آئی تو بابا جی سے ٹافیوں کا پورا پیکٹ خریدا، ایک درجن پنسل لی، کچھ شارپنرز اور ربؤ بھی خریدے ۔ لگ رہا تھا کہ بڑے عرصے کے بعد کوئی خریدار ملا ہے۔ میرب کے دل میں ایک بات تھی جو اس کی زبان پر آگئی۔

بابا جی! میں آپ سے ایک بات پوچھوں، پلیز آپ برا مت مانیے گا۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ آپ اس شدید دھوپ میں آرام کرنے کے بجائے کام کر رہے ہیں۔ کیا آپ کی کوئی مجبوری ہے یا آپ کو کما کر کھلانے والا کوئی نہیں؟ دل میں تو یہی خیال آیا کہ یا کمانے والا کوئی نہیں یا کھلانے والا کوئی نہیں۔ جب پوچھا تو بابا جی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور جو رومال گرمی سے بچنے کے لیے اپنے سر پر لپیٹا ہوا تھا، اسی سے ہی اپنے آنسو اور منہ صاف کیا، اور بولے، تین بیٹے ہیں، میرا اللہ ان کو سلامت رکھے، وہ کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں ہم صرف اپنا اپنا گھر ہی چلا سکتے ہیں، اتنی گنجائش نہیں کہ آپ کو کچھ دے سکیں۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنی پینسلیں سیٹ کرنے لگے۔ بیٹا! مجھے بھی تو جینا ہے، جب تک سانس ہے تین نہیں تو دو وقت کی روٹی تو میری ضرورت ہے۔ میرب بھاری دل اور بھاری قدموں کے ساتھ گھر واپس لوٹ گئی۔ رستے بھر سوچتی رہی کہ والدین اولاد کو کتنی محبت اور شفقت سے پالتے ہیں، اپنی ضرورتیں روک کر اولاد کے شوق پورے کرتے ہیں، اور اولاد کیا کرتی ہے کہ تین بیٹے ایک والد کو پاس نہیں رکھ سکتے۔