کشمیر کا حل کیا ہے؟-رضوان احمد غلزئی

قوم چاہتی ہے مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لیے بیانات اور ٹیلیفونوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر اقدامات کیے جائیں۔ ایک مہینہ گزر گیا، دنیا بات نہیں مان رہی، وزیراعظم صاحب ٹھیک کہتے ہیں آج نہیں تو کل مسلم دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی، یہ ”کل“ شاید آبھی جائے لیکن اس ”کل“ کے آنے میں جتنی دیر گزرتی جارہی ہے، کشمیر میں مسلمانوں کی تکالیف کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہیں۔ یہ کوئی الیکشن تو نہیں کہ اس ٹرم نہ جیت سکے تو اگلے ٹرم میں جیت جائیں گے۔ موجودہ صورتحال اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم میں ارتقائی عمل کے انتظار کے بجائے aggressive diplomacy اور مشکل فیصلوں کی ضرورت ہے، ابھی تک ہم عالمی ڈر کی وجہ سے ایئرسپیس بند نہیں کرسکے، خود خان صاحب ریاست مدینہ پر لیکچر میں کہتے ہیں مسلمان خوف پر فیصلے نہیں کرتا۔

کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اگر نمایاں ہوا ہے تو اس کی وجہ برہان مطفر وانی جیسے مجاہدوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے غلامی قبول کرنے کے بجائے آزادی کے لیے کٹ مرنے کو ترجیح دی۔ یا ان ہزاروں افراد کی قربانیاں ہیں جو آرٹیکل 370 کا خاتمہ قبول کرنے کے بجائے کرفیو توڑ کر باہر نکلے اور فوجی قیدخانوں میں بند کردیے گئے۔

28 روز ہوگئے کشمیری ہمیں مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور فی الحال یہی بتا رہے ہیں کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم بھی اس دنیا کو کالیں کررہے ہیں جن کے ہندوستان سے تجارتی مفادات منسلک ہیں۔ کیا دنیا کو بی بی سی، نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے وہ مناظر نظر نہیں آرہے جہاں ہر طرف گولیوں کی آوازیں، دھواں اور خون سے لتھڑے انسان ہیں۔ جہاں انسانوں سے جینے کی آزادی مکمل طور پر چھین لی گئی ہے۔

یہ درست کہ جنگ ہوئی تو نقصان ہوگا لیکن مسلمان تو خوف پر فیصلے کرنے کے بجائے اللہ کے حکم پر فیصلے کرتا ہے۔ جنگیں معیشت دیکھ کر نہیں لڑی جاتیں۔ ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد اور عزت و وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ انسان کی تو بنیادی جنگ ہے ہی ظلم اور استحصال کے خلاف۔ ہمارے لیے مشعل راہ قرآن ہے، جس کی سورہ النساء کی آیت نمبر 75 میں اللہ پاک فرماتے ہیں ”آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔“

کشمیر سے پاکستان کا کوئی تجارتی اقتصادی یا اسٹریٹجک رشتہ نہیں بلکہ اس رشتے کی بنیاد کلمہ ہے، جس کلمے کے رب نے ظلم کے خلاف جہاد کا حکم دیا ہے۔ آزاد کشمیر سفارتکاری سے نہیں، جہاد کے ذریعے آزاد ہوا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر ہم نے اس وقت ہاتھ میں لیا جب قائداعظم محمد علی جناح حیات تھے اور وہ تو اس کے لیے باقاعدہ فوج بھیجنے کے حامی تھے، اور وہ اس کا حکم بھی دے چکے تھے۔

بدقسمتی سے ماضی میں جہاد کو اقتصادی اور سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور ان غلط فیصلوں کی روشنی میں ہونے والی دہشت گردی کو جہاد کا نام دے کر بدنام کیا گیا۔ افغانستان میں طالبان کے امریکا مخالف جہاد کی بھی مدد کی گئی، لیکن کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ہونے والے جہاد سے ہاتھ اٹھالیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان مکمل طور پر مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوگیا۔ اور پھر ایسے پیچھے ہٹے کہ اگلے دن ایک یونیورسٹی طالبعلم مجھے کہتا ہے ”یہ عمران خان کیا فضول کشمیر کے ایشو کو لے بیٹھا ہے ہمارے اور بڑے مسائل ہیں۔“

کیا یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ بانی پاکستان جسے اپنی شہ رگ کہہ رہے ہیں، دشمن کے ہاتھ میں جانے کے باوجود ہم اتنے سکون سے بیٹھے ہوں گے؟ صورتحال یہ ہوچکی کہ انٹرنیشنل میڈیا کی پاکستان میں اردو فرینچائزز کو پڑھتے اور دیکھتے دیکھتے میں بھی ایک جگہ مقبوضہ کشمیر کو ”انڈیا کا زیر انتظام“ کشمیر کہہ بیٹھا ۔

یہ بھی درست کہ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہوئی تو پھر نیوکلیئر جنگ ہی ہوگی لیکن افغانستان میں سپر پاور امریکا اور اتحادی فوج اگر جہاد کو شکست نہیں دے سکے تو بھارتی فوج کی کیا حیثیت کہ وہ جہاد کا مقابلہ کرسکے۔ اگر نیت ظلم کے خلاف جہاد کی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت مقابلہ نہیں کرسکتی۔ 1965 کا تو ہمیں یاد نہیں لیکن 26 اور 27 فروری 2019 کو ایک مختصر جنگ میں ہم نے دیکھا کہ کیسے اللہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے۔

ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جب بھی مقابلہ ہوا، ہم اقلیت میں رہے، وسائل کی کمی رہی، لیکن کامیابی مقدر ٹھہری۔ اگر ہم وسائل اور افرادی قوت میں انڈیا کی ہمسری چاہتے ہیں تو ایسا تو صدیوں میں بھی ممکن نہیں۔ کیا ایسی صورت میں ہم ہتھیار ڈال دیں؟

قوم نے کل بتادیا کہ ہم کشمیر میں ہونے والا ظلم مزید برداشت نہیں کرتے، ایک مہینہ ہونے کو ہے کسی عالمی طاقت نے کچھ نہ کیا، اب وقت ہے عملی اقدامات کا۔ اللہ پاک کشمیریوں کی مدد فرمائے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */