حجاب میں تحفظ ہے - شہلا خضر

امی دیکھیں نا بھائی کو کب سے کہہ رہی ہوں کوچنگ سینٹر چھوڑ آئیں، مجھے دیر ہورہی ہے۔ میری کلاس کا وقت ہو رہا ہے۔ مگر بھائی چل ہی نہیں رہے۔ پندرہ سالہ صنوبیہ بلیک ٹرا ئوزر، پرنٹڈ ریڈ اور بلیک پھولدار شارٹ شرٹ اور " ہائی پونی" میں کسی باربی گڑیا جیسی لگ رہی تھی ۔ تیز تیز قدموں سے چلتی باورچی خانے میں اپنی والدہ خالدہ بانوکے پاس بھائی کی شکایت لے کر پہنچی۔ خالدہ بانو شام کی چائے بنانے میں مصروف تھیں۔

وہ ایک سادہ گھریلو خاتون تھیں۔ ان کے شوہر امجد صاحب ایک پرائیوٹ کمپنی میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ تھے۔ گھر میں آسودگی کا راج تھا۔ دونوں اولادیں پندرہ سالہ صنوبیہ اور سترہ سالہ شارق ہی ماں باپ کی تمام تر محبتوں اور توجہ کے مرکز تھے۔ شارق بارہویں جماعت کا ذہین طالب علم تھااور تعلیم کے علاوہ دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش تھا۔ اس کی بہترین کارکردگی ہی کی وجہ سے اسے کالج کا ہیڈ بوائے بھی سلیکٹ کیا گیا تھا ۔ صنوبیہ میٹرک سائنس کی طالبہ تھی اور چند ماہ بعد اس کے بورڈ کے پیپرز ہونے والے تھے ، لہٰذا باقی سہیلیوں کی طرح اس نے بھی نزدیکی کوچنگ سینٹر میں داخلہ لے لیا تا کہ امتحانات کی بہترین تیاری کرسکے ۔
شارق بیٹا کیوں ستارہے ہو بہن کو، اس کی بہت اہم کلاس ہے، لیکچر شروع ہونے والا ہے،جلدی جائو بیٹا بہن کو وقت پر چھوڑ کر آؤ۔ خالدہ بانو نے باورچی خانے ہی سے آواز لگائی۔ شارق جو کہ ٹی وی لائونج میں آرام سے صوفے پر نیم دراز تھا، ماں کی آواز سن کر لپک کر ماں کے پاس باورچی خانے پہنچا۔ امی میں نے کہہ دیا ہے کہ جب تک صنوبیہ عبایا نہیں پہنے گی، میں اسے کوچنگ نہیں لے کر جائوں گا، مجھے اچھا نہیں لگتا جب لڑکے اسے گھورتے ہیں۔ میرے ساتھ چلنا ہے تو عبایا پہننا ہوگا۔ ـشارق نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

واہ بھئی یہ کیا بات ہوئی؟ مجھے نہیں پہننا عبایا وبایا، میں ابھی بہت چھوٹی ہوں۔ جو لڑکیاں عبایا پہن کر آتی ہیں، سب انہیں "بہن جی" اور "باجی جی" کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں۔ صنوبیہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ طبعیت اور مزاج میں بے انتہا شوخی اور کھلنڈرا پن ہونے کے باعث صنوبیہ کسی طور پر یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ وہ اب بڑی ہوچکی ہے، اور یہ کہ اسے اب اپنے بچپن کے طور طریقوں کو بدلنا چاہیے۔ خالدہ بانو کبھی کبھی تو سمجھانے کی کوشش کرتیں مگر پھر اکلوتی بیٹی کی محبت میں ہتھیار ڈال دیتیں۔ بیٹی کی آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو دیکھ کر ان کا دل نرم پڑ گیا اور شارق سے قدرے خفگی سے بولیں، ارے بھائی ضد نہ کرو جاؤ جلدی اسے چھوڑ آؤ، وہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔ اگر سبھی کلاس فیلوز مذاق اڑائیں گے تو وہ دھیان سے اپنی کلاس میں پڑھ نہیں پائے گی اور امتحانات پر اس کا اثر پڑے گا۔ ابھی تم اسے لے جاؤ، امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس ٹاپک پر اطمینان سے بات کریں گے۔
شارق بہت فرمانبردار لڑکا تھا، وہ ماں کے حکم کو ٹال نہ سکا اور چپ چاپ چلنے کو را ضی ہو گیا۔ صنوبیہ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ جھٹ سے اپنا چھوٹا سا "بیک ہینگنگ" بیگ اور موٹا سا رجسٹر لے کر دوڑ کر بھائی کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ شارق کا موڈ سخت خراب تھا۔ وہ ماں کے حکم پر کوچنگ سینٹر چھوڑنے تو جا رہا تھا مگر پورے راستے صنوبیہ سے ایک لفظ بھی بات نہ کی۔

