کتنا وقت باقی ہے؟-بشارت حمید

سورہ الواقعة میں اللہ تعالٰی قیامت کے دن اصحاب الیمین یعنی دائیں ہاتھ والوں اور اس روز کامیاب ہونے والوں کے بارے ارشاد فرماتے ہیں ثلة من الاولين و قليل من الأخرين۔۔ وہ پہلوں میں سے کثیر تعداد میں ہونگے اور بعد والوں میں سے بہت ہی کم ہونگے۔ یہاں ذرا رک کر غور کیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان کتنی تعداد میں تھے۔۔ حجة الوداع میں روایات کے مطابق سوا لاکھ یا ایک لاکھ چالیس ہزار صحابہ کرام شامل تھے۔۔

چلیں ایک محتاط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور ان سے منسلک ادوار میں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ ہو گی یا چلیں مزید کچھ ادوار ملا کر ایک کروڑ ہو گی۔۔اب تعداد کتنی ہے ۔۔ ایک ارب سے بھی زیادہ۔۔ تو اللہ کے فرمان کے مطابق جنتی لوگوں کی بڑی تعداد ان پہلے ادوار کے لوگوں میں سے ہو گی جو کہ تعداد میں آج کے لحاظ سے تو کچھ بھی نہیں بنتے اور آخری ادوار میں سے جنتی لوگ بہت تھوڑے ہونگے۔۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور یہ حق ہے سچ ہے۔۔
ہم اپنے تئیں خود کو جنت کا حقدار سمجھ کر بڑے سکون و اطمینان سے بیٹھے ہیں اور اس کے حصول کیلئے معمولی سا خیال بھی دل میں نہیں آتا۔۔ یہاں دنیا میں کوئی مقصد حاصل کرنا ہو کوئی ڈگری لینی ہو۔۔۔ جاب تلاش کرنی ہو ۔۔ کاروبار کرنا ہو۔۔ گھر بنانا ہو۔۔ کوئی عہدہ لینا ہو۔۔ کتنی محنت اور کوشش کرنا پڑتی ہے تب جا کر بھی سارے لوگ مقصد حاصل نہیں کر پاتے۔۔ کچھ لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔۔ تو جنت کے حصول کے لئے بنا کچھ کئے کس امید میں بیٹھے ہیں کہ جو مرضی حرام خوریاں کرتے رہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی دھجیاں بکھیرتے رہیں اور ہمیں آخرت کی کامیابی مل جائے گی۔۔۔

اللہ نے قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عمل کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر ہو جائیں یہ کیسا حکم ہے جو تم لگاتے ہو۔۔۔
اگر اللہ ایسا کرے کہ بے عمل اور باعمل دونوں کے ساتھ ایک ہی سلوک کرے پھر تو یہ عمل کرنے والے کے ساتھ صریح زیادتی ہوگی۔۔ کہ وہ دنیا میں حرام اور منکرات سے بچتا رہا دنیا کا نقصان بھی اٹھایا اور دوسری طرف جس نے دنیا میں عیاشی کی کسی منکر کی پرواہ نہ کی وہ صرف اس بنا پر بخشا جائے اور نیک عامل جیسے سلوک کا حقدار ٹھہرایا جائے کہ یہ نبی آخر الزمان کی امت میں اپنی مرضی کے بغیر پیدا ہو گیا تھا جس میں اس کا کوئی ذاتی کمال بھی نہ تھا۔۔ اللہ ہرگز ناانصافی نہیں کرتا۔۔ اللہ جہاں ارحم الراحمین ہے وہیں عزیز ذوانتقام بھی ہے۔۔
ہمارے لئے غور و فکر کا مقام ہے کہ ہم ان قليل من الأخرين میں شمولیت کی کس قدر سعی و کوشش کررہے ہیں یا دنیا ہی کے پیچھے اپنے آپ کو کھپا رہے ہیں اور آخرت کا معاملہ بس جھوٹی امیدوں پر چھوڑ رکھا ہے کہ جب جائیں گے تب دیکھی جائے گی۔۔ میں اور آپ اپنا اپنا جائزہ لیں کہ آخرت کی کامیابی ہماری ترجیحات میں کس درجے پر ہے۔۔ روزانہ ہمیں کتنی بار یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس زندگی کا کتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔۔

ہم سالگرہ تو بڑے شوق سے مناتے ہیں اپنی زندگی کے پیچھے گزر جانے والے سال مکمل ہونے پر خوش ہوتے ہیں۔۔ یہ بھی کبھی غور کیا کہ باقی کتنے رہ گئے ہمارے پاس۔۔ یہ خوش ہونے کا مقام ہے یا فکر کرنے کا۔۔ ہمارے کتنے دوست احباب والدین رشتہ دار اس دنیا سے جا چکے۔۔ کیا کسی کو اپنی وفات والے دن یہ معلوم تھا کہ آج میرا آخری دن ہے۔۔ یقیناً ایسا نہیں تھا۔۔ تو پھر مجھے اور آپکو بھی یہ علم حاصل نہیں ہو گا۔۔ اس سے پہلے کہ اچانک وہ وقت آن پہنچے ہم اپنی اداوں پر خود ہی غور کر لیں یہی ہمارے لئے بہتر ہے۔۔

ٹیگز

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.