المیہ کشمیر- حمنہ عمر

کشمیر۔۔۔یہ پانچ حرفی لفظ ذہن میں آتے ہی انسان زمینی جنت کے تصور میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ صرف جنت ارضی ہی نہیں پاکستان کی شہہ رگ بھی ہے کہ تمام دریاوں کا مرکز یہی ہے اور ہماری زندگی اللہ نے اسی میں رکھی ہے۔ لیکن یہ جنت ارضی مسلمانو کے لئے "جہنم ارضی" بنی ہوئی ہے۔ اسمیں جہاں ظالم برطانوی حکومت اور ڈوگرا راج کا حصہ ہے وہیں ایک بڑا حصہ پاکستان پر قابض انگریزوں کے غلام حکمرانوں کا بھی ہے۔

پاکستان کی آزادی کے بعد کشمیر پر بھارت کا ایک سازش کے تحت کنٹرول ہو گیا۔ اس کنٹرول کو دلیر پاکستانی قبائل نے چند دنوں میں ختم کیا اور سرینگر تک پہنچ گئے۔ ان قبائل کا تعلق "فاٹا" سے تھا جو آج معتوب ہیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ جب قبائل قبضہ کرلیں گے تو پیچھے سے پاکستانی فوج آکر کنٹرول سنبھال لے گی۔ لیکن قبائل کے قبضہ کرنے کے بعد پاکستانی فوج نے "ہری جھنڈی"دکھادی اور قبائل کی مدد کو نہیں گئی جسکے نتیجے میں ہزاروں قبائل بھارتی فوج کے نرغے میں آکر شہید ہوگئے۔ اسوقت افواج پاکستان کی کمان غالباً جنرل گریسی کررہا تھا۔ اسکے بعد بھی قدرت نے پاکستان کو بہت مواقع دئے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر پاکستان ان سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔ اس پورے عرصے میں بھارت ہرطرح کی عملی جارحیت کرتا رہا لیکن ہم یعنی پاکستان کشمیری مسلمانوں کے پشتیبان نہ بن سکے اور نہ مسلئہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرسکے۔ بھارت ایک بڑی طاقت ہے اور دنیا میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اسوجہ سے وہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف دنیا کا ردعمل نہیں ہونے دیتا۔ لیکن اسکے باوجود اسریٹیجکلی پاکستان کی حیثیت بہت اہم ہے۔ اگر پاکستانی حکمراں کوئی سنجیدہ کوشش کرتے تو یقیناً آج کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا۔

لیکن۔۔۔۔۔۔ ہم تو مشرقی پاکستان کو نہ سنبھال سکے کشمیر کہاں قبضہ کرتے۔ آج پھر کشمیری ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں۔ آج پورا عالم اسلام ان مسلمانوں کو تنہا چھوڑ کر کفار کی غلامی میں لگا ہوا ہے۔ ایک آدھ ملک کو چھوڑ کر مسلم ممالک اب تو کشمیر کی لفظی حمایت بھی نہیں کرتے عملی کیا کریں گے۔ اسی کو اللہ کے رسولؐ نے وہن کی بیماری قرار دیا تھا۔۔۔ کہ دنیا سے محبت اور موت کا خوف۔آج کشمیری صرف اور صرف اللہ پر ایمان و یقین کے ساتھ اپنی جنگ بلکہ ہماری جنگ اپنی مدد آپ کے تحت لڑ رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اب کامیابی انکا مقدر اور ہندوستان کی تباہی ہوگی۔۔۔۔کہ۔۔۔۔ کشمیری مسلمانوں نے دنیاوی سہاروں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لیا ہے۔ اللہ مجاہدین کو قوت عطا کرے کہ وہ اسلام کو سرخرو کرا سکیں۔