ابھی کوچنگ سینٹر سے چند گلیاں دور ہی تھے کہ اچانک موٹر سائیکل کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ شارق نے موٹر سائیکل روکی اور مین روڈ سے ہٹ کر کنارے پر کھڑی کردی۔ آس پاس کوئی پنکچر کی دکان بھی نظر نہ آرہی تھی۔ گرمیوں کے دن تھے شام کے چار بجنے والے تھے مگر سورج کی حدت ابھی تک تیز تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ صنوبیہ تو ویسے ہی کچھ زیادہ ہی نازک مزاج تھی۔ اس کے گال ٹماٹر جیسے لال ہوگئے۔ ہر آتی جاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سواروں کی گھورتی نگاہوں سے صنوبیہ بے انتہا نروس ہو رہی تھی۔ شارق نے موبائل نکال کر اپنے دوستوں کو بلوا لیا اور انہیں اپنی لوکیشن بھجوا دی۔ اتنے میں چند کار پر سوار نوجوان وہاں سے گزرے اور وہ اس طرح دونوں کو پریشانی کے عالم میں کھڑا دیکھ کر قریب ہی چلے گئے اور گاڑی ان کی موٹر سائیکل کے آگے ہی لگا دی۔ تین نوجوان جو کہ حلئے ہی سے لوفر ٹائپ نظر آ رہے تھے، گاڑی سے بر آمد ہوئے۔ "باس کیا کوئی پرابلم ہو گئی ہے۔ ہم آپ کی کوئی مدد کرسکتے ہیں کیا ـ"؟ ان میں سے ایک لڑکے نے بڑی اپنائیت سے کہا۔ "نہیں، آپ کا شکریہ، میں نے فون کردیا ہے، کچھ ہی دیر میں میرے دوست آنے والے ہیں مدد کے لیے "۔

شارق نے قدرے سختی سے کہا۔ ارے باس آپ تو تکلف کر رہے ہیں، ہم بھی تو آپ کے اپنے ہی ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکے نے آنکھ مارتے ہوئے شارق سے کہا۔ وہ خوامخواہ ہی فری ہو رہے تھے، حالانکہ شارق انہیں جانتا ہی نہیں تھا۔ باتوں باتوں میں وہ ان دونوں کے بالکل قریب آگئے۔ صنوبیہ کے چہرے پر گرمی اور خوف سے پسینے بہہ رہے تھے۔ "بھائی کتنی دیر لگے گی جلدی بلوائیں اپنے دوستوں کو"۔ ان لڑکوں کے اس طرح پریشان کرنے پر وہ اکتا کر بولی۔ ان آوارہ لڑکوں میں سے ایک جو شاید ان کا لیڈر لگ رہا تھا، آگے بڑھ کر رومال نکال کر صنوبیہ کو دیتے ہوئے بولا، دیکھیں کتنی پریشانی ہو رہی ہے "گڑیا" کو۔ آؤ گڑیا ہماری گاڑی میں بیٹھ جاؤ جب تک کہ موٹر سا ئیکل ٹھیک نہیں ہو جاتی۔ "او بھائی کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں خوامخواہ گلے پڑ رہے ہو، تمھیں کہہ دیا نا کہ نہیں ضرورت تمہاری مدد کی، جاؤ اپنا راستہ ناپو"۔ اب تو شارق بھی ان لڑکوں کی بے جا مداخلت کرنے سے بہت ڈسٹرب ہو رہا تھا اور اس کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا۔ "اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو پردے میں کیوں نہیں رکھتا اپنی بہن کو، اتنے "خوبصورت پیس" کو دیکھ کر تو کسی کی بھی نیت خراب ہوسکتی ہے"۔

