کشمیر آور اور صحیح مؤقف - شبیر بونیری

مودی کیا یوں اچانک دنیا کے منظر نامے پر نمودار ہوا۔ کیا گجرات میں جن مسلمانوں کو تہ تیغ کیا گیا وہ کشمیری تھے۔ ہرگز نہیں مودی آیا نہیں بلکہ اس کو لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف اس منحوس ایجنڈے پر کام شروع کیا جا سکے جو ہزاروں سال سے اسلام کے دشمنوں کا رہا۔ پہلی صلیبی جنگ وسائل کے حصول کے لیے نہیں لڑی گئی بلکہ ایک عیسائی راہب پوری صلیبی دنیا میں گھوما تھا اور مسلمانوں کے خلاف دن رات زہر اگل کر ہی عیسائی دنیا کو تیار کیا تھا کہ بیت المقدس پر حملے اور قبضے ہی میں ہماری نجات ہے۔ جنگ کے لیے جب لشکر تیار ہوا تو اس میں یہودیوں کا جذبہ بھی مسلمانوں کے خلاف قابل دید تھا۔ یہ ہندو، عیسائی اور یہودی ہمارے دشمن ہیں مگر ہم ہیں کہ ناسمجھ ہیں۔

ہم لاکھ کوشش کریں عالمی منظرنامے کو وسائل کے حصول کا جنگ قرار دینے پر لیکن مرتے تو پوری دنیا میں مسلمان ہی ہیں۔ کشمیر ہی کو دیکھیے ستر سال سے کیا بے گناہ نہیں مر رہے۔ مودی کی حکومت نے راہول گاندھی کو اجازت نہ دے کر ہی تو ثابت کیا کہ وہاں جو ہو رہا ہے انسانی حقوق کی پامالی ہی ہے۔ بھارتی صحافی رعنا ایوب جو حال ہی میں مقبوضہ وادی سے واپس آئی ہیں، نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا جو بازار گرم ہے، آج سے پہلے کھبی نہیں دیکھا۔ خون آشام شاموں میں دس سال کے بچے کو بھی نہیں بخشا جارہا۔ نوجوانوں کو الیکٹرک شاکس دیے جا رہے ہیں اور عورتوں کو زدوکوب کیا جا رہا ہے۔ جس دن وہ یہ ٹویٹ کر رہی تھی اسی دن بھارتی آرمی چیف جنرل راوت سرینگر میں دس ہزار نہتے قیدیوں اور کرفیو میں تین ہفتوں سے دبے ہوئے بےگناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظالمانہ شیلنگ کا نظارا کر رہا تھا۔

اسی دن پاکستان میں کشمیر آور کے نام سے پورا ملک کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ عام لوگوں سے لے کر ملک کے وزیراعظم تک سب نے کشمیر آور میں پورے جوش و جذبے سے شرکت کر کے دنیا پر یہ واضح کردیا کہ کشمیر کے بے گناہ اکیلے نہیں اور اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا تو پھر اس مسئلے سے پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خالص "جماعتیے" کے جے این یو کے دورے پر تاثرات - تزئین حسن

اس سے ایک دن بعد آسام میں مودی نے بھارتی شہریت سے متعلق لسٹ جاری کردی اور اس میں بہت سارے مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جن کی تعداد 20 لاکھ ہے۔ یہ رجسٹریشن کیوں کی جا رہی ہے اور اس کے اثرات بھارت پر کیا ہوں گے، کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ مودی کی جنونی حکومت مسلمانوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ مودی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حد سے تجاوز کر رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کشمیر کے مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ یہاں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت جس نے ہمیشہ ہم کو ایک بننے کا موقع فراہم کیا کیا اس بار بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجائے گا یا کیا پاکستانی قوم کے اس جذبے کو عالمی دنیا میں توجہ حاصل ہوسکتی ہے اور کیا اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک پیچ پر ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قومی مسئلوں پر یک زباں ہونا ملک کی ترقی میں کتنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہم اگر پوری دلجمعی سے اس پورے منظرنامے کا جائزہ لیں تو ہم تحریک انصاف کے مرکزی حکومت کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ شاید ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیے گئے اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جو سب سے اہم بات کی، وہ یہ تھی کہ کشمیری اگر مسلمان نہ ہوتے تو پوری دنیا بھارت کے ظلم و ستم پر واویلا مچاتی۔ یہی سب سے اہم بات ہے جس کو محسوس کرنے کے لیے ہم حقیقت سے اب بھی کوسوں دور ہیں۔

پوری دنیا میں مسلمان در بہ در اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور بعض نام نہاد دانشور اس لڑائی کو صرف وسائل کی لڑائی قرار دے کر داد تحسین وصول کر رہے ہیں۔ فلسطین میں یہودی ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور مسجد اقصیٰ کے وجود کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن وہاں کے ظلم پر بھی وسائل کا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔ اس موضوع پر سیر حاصل کالم پھر کبھی، فی الحال کشمیر کا ایشو جو سات عشروں سے چل رہا ہے، پر اب تک کچھ لوگ سیاست چمکا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

اکتوبر کا مہینہ تاریخ پاکستان میں ہر طرح سے اہم رہا ہے اور اس بار بھی اپوزیشن والے انگڑائیاں لے رہے ہیں کہ حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے اور تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حکومت گرا نہ لیں۔ تاریخ لکھی جاتی ہے اور اس میں کسی کو معافی کبھی نہیں ملتی، اور ہم آج کل جس دوارہے پر کھڑے ہیں، اس میں ہمیں ایک ہونے کی بہت ضرورت ہے۔

سیاست کی بات پھر کبھی سہی، آؤ کہ اس مسئلے پر ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ظلم کے آگے ڈھال بن جائیں۔ حکومت کو پھر بھی گرایا جاسکتا ہے۔ آج اگر ضرورت ہے تو ایک ہونے کی۔ ہم پاکستان میں رہ کر ہی سیاست کرسکتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے مقبوضہ کشمیر اگر ان کی جھولی میں بھی ڈال دیا جائے تو پھر بھی یہ باز نہیں آئیں گے۔ ان کی نظریں ہمارے ملک کے وجود پر ہیں۔ یہ چاہتے ہی نہیں کہ دنیا میں پاکستان باقی رہے اور یقیین اگر نہ ہو تو تاریخ پڑھ کر فیصلہ کیجیے۔

ہمیں معلوم ہے کوتاہیاں ہزار ہیں لیکن یہ وقت موزوں نہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا۔ آؤ کہ آج فیصلہ کریں کہ یہاں اپوزیشن اور حکومت کی تقسیم سرے سے موجود ہی نہیں۔ ہم ایک ہیں، اور بات جب ملکی سالمیت کی آتی ہے تو پھر ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر صرف دشمن پر ہی اپنی عقابی نظریں رکھتے ہیں۔