جنت کشمیر میں خواتین سے دست درازیاں - قادر خان یوسف زئی

بھارتی ہند انتہا پسند حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیری عوام دو ہفتے گزر جانے کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی اوپن ائیر جیل میں اسیر ہیں۔زندگی کی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی و مسلسل کرفیو کے سبب کشمیر کی صورتحال روز بہ روز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ کشمیری عوام سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے اور عالمی دنیا صرف رسمی بیانات تک ہی محدود ہے۔ سلامتی کونسل کے غیر رسمی مشاورتی اجلاس کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے ممکنہ عملی اقدامات کا تاحال انتظار کیا جارہا ہے۔ جارح افواج کا ہزاروں نہتے و بے گناہ کشمیریوں کو گھروں سے حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ ظالمانہ اقدام اس قدر بڑھا کہ کشمیر میں زیر حراست لئے جانے والے بے گناہوں کو رکھنے کی جگہیں کم پڑ گئیں ۔ پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری نوجوانوں کو بھارت میں غیر قانونی طور پر بدنام زمانہ حراستی ایکٹ کے گرفتار کیا جارہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈائون کے ساتھ ہی غیر قانونی چھاپوں میں سینکڑوں خواتین پر دست درازی کی رپورٹس منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جن میں بھارتی جارح سیکورٹی فورسز نے چھاپوں کے دوران متعدد خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ دست درازی کی ، دست درازی کی شرمناک واقعات کا ارتکاب اور ہزاروںنوجوانوں کو 21اگست کی رات تک گرفتار کرکے ٹارچر سیلوں میں منتقل کیا جاچکا ہے ۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بھارت کے ایک گروپ نے مقبوضہ وادی میں متاثرین سے گفتگو کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تمام متاثرین کیمرہ کے سامنے بات چیت سے ڈری ہوئی تھیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ علاقائی پولیس، آرمی اور پیراملٹری فورسز نے چھاپوں میں سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار اور خواتین اور کم عمر لڑکیوں پر دست درازی کی۔یاد رہے کہ غاصب بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں احتجاج کو دبانے کیلئے بدترین کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور اب تک 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت غلط فہمی کا شکارہے کہ اس طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک کو دبانے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن مودی سرکار کی توقعات کے برخلاف کشمیریوں حریت آزادی کا جزبہ مزید شدت سے ابھرا ہے اور موقع ملتے ہی بھارتی جارح افواج کے خلاف زبردست مظاہرے کئے جاتے ہیں اور بھارتی جارح افواج ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لئے پیلٹ گن سمیت تمام غیر ریاستی ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر پر امریکی صدر نے ایک بار پھر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت وزرائے اعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی اور ٹویٹر پیغام میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے حوالے سے مثبت بیان جاری کیا۔مریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر مسئلے کو’مشکل حالات‘ مانتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے اس معاملے پر بات کی ہے اور دونوں رہنماؤں کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ٹرمپ نے ٹوئٹ کر کے کہا’’میں نے اپنے دو اچھے دوستوں مسٹر مودی اور مسٹر خان سے کاروبار، اسٹریٹجک شراکت داری اور سب سے اہم کشمیر مسئلے کو لے کر پیداہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے سلسلہ میں بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں سے مشکل حالات میں لیکن اچھی بات چیت ہوئی ہے‘‘۔صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے حال ہی میں ملاقات ہوئی، جب وہ یہاں آئے ہوئے تھے، جب کہ بھارتی وزیراعظم مودی سے رواں ہفتے فرانس میں ملاقات ہوگی‘‘۔ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ’’ مسئلہ کشمیر دیرینہ اور بہت پیچیدہ مسئلہ ہے، جو کہ دہائیوں سے چل رہا ہے، سچ پوچھیں تو وہاں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے، کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائیاں ہو چکی ہیں، یہ کوئی ہلکے ہتھیاروں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس میں بھاری اسلحہ استعمال ہوتا ہے‘‘ ۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، بورس جانسن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاملہ ہے اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ٹین ڈاوننگ اسٹریٹ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہنا تھا کہ نریندر مودی اور بورس جانسن کے درمیان بات چیت میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔برطانوی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کشمیر کے معاملے کو بھارت اور پاکستان دو طرفہ مذاکرا ت کے ذریعے حل کریں۔ ہند و توا ایجنڈے پر چلتے ہوئے انتہا پسند مودی سرکار کسی بھی قسم کے احتجاج کو خاطر میں نہیں لا رہی اور بزور طاقت مزاحمت تحریک آزادی کو دبانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھارت کے اندر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر پر آئینی جارحیت کے بعد بھارت نواز کئی کشمیری رہنمائوں نے مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس حوالے سے گذشتہ دنوں بھارت کے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین نے بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کرفیو نافذ کرنے پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امرتیہ سین نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے زور دیا کہ’’ تمام انسانوں کے حقوق کو برقرار رکھا جائے، جمہوریت کے بغیر کشمیر کے حالات میں تبدیلی لانا ناممکن ہے، بھارت دنیا بھر میں جمہوریت کے لئے جانا جانے والا پہلا ملک تھا لیکن اب ہم وہ ساکھ کھوچکے ہیں، کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام تمام انسانوں کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور صرف اکثریت کے اقتدار کو تقویت دیتا ہے۔امرتیہ سین نے جموں و کشمیر کی مرکزی قیادت کو نظر بند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کشمیر کے قائدین اور عوام کا نقطہ نظر سنے بغیر انصاف کیا جاسکے گا، آپ بہت سے رہنماؤں کو قید رکھیں گے تو کیسے جمہوریت کے ثمرات حاصل کریں گے، ہزاروں کشمیریوں کو قید کرکے اور ان کی آواز کو دبا کر بھارت عدل و انصاف نہیں کرسکتا، بھارتی حکومت جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔امرتیہ سین نے کہا کہ مودی سرکار وہی کام کررہی ہے جو انگریزوں نے 200 سال تک ہندوستان میں کیا تھا، امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر آبادی کو قید کرنا ٹھیٹ سامراجی بہانہ ہے، میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ انگریزیوں سے آزادی کے بعد بھی ہم وہی سامراجی دور والی حرکتیں کریں گے اور شہریوں کو نظربند کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا دل مرگھٹ بن گیا ہے - کمار پرشانت

آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد بھارت کے دیگر شہریوں کو کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت سے متعلق سوال کے جواب میں امرتیہ سین نے کہا کہ ہمیں کمشیریوں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنی زمین کسی کو دیتے ہیں یا نہیں، اس حوالے سے کشمیری فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ یہ ان کی زمین ہے‘‘۔
سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبہ لیڈروں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کا اگر دعویٰ کہ حالات ٹھیک اور عوام بھارتی اقدام سے خوش ہیں تو پھر کرفیو و پابندی کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں امن کی صورتحال کو قابو رکھنے اور جہادی تنظیموں کی جانب سے کسی کاروائی کے امکانات کو مسترد کیا اور ایسے مودی سرکار کا جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا ۔ مودی سرکار عالمی برداری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کا مقصد مبینہ جہادی تنظیموں کی جانب سے ’’ اطلاعات ‘‘ پرکیا گیا ہے۔ کشمیری عوام اور عالمی برداری کے سامنے بھارت کے جھوٹ کا پول کھل چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی اصل سازش کچھ اور ہے ۔

پاکستان بھی مسلسل مودی سرکار کی مکارانہ سازشوں کے ممکنہ امکانات سے عالمی برداری کو آگاہ کررہا ہے کہ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں سفاکیت و فسطائیت کا مظاہرہ کررہا ہے اور کشیدہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی مذموم سازش تیار کی ہوئی ہے ۔ مودی سرکار کو بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے ایڈونچر کا شوق کا نتیجہ یاد رکھے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سعکار کے عزائم پر پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آئیے ہم کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے دعا کریں۔سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن ہرش مندر نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ نہ صرف یہ کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی بلکہ یہ کام انتہائی توہین آمیز انداز میں کیا گیا۔ان کے بقول اس قدم سے کشمیری عوام میں غصہ بھی ہے اور رنج بھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے کشمیری خوش ہیں تو پھر انھیں اپنی خوشی کے اظہار کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا۔ہرش مندر کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس وقت لگے گا جب وہ باہر نکلنے کی پوزیشن میں ہوں گے‘‘۔