اتنا کہہ کر اس لوفر نے صنوبیہ کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف گھسیٹنے لگا۔ صنوبیہ کے اوسان خطا ہوگئے۔ شارق بجلی کی تیزی سے لپکا اور لاتوں اور گھونسوں سے اس لڑکے کی پٹائی شروع کر دی۔ اس کے ساتھی بھی پیچھے نہ رہے، وہ بھی اسے بچانے دوڑے۔ شارق اکیلا تھا اور وہ تین تھے۔ چند ہی منٹوں میں شارق کو چت کر دیا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر گیا۔ صنوبیہ کی ڈر کے مارے سٹی گم ہوچکی تھی اور اس نے مدد کے لیے چیخنا چاہا تو حلق سے آواز ہی نہ نکلی۔ اسی اثناء میں شارق کے دونوں دوست وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے جو یہ صورتحال دیکھی تو فوراً ان غنڈوں کو للکارا۔ شور شرابہ سن کر کچھ راہگیر بھی جمع ہوگئے۔ بھیڑ اکٹھی ہوتے دیکھ کر وہ غنڈے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہوگئے۔ ارق بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ اس کے دوستوں نے مل کر ٹیکسی میں بٹھایا اور قریبی ہسپتال لے کر پہنچے۔ صنوبیہ نے بھائی کے فون سے والد کو بھی اطلاع کر کے بلوالیا۔ اللہ نے بڑا کرم کیا کہ کوئی بڑی اور گہری چوٹ نہ تھی۔ ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کرکے چھٹی دے دی۔ یوں صنوبیہ اپنے بھائی اور والد کے ساتھ خیریت سے گھر پہنچی۔ خالدہ بانو نے شکرانے کے نفل پڑھے اور بچوں کا صدقہ دیا۔ اس پورے واقعے نے صنوبیہ کے ذہن پربہت گہرا اثر چھوڑا۔

ان غنڈوں کے الفاظ اس کے ذہن میں بار بارآتے رہے اور اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ واقعی اب میں بڑی ہو چکی ہوں اور یہ کہ مجھے اپنے انداز اور لباس میں تبدیلی لانی چاہیے۔ اب اسے اچھے سے یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر وہ بھائی کی بات مان لیتی اور حجاب کو اپناتی تو وہ ان غنڈوں اور ان جیسی گندی نگاہوں والے سینکڑوں لوگوں کی نگاہوں سے خود کو محفوظ کرسکتی تھی۔ حجاب تو ایک حفاظتی ڈھال ہے جو ہمیں تحفظ اور پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے۔ "اگر اس دن میں با حجاب ہوتی تو وہ غنڈے میری طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھتے کیونکہ حجاب کے حصار میں ہماری خوبصورتی اور دلکشی چھپ کر محفوظ ہو جاتی ہے"۔ اس احساس کے جاگتے ہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اور پھر اپنے بھائی سے معافی مانگی کیونکہ وہ اپنی ضد اور کم عقلی پر بہت شرمندہ تھی۔ "امی جان آپ آج ہی مجھے ایک عدد عبایا لاکر دیں۔ میں اب گھر سے باہر کبھی بھی بغیر حجاب کے نہ جاؤں گی۔" صنوبیہ نے پورے عزم کے ساتھ ماں کو کہا۔ "شاباش میری بیٹی! اللہ پاک تمہیں استقامت عطا کرے۔ رب کائنات اور پیارے نبیؐ نے بھی عورت کی قیمتی موتی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ ہمیں خود کو کسی قیمتی موتی ہی طرح دنیا کی میلی نگاہوں سے بچا کے رکھنا ہوگا۔'' صنوبیہ ماں کے سینے سے لگ گئی اور خالدہ بانونے خوشی سے بیٹی کا ماتھا چوم لیا۔

ٹیگز