سوشل میڈیائی مضمون نگاری کے نقصانات - شاہ اجمل فاروق ندوی

مضمون نگاری ایک مستقل فن ہے۔ اس کے لیے بہت پڑھنا بھی پڑتا ہے اور بہت لکھنا بھی۔ مولانا علی میاں ندوی فرماتے تھے کہ’’ ایک ہزار صفحات پڑھنے کے بعد انسان کے اندر ایک صفحہ لکھنے کی شدبد پیدا ہوتی ہے۔‘‘ مضمون نگاری کے ظاہری و باطنی اصول و ضوابط کی پابندی کے بغیر جو مضمون لکھا جاتا ہے، وہ سب کچھ ہوسکتا ہے، مضمون نہیں ہوسکتا۔

افسوس ہے کہ آج کل سوشل میڈیائی مضمون نگاروں اور صحافیوں کی ایسی بڑی تعداد وجود میں آگئی ہے، جو خود کو ایک مضمون نگار اور صحافی ہی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقی علمی و صحافتی دنیا میں اُن کا کوئی شمار نہیں ہوتا۔ سہل پسندی، سستی شہرت اور وقتی فوائد کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیائی صحافی اور سوشل میڈیائی قلم کار بننے کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس طرح وہ کچھ لوگوں سے وقتی واہ واہی تو لوٹ لیتے ہیں، لیکن ایک حقیقی صحافی، انشاء پرداز اور مضمون نگار کبھی نہیں بن پاتے۔ حالاں کہ اُن میں سے بعض کا طرز تحریر بتاتا ہے کہ اگر وہ مضمون نگاری کی باقاعدہ مشق کرلیتے تو کوئی بڑا کام کرسکتے تھے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا - ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے دوستوں کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ کوئی بھی مضمون ڈائریکٹ موبائل پر لکھنے کو اپنے لیے حرام کر لیجیے۔ کم از کم اُس وقت تک، جب تک آپ دو چار درجن مضامین لکھ کر کسی معتبر صاحبِ قلم سے اُن پر اصلاح نہ لے لیں۔ ویسے تو ایک مشّاق اور معتبر اہل قلم بننے کے بعد بھی سوشل میڈیائی مضامین بہ مجبوری ہی لکھنے چاہییں، کیوں کہ سوشل میڈیا پر مسلسل لکھنے کی وجہ سے علمی مشاغل بھی متاثر ہوتے ہیں اور اہل علم کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔

پھر بھی کہنہ مشق اور مشّاق لوگوں کے لیے اس طرح کی مضمون نگاری کی گنجائش ہے۔ لیکن وہ نوجوان، جو علمی دنیا سے نئے نئے متعارف ہوئے ہیں ، علمی دنیا میں وہ ابھی اجنبی ہیں اور لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے وہ ابھی ٹین ایج میں ہیں، ایسے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیائی مضمون نگاری بہت سارے نقصانات اور مفاسد کا باعث ہورہی ہے۔ اس لیے اس سے پوری طرح دوری اختیار کرنا ضروری ہے۔
نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیائی مضمون نگاری کے کچھ بڑے نقصانات یہ ہیں:
۱۔ ایسی تحریریں صرف سوشل میڈیا پر عام ہو پاتی ہیں اور کچھ دن بعد غائب ہوجاتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل چیز مطبوعہ رسائل و جرائد میں مضامین کا شائع ہونا ہے۔ کیوں کہ وہ تادیر باقی رہتے ہیں اور علمی و فکری وراثت کا حصہ بنتے ہیں.
۲۔ مضمون نگار سوشل میڈیائی داد و تحسین (like, view, comment, share) کو بہت بڑی فتح سمجھنے لگتا ہے اور اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے، حالاں کہ سوشل سائٹس پر اکثر لوگ بغیر پڑھے اپنی پسند اور اپنے چھوٹے موٹے تاثر کا اظہار کر دیتے ہیں۔
۳۔ انسان کو اپنی تحریر پر مکرر سہ کرر نظر ثانی کا موقع نہیں ملتا، جس سے اُس کی نثر میں بھی نقائص رہ جاتے ہیں اور فکری و علمی غلطیاں بھی باقی رہ جاتی ہیں۔

۴۔ مضمون نگار کے پاس اپنی تخلیقات کا کوئی ایسا منظم ریکارڈ نہیں رہ پاتا، جس پر وقتاً فوقتاً اُس کی نظر پڑتی ہے اور وہ اپنے مضامین میں حذف و اضافے کا مسلسل عمل جاری رکھ سکے۔
۵۔ ان تحریروں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہر چیز ہر انسان کے پاس پہنچ جاتی ہے اور بسا اوقات اچھی ہونے کے باوجود حماقت ہائے احمقاں کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہر تحریر کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے، لہٰذا اسے انھی افراد تک پہنچنا چاہیے، جو اُس موضوع کا صحیح شعور اور علم رکھتے ہوں.
آخر میں اپنے عزیز دوستوں سے یہ کہنا ہے کہ جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت دی ہے اور آپ کے اندر انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی ہے، تو کیوں نہ آپ خود کو کسی بڑے مشن کے لیے تیار کریں؟ کیوں نہ زبان و قلم کے استعمال کی مکمل تربیت حاصل کریں؟ اور علمی و فکری طور پر پوری مضبوطی کے ساتھ میدان میں آئیں؟ تو اٹھیے! وقتی واہ واہی اور عارضی داد و تحسین کو اپنے لیے سمِ قاتل سمجھیے۔ ’’سوشل میڈیائی صحافت‘‘ کے فریب سے نکلیے۔ کسی بھی معتبر صاحبِ علم کی رہنمائی میں خوب مطالعہ کیجیے اور لکھنے کی خوب مشق کیجیے، تاکہ آپ کی تحریریں پوری علمی دنیا کو متاثر کر سکیں اور تادیر زندہ رہیں۔