طفیل ہاشمی کے مؤقف پر چندگزارشات - مولانا محمد جہان یعقوب

پروفیسر طفیل ہاشمی ایک ریٹائرڈ استاذ ہیں، اس عمر کے دانشور جس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں، ویسی حرکتیں وہ بھی کرتے رہتے ہیں، بزرگ جان کر ان طِفلانہ حرکتوں پر اہلِ دانش سکوت اختیار کر جاتے ہیں کہ عمر کا تقاضا ہے، لیکن بعض اوقات وہ کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتے ہیں۔

مودی کو ایک عرب ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دیے جانے پر اہلِ علم نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا، کرنا بھی چاہیے، لیکن اِس واقعے کو عرب دشمنی اور اس سے آگے بڑھ کر ایک فرقے کے قدم سے قدم ملا کر صحابہ دشمنی کے اظہار کے لیے استعمال کرنا کسی طرح قابل ِبرداشت نہیں۔ وہ ہاشمی ہوں یا کوئی اور، جو بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے خلاف سوقیانہ زبان استعمال کرے گا، یا کسی بھی طرح اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرے گا، اسلامیانِ پاکستان اس کو لگام ڈالیں گے۔ صحابہ کی محبت ایمان کاحصہ ہے اور اہلِ ایمان ایسے معاملات میں ہر طرح کی رواداری کو بالائے طاق رکھنا اپنا ایمانی تقاضا سمجھتے ہیں۔

ملاحظہ کیجیے پروفیسر موصوف کی فرقہ وارانہ لن ترانیاں، اور اس پر ہماری گزارشات!

لکھتے ہیں: وہ عرب ہی تھے جنھوں نے نبی اکرم کو گھر سے، شہر سے نکال دیا، زخمی کیا، پے بہ پے جنگیں کیں۔ آخر عمر تک جان کے درپے رہے۔

عرض ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے عربوں کے درمیان یہ مخالفت کسی لسانی یا قومی عصبیت کی بنیاد پر نہیں تھی۔ آپ کے الفاظ سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیر عرب تھے، اس لیے عربوں نے ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔ پھر یہ بات بھی تاریخ کی ایک انمٹ حقیقت ہے کہ اگر جان کے دشمن عرب تھے تو جان وارنے والے (صحابہ) بھی عرب ہی تھے،گھر اور شہر سے نکالنے والے عرب تھے تو ہجرت میں اپنی جان پر کھیل کر نبی کی حفاظت کرنے اور اپنے پورے گھرانے کو اس کام پر مامور کرنے والا ابوبکر بھی عرب تھا۔ اگر محاصرہ کرنے والے عرب تھے تو جان کی پروا کیے بغیر نبی کے بستر پر سونے والا علی بھی عرب تھا۔ زخمی کرنے والے عرب تھے تو حفاظت کے لیے اپنے اور اپنی اولاد کے جسموں کو ڈھال بنانے والے بھی عرب تھے۔ ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح سب عرب بھی برابر نہیں تھے۔ ایک ہی گھر میں نبی کا بدترین دشمن عبداللہ بن ابی بھی رہتا تھا اور نبی کا جاں نثار عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بھی۔

لکھتے ہیں: وفات کے بعد کچھ مرتد ہوگئے۔
عرض ہے: یہ ایک فرقہ کا نظریہ ہے، جسے شُوگر کوٹ کر کے آپ مسلمانان ِ پاکستان کو پِلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حقیت یہ ہے کہ منکرین ِزکوٰۃ اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کی مٹھی بھر جماعت کے علاوہ کوئی مرتد نہ ہوا تھا۔ ان کا بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بروقت لشکر بھیج کر قلع قمع کر دیا تھا۔ جو شخص یہ کہے کہ نبی کی وفات کے بعد صحابہ مرتد ہوگئے، یہ اعتراض براہِ راست نبوی دعوت و محنت پر ہے کہ (نعوذباللہ) اتنی بھی تاثیر اس میں نہ تھی کہ مربـی کی رحلت کے بعد بھی اس کا اثر باقی رہتا۔

لکھتے ہیں: جو بچ رہے ان کے ایک حصے نے ملک پر قبضہ کر کے وہ نظام ہی تبدیل کر دیا جو آپ دے کر گئے تھے۔
عرض ہے: ایک حصے کا ملک پر قبضہ کرنا۔ نظام کی تبدیلی یہ دونوں بے سروپا الزامات ہیں، جن کی آپ جیسے پڑھے لکھے آدمی سے توقع نہیں کی جا سکتی، لیکن کیا کیجیے، فرقہ وارانہ سوچ اور مذہبی تعصب کا، کہ اس سے عقل و دل دونوں ہی اندھے ہو جاتے ہیں۔ یہی تعصب تو تھا جس نے ابوالحکم کو ابوجہل بنا دیا تھا۔ امت ِمسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کا نظام حکومت علیٰ نہج النبوۃ تھا۔ انھوں نے اس میں دورِ نبوت کے مخالف کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، ترتیب خلافت پر بھی امت کا اجماع ہے۔

کاش! علی (رضی اللہ عنہ) کو شیرِخدا اور حیدرِ کرار ماننے والے علی (رضی اللہ عنہ) کو اتنا بےبس و بےکس بنا کر پیش نہ کرتے، کہ ان کا حق چھیناگیا، پھر بھی وہ ان چھیننے والوں کے وزیر و مشیر اور دستِ راست بنے رہے، ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے، اور جہاد کرتے رہے۔ آخر وہ کون سی مجبوری تھی جو شیرِخدا کو اپنے حق کے حصول کے لیے میدان میں آنے سے روک رہی تھی؟ کیا اللہ کا شیر بھی مصلحت کا شکار ہو سکتا ہے؟ تُف ہے تمھاری عقلوں پر، حضرات شیخین رضی اللہ عنھم کی عداوت نے تمھیں ایسا اندھا کر دیا، کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی سرحد بھی پار کر بیٹھے، پھر بھی دعوے ہیں محبـتِ علی و اہلِ بیت عظام کے!

لکھتے ہیں: رہے جان نثار تو وہ خود چند سال بمشکل سروائیو کر سکے، ایک ایک کر کے شہید کر دیے گئے۔
عرض ہے: ان جاں نثاروں اور ان کے دشمنوں اور قاتلوں کی وضاحت نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ وہ کون سے چند سال تھے جن میں یہ ڈٹ گئے تھے، پھر ایک ایک کر کے شہید ہوگئے؟ اِن کی شہادت کے بعد اسلام کا کیا بنا؟

سچی بات یہ ہے کہ اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم یک جان دو قالب تھے۔ ان میں کوئی عداوت نہیں تھی۔ امت کا اس بات پر غیر متزلزل یقین ہے، اسے ہاشمی قماش کے لوگ اپنے جھوٹے اور سراسر غلط پرپیگنڈوں سے متزلزل نہیں کر سکتے، ہاں! ایسے لوگ اپنی منزل ضرور کھوٹی کر رہے ہیں۔

لکھتے ہیں: ان کی اولادیں عرب چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔
عرض ہے: اس کی کوئی دلیل؟ ذرا اُن ممالک کی نشان دہی تو فرمائیے، جن کی طرف اِن جاں نثاروں کی اولادیں ہجرت کرگئی تھیں؟ یہ محض پروپیگنڈا ہے کہ اس وقت عرب میں صحابہ کی اولاد میں سے کوئی نہیں۔ آپ اہلِ ہندو کشمیر تو خود کو دھڑلے سے سیـد اور اہلِ بیت قرار دیں، اور صحابہ کی جدی پُشتی اولاد کا انکار کر دیں۔ اے کمال افسوس ہے، تجھ پر کمال افسوس ہے۔

خلاصہ یہ کہ مذکوہ بالا تحریر محض عرب و صحابہ دشمنی میں لکھی گئی ہے۔ اس کا حقائق سے دُور پرے کا بھی واسطہ نہیں۔ اہلِ سنت و اہلِ تشیع کے لٹریچر میں ایسی کوئی بات نہیں، جو طفیل ہاشمی نے لکھی ہے۔ اہلِ تشیع کے معتدل علما نے بھی ان ڈھکوسلوں کی تردید کی ہے۔ تفصیل کا موقع نہیں۔ شائقین کتب دیکھ سکتے ہیں۔ آخر میں ہمارا محترم طفیل ہاشمی کی خدمت میں ایک سوال ہے کہ محرم الحرام قریب ہے، فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کر کے اور نفرت کا پرچار کرنے والے ان نظریات کو فروغ دے کر آپ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کی یہ لن ترانیاں ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کا باعث نہیں بنیں گی؟ کچھ سمجھ بوجھ سے کام لیجیے، اور نان ایشوز کو چھیڑ کر خود کو متنازع نہ بنائیے!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.