جے این یو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی رہنما شہلا رشید نے ٹویٹ کر کے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج کے جوان گھروں میں گھس رہے ہیں اور نوجوانوں کو باہر نکال رہے ہیں۔ گھروں کی تلاشی کے نام پر راشن بکھیرا جا رہا ہے اور جان بوجھ کر چاول اور دیگر اشیا میں تیل ملایا جا رہا ہے۔شہلا رشید نے فوج پر ٹارچر کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ شوپیاں میں چار افراد کو کیمپ میں بلایا گیا اور ان سے ایذا رسانی کے ساتھ پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے آگے ایک مائک رکھ دیا گیا تاکہ ان کے چلانے کی آواز دور تک جائے اور لوگ ڈر جائیں۔ اس سے علاقے میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔دریں اثنا انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے کو ایودھیا میں کشمیر کے مسئلے پر نیوز کانفرنس نہیں کرنے دی گئی اور انھیں حراست میں لے لیا گیا۔مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے کیخلاف سب سے توانا آواز بلند کرنے والے سابق وزیر داخلہ چدم برم کو بھی گرفتار کرلیا۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قومی سلامتی کونسل میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کرکے عملی اقدامات پر عمل پیرا ہے ۔ پاکستان اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی عالمی متازع حیثیت تسلیم کئے جانے کے بعد ایک اہم پوزیشن پر آچکا ہے ۔

چین کے ساتھ پاکستانی اقدامات سے بھارت کو عالمی برداری کے سامنے سفارتی محاذ پر ناکامی کا مسلسل سامنا ہورہا ہے۔ پاکستان نے سرد خانے میں بڑے مقبوضہ کشمیر کو بھرپور عالمی توجہ حاصل ہونے کے بعد اہم امور پر اقدامات اٹھانے کے فیصلے کرلئے ہیں جس میں دو اہم ترین اقدامات ہیں ۔ جس میں سب سے اہم عالمی عدالت میں مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لے جانے کا اصولی فیصلہ اور دوسری جانب جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ 09ستمبرکو عالمی انسانی حقوق کمیشن میں اٹھایا جانا ہے۔ جنیوا میں منعقد ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان کی سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ جنیوا روانہ ہوچکی ہیں۔ جہاں انسانی حقوق کمیشن کے رکن ممالک سے راوبط کرکے کشمیروں کی تحریک کے حق میں سفارتی کوششیں اور راہ ہموار کریں گی۔ اقوام متحدہ کا جنرل اسمبلی کے اجلاس ستمبر میں منعقد ہوگا اور پاکستان کے لئے ایک بڑا اہم موقع ہوگا جبکہ بھارتی وزیر اعظم 26ستمبرکو خطاب کے بعدپاکستانی وزیر اعظم 27ستمبر کو خطاب کریں گے۔ یہ وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلا خطاب ہوگا۔ امریکا و دیگر اہم ممالک سے سفارتی تعلقات میں وزیر اعظم کو عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   اہلِ صفا کون ہیں؟ کشمیر پر صرف احتجاجی جلوس کیوں؟ مفتی منیب الرحمن

اس لئے توقع ہے کہ وزیر اعظم مسئلہ کشمیر سمیت اہم ایشوز پر عالمی برداری و میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے نیز ان کے پاس اس بات کا موقع ہوگا کہ بھارتی وزیر اعظم کے خطاب کے بعد اُن کی تقریر ہوگی جس میں پاکستانی وزیر اعظم اپنے ہم منصب کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈوں اور الزام تراشیوں کا موثر جواب بھی دیں سکیں گے۔ اس حوالے سے وزرات خارجہ ، دفاع اور اقوام متحدہ میں تعینات مستقل مندوب کو ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی موقف پر عالمی برادری سنجیدگی سے توجہ دیں سکیں۔ خاص کر وزیر اعظم اُس وقت امریکا میں جنرل اسمبلی سے خطاب کررہے ہونگے جب افغان امن عمل کا مرحلہ بھی کسی منطقی انجام کے قریب پہنچ یا حل ہوچکا ہوگا ۔ لہذا وزیر اعظم کا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ خاص طور پر خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں و اداروں کو ایک صفحے پر آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاسی خلفشار و ملک میں سیاسی بے چینی اور عوام کی توجہ منتشر ہونے سے پاکستان اپنے ٹھوس و اصولی موقف کو عالمی برداری میں پُر اعتماد طریقے سے نہیں پہنچا پائے گا اور یہی بھارت کی سازش بھی ہے تاکہ مسئلہ کشمیر و افغانستان سے عالمی برداری کی توجہ ہٹائی جاسکے۔اور آر ایس ایس کے نازی نظریئے کی سازشی منصوبوں کو کامیاب کیا جاسکے۔ پاکستان اس وقت سفارتی حوالے سے اہم ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے ۔

