بین الاقوامی نمائش میں طلبہ کی بوریوں پر خوبصورت پینٹنگ

بوری ایک ایسی چیز ہے جسے پرانا یا ناقابلِ استعمال ہونے پر شاید ہی کوئی زیادہ دیر تک اپنے پاس رکھے۔
ایک بوری پرانی ہو جائے تو عام طور پر اس کا مقدر کوڑے کا ڈھیر ہوتا ہے لیکن بلوچستان یونیورسٹی میں پینٹنگ کی پہلی بین الاقوامی نمائش میں کچھ اور دیکھنے کو ملا۔

وہ یہ کہ اگر پرانی بوری پر پینٹنگ کی جائے تو وہ نئی سے زیادہ خوبصورت نظر آتی ہے۔ پینٹنگ کے بعد اسے کسی گھر، ریستوراںٹ یا دفتر کی دیوار کی زینت بھی بنایا جا سکتا ہے۔اس نمائش کا اہتمام بلوچستان یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ نے کیا جس سے قبل اس ادارے کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی تھی۔اس تربیتی ورکشاپ کے لیے عمان سے سینئر آرٹسٹ موسیٰ عمر کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔انھوں نے یونیورسٹی کے طلبہ کو یہ سکھایا کہ جس چیز کو ہم پرانی سمجھ کر پھینک دیتے ہیں وہ بھی کارآمد ہوتی ہے۔ ان میں پرانی بوریاں بھی شامل ہیں۔

انھوں نے نوجوان طلبا کو یہ بتایا کہ پرانی بوریوں پر پینٹنگ کر کے ان کو کس طرح خوبصورت اور جاذب نظر بنایا جا سکