تم اور تمہاراخدا جائے۔۔۔۔ قاضی نصیر عالم

ہم کون ہیں اور کہاں کھڑے ہیں۔۔
ہزاروں برس گزر گئے لیکن ہر واقعہ اپنی جزئیات کے ساتھ محفوظ ہے۔۔۔آئیے اپنی شناخت کریں۔۔
سلیمان بن داؤد جیسی بادشاہت پھر کب کسی کو ملی۔۔

ملکہ سبا کو خط لکھا کہ میرے سامنے تکبر نہ کرو اور مطیع ہو کر چلی آؤ ۔۔
ملکہ نے کیا کیا۔ قرآن کچھ یوں بیان کرتا ہے
قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِىْ فِـىٓ اَمْرِيْۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّـٰى تَشْهَدُوْنِ ۔
کہنے لگی اے دربار والو! مجھے میرے کام میں مشورہ دو، میں کوئی بات تمہارے حاضر ہوئے بغیر طے نہیں کرتی۔
درباری سورج کے پجاری تھے۔۔لیکن جواب دیکھیے۔۔
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِىْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ (33
کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں، اور کام تیرے اختیار میں ہے سو دیکھ لے جو حکم دینا ہے۔
سورج پرستوں میں کوئ ایک بزدل نہ تھا۔
دوسرا واقعہ۔۔۔
اکیسویں صدی کی شروعات تھیں بش کی طرف سے سیکریٹری آف اسٹیٹ کولن پاول نے اسلامی ایٹمی قوت کے کمانڈو سربراہ کو کال کی اور کہا کہ امریکی عوام یہ برداشت نہی کر سکتے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دے۔۔مشرف نے پاول کے ساتوں مطالبات مان کر انہیں حیران کر دیا۔۔اس نے اپنے کور کمانڈوز سے مشاورت کرنا بھی گوارا نہ کی۔۔کہنے کو ملکہ بلقیس سورج پرست تھی اور مشرف اپنے آپ کو سید کہلواتا تھا۔۔

تیسرا واقعہ ۔۔
فاران کے صحرا میں حضرت موسی نے اپنی قوم سے کنعان فتح کرنے کے لیے کہا سب سے سچی کتاب یہ واقع کچھ یوں بیان کرتی ہے
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِىْ كَتَبَ اللّـٰهُ لَكُمْ وَلَا تَـرْتَدُّوْا عَلٰٓى اَدْبَارِكُمْ فَـتَنْقَلِبُوْا خَاسِرِيْنَ۔
اے میری قوم! اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دی اور پیچھے نہ ہٹو ورنہ نقصان میں جا پڑو گے۔
قوم نے کہا۔۔
قَالُوْا يَا مُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَـهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْـهَا ۖ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُوْنَ ۔
کہا اے موسیٰ! ہم کبھی وہاں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں، سو تو اور تیرا رب جانے اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
پھر نتیجہ یہ نکلا کہ چالیس سال صحرائے سینا میں بھٹکتے رہے۔۔

چوتھا واقعہ۔۔
بدر کا میدان قریب ہے صورتحال تبدیل ہو چکی چھوٹے سے قافلے کے بجائے ایک بہت بڑے لشکر سے مقابلہ درپیش ہے۔۔
ہادی برحق نے فرمایا لوگو مجھے مشورہ دو۔۔
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے عرض کی “ہم آخر دم تک ساتھ کھڑے ہیں”
آپ نے چاہا کہ انصار اپنی رائے دیں۔
سعد بن معاذ تڑپ کر اٹھے کہا اس زات کی قسم جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں تو ہمیں اس کے لیے بھی تیار پائیں گے۔کل جب دشمن سے مقابلہ ہو گا تو ہم اس طرح اپنی جان پر کھیلیں گے کہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔۔ بات ابھی پوری ہونی تھی حضرت مقداد رض اٹھے اور فرمایا آپ ہمیں حضرت موسی کی قوم کی طرح نہی پائیں گے جنہوں نے کہا تھا اے موسی تم اور تمہارا خدا لڑو ہم یہاں بیٹھیں ہیں۔۔آپ ہمیں حبشہ کے کونے برق الغماد تک بھی لے جانا چاہیں تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔۔
“ہم آخر دم تک ساتھ کھڑے ہیں “ کا مطلب بدر میں دونوں اصحاب نے سمجھا دیا۔۔تو پھر ہم کون ہیں؟؟ کشمیریوں تم اور تمہارا خدا لڑے انا ھاھنا قاعدون ہم یہاں بیٹھے ہیں؟؟