خارجہ محاذ پر پاکستانی دسفارتی مشن کو مسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کے سامنے مزید نمایاں طور پر اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہدایات دی جا چکی ہیں ۔ تاہم اس حوالے سے وزرات خارجہ کو مزید کام ی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ کو بھارت کے مکروہ کردار کو عالمی برداری کے سامنے لانے کے لئے پاکستان سے وابستہ مشترکہ مفادات کے حامل ممالک کی حمایت کے حصول کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا ۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے اور کشمیر کے حالات اُس نہج پر پہنچ رہے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بہت تلخ و تکلیف دہ ہوگا ۔ عالمی برادری کو احساس کرنا ہوگاکہ مقبوضہ کشمیر میں حراست میں لئے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی کالے قانون کے تحت گرفتاریوں اور کرفیو سے متاثرہ علاقوں میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے اسٹریجک ٹینشن میں اضافہ ہورہا ہے۔ جس سے خطے میں خطرناک جنگ ہونے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف وزری اور آبی جارحیت کے بعد پاکستان بھارت کی کسی بھی مکروہ سازشی منصوبے سے غافل نہیں ہے لیکن حالات کا بہائو جس جانب ہے اس کا رخ موڑنا پھر کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں ہوگا ۔

یہاں امر قابل ذکر ہے کہ ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ ثالثی کی پیش کش کرتے ہیں تو دوسری جانب امریکی انتظامیہ امریکی صدر کے بیان کے برعکس معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھانے میں مصروف ہے۔امریکا محکمہ خارجہ کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر جانے کی بجائے بھارت سے براہ راست مذاکرات کرے، امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی حمایت بند کرنے کے حوالے سے موثر اور دیرپا اقدامات کرے، ایسے حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ پیداواری مذاکرات اور دو ملکوں کے درمیان گفت و شنید ہو سکتی ہے، صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اگر دونوں فریق چاہیں تو وہ ثالثی کیلئے تیار ہیں لیکن ان سے ثالثی کیلئے نہیں کہا گیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کی گرفتاریوں اور خطے میں شہریوں پر مسلسل پابندیوں پر تشویش ہے۔ ہم قانون کے مطابق انفرادی حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں، انہوں نے جامع مذاکرات پر زور دیا۔ خاتون عہدیدار نے کہا کہ ہم بھارتی تشویش سے بھی آگاہ ہیں تاہم ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے میں فوری طور پر حالات کو معمول پر لایا جائے۔،

امریکی عہدیدار نے اسے بھارتی حکام کی ’’اسٹینڈرڈ ٹاکنگ پوائنٹس‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ کشمیر ایشو دنیا بھر میں تمام پلیٹ فارمز پر لیجائے لیکن امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کثیر الفریقی بنا کر نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کنٹرول لائن کی حیثیت کو عالمی سرحد میں تبدیل کرنے کا مشورہ نہیں دے گا۔
مقبوضہ کشمیر اور افغانستان امن عمل ک حل سے خطے میں جہاں امن کا بسیرا ممکن ہے تو دوسری جانب خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور ایٹمی جنگ نہ ہونے کا بھی خطرہ ٹل جانے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اب یہ عالمی برداری کی ذمے داری بنتی ہے کہ انتہا پسند ی و شدت پسندی جو کہ کسی بھی شکل میں خطے میںموجود ہے وہ کسی ایک ملک کے لئے نقصان کا سبب نہیں بنے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اس لئے افغانستان امن حل اور مقبوضہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے ۔ عالمی طاقتیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کی پاسداری کریں تو جنگ ختم ہوسکتی ہے۔