بھارت کشمیر میں اپنے پیروں میں خود کلہاڑی مار رہا ہے۔ پنکج مشرا

ہفتے گذرتے جا رہے ہیں اور بھارت کی کشمیر میں سختیاں بڑہتی جارہی ہیں۔صرف فون لائن اور انٹر نیٹ کی رابطے بند کرنے پر اکتفا ہی نہیں، بلکہ سیاستدانوں کی گرفتاریاں اور کرفیو جو اب تیسرے ہفتے میں چل رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے کہاجاتا ہے کہ ہزاروں کشمیریوں بشمول طلباء، کاروباری افراد اور انسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار کیا ہوا ہے۔

اس نسلی مذہبی اقلیت کو دبانے کی پالیسی کو بھارت میں بھاری حمائت ملی ہے۔ آپ یاد کریں کہ سربیا کے عوام نے سلو دان ملا سوچ کی قیادت میں منتقمانہ قومیت کو اسی قسم کا پرجوش استقبال کیا تھا۔ اکنامسٹ میگیزین نے اسے اس طرح بیان کیا ہے کہ ''بھارتی پریس اور ٹیلیویژن اُچھل اُچھل کر اس کی حمایت کر رہے ہیں''۔ بہت سارے بھارتی صحافی شوشل میڈیا ٹرول بن کر مغربی خبر رساں میڈیا جیسے بی بی سی، اور نیویارک ٹائمز پر کشمیریوں کے غصہ اور انکی مایوسی کے بارے میں رپورٹ کرنے پر حملے کررہے ہیں۔بھارتی میڈیا کی ان خبروں کو بلاک کرنے کی تقریباً متفقاً پالیسی بناء پر مودی حکومت کے حوصلے بڑہتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے اس نے اپوزیشن لیڈر راجیو گاندھی کی قیادت میں ایک وفد کو کشمیر کے دورے سے روک دیا۔اس قسم کے بلا خوف و خطر طریقے سے ظاہر ہو تا ہے کہ کتنے غیرمعمولی طریقے سے مودی نے بھارت کے بنجارے کے طور پر کتنی کامیابی حاصل کی اور پوری قوم کو اس کے باجے کی آواز پر ناچنے پر مجبور کردیا۔

اس کے حامی اس حقیقت سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں کہ زیادہ تر بیرونی حکومتیں اپنے داخلی معاملات میں مشغول ہیں اور کشمیر پر توجہ دینے کا وقت ہی نہیں ہے دیگر یہ کہ اس معاملے میں بھارت کو تنہا کرنے پاکستان کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں۔

اس کے باوجود اگر کشمیر کے حالات مزید بگڑتے ہیں تو بھارت کے حامیوں کو بھی سوال کرنے پڑیں گے کہ کیا مودی نے خود کو ہندو قوم پرستوں کو مکمل اختیارات دلوا کر، بھارت کے ایک سمجھدار اور مستحکم جمھوریہ ہے تاثر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچادیا ہے؟ بین القوامی میڈیا میں کشمیر کے معاملات پر مجموعی طور پر منفی اور بھارتی حکومت کے بارے میں تنقیدی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارتی حکومت کا جھوٹا دعوی کہ کشمیر میں چیزیں معمول پر ہیں اور بھارتی میڈیا اسی کا بھونپو بنا ہوا ہے۔بین القوامی میڈیا کے فرنٹ پیج کی تصاویر جن میں بھاری مسلح بھارتئ فوجی کشمیر کی خالی گلیوں میں گشت کررہے ہیں واضع کرتا کے کہ یہ خطہ عملی طور پر فوج کے قبضے میں ہے۔
مودی کا یہ کہنا کہ وہ یہ سب کچھ کشمیر میں معاشی ترقی کے لئے کررہا ہے ۔ کم از کم یا تو لکھاری کی نظروں سے اوجھل ہے یا دھوکہ فریب ہے اکثر کشمیری ادیب، ماہرین تعلیم اوت صحافی دنیا کو اپنی تاریخ اور حالات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ان سب کو غیر متعلق اور بے ختیار کہ کر مذاق اڑانا آسان ہے لیکن یہ سب یہ باتیں ایک اہم وقت میں کررہے ہیں، بلکہ انتہائی سخت جان اور تجربہ کار بھارتی سیاست کے مبصرین یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مودی کس قسم کا لیڈر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آر ایس ایس کا ہندو راشٹر کا خواب پورا ہونے والا ہے - سدھارتھ بھاٹیا

بیرون ملک میں نہ تو وزیراعظم کے معاشی اعداد و شمار اور نہ ہی اسکی پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کی تباہی کے دعوے دونوں تنقیدی جائیزے کے متحمل ہو سکے۔ درحقیقت اسکی حکومت کے دوران ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے واقعات نے مودی کی ہندو نیشنل آرگنائیزیشن کے ۱۹۲۰ کی یوروپین کی فاششٹ تحریک سے ربط پر نئے سرے سے توجہ مبذول کردی ۔خبروں اور تبصروں میں اب بھارتئ وزیر اعظم کا نام عمومی طور اشتعال انگیز لیڈروں جیسے ڈونالڈ ٹرمپ، ولڈمیرپیوٹن۔۔کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ بلکہ پاکستان جو کہ بین القوامی برادری ایک بدمعاش ملک سمجھتی ہے کو اتنا حوصلہ ہو گیا یہ مودی حکومت کو نسل پرست اور فسطائیت پرست قراد دے رہا ہے۔مودی کی بھی اپنی ساکھ کو نیا دہچکہ لگا ہے کہ اس نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بمشکل خود کو ۲۰۰۲ کے مسلمانوں کے خلاف قتل عام کے الزامات سے صاف کیا تھا۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اسنے مغرب میں بہتوں کو قائل کردیا تھاکہ اس کا اصل ایجنڈا بھارت کی معاشی ترقی اور بھارتیوں کے لئے ملازمتوں کے مواقعے پیدا کرنا ہے نہ کہ ہندواکثریت کے راج کو بڑہاوا دینا۔مودی کا تاثر بطور معاشی ترقی پسند کو سب سے بڑا نقصان اسوقت ہوا جب اسنے ۲۰۱۶ میں زیادہ تر کرنسی نوٹ جو گردش میں تھے منسوخ کردئیے۔ اور اب کشمیر کے اس اقدام کے بعد اسے سنبھالنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

معیشت کے بارے میں بُری خبروں کی وجہ مودی کے کشمیر کے بارے میں اقدامات سے پہلے بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ بھارت سے نکال رہے تھے۔ اب بھارت کی عوامی زندگی میں جس قسم کا متعصبانہ رویہ نظر آرہا ہے دیکھ شاید وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ کیا وہ بھارتی معاشرے کا اتحاد قائم رہنے یقین رکھ سکتے ہیں۔کیا اسکی قیادت کی سیاسی اور معاشی سوچ پر اعتماد کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کراچی کشمیر کی آواز بن کر گھروں سے نکلے - فریحہ مبارک

مغرب میں بھارت جو عزت و احترام اسے دنیا کئ تاریخی شخصیات جیسے کہ مہاتما گاندہی کے حوالے سے ملتا تھا، اور اسکی ۱۹۴۷ کی آزادی کے بعد مغرب کے علاوہ باقی دنیا کی دہائیوں کی اخلاقی قیادت عرصہ پہلے ہی کھو چکا ہے۔اب بھارت کے بارے میں موجودہ خیال یہ ہے کہ وہ ایک قابل لحاظ کثیرالثقافت جمھوریت اور معاشی پاور ہاؤس ہے جسپر اب گفتگو کی گنجائش ہے۔ بھارت کے سافٹ پاور کے تاثر کو ضائع کرنے کےبہت گہرے نتائج ہوں گے کہ ایک دنیا کی بڑی طاقت رکھنے کی خواہشمند طاقت چین کی ہارڈ پاور کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بہت سارے دیگر انداز میں کشمیریوں پر یہ ستم بھارت کے لئے کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے زیادہ خود کو نقصان دینے کا عمل ہے۔ جتنا لمبا یہ معاملہ چلے گا اتنے ہی شبہات پیدا ہوں گے۔ انڈیا کے بنجارے اندھوں کی چل رح بھاگ رہے ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ اس قوم کو بند گلی میں لیجا کر چھوڑیں گے۔

(بلوم برگ . ترجمہ اعظم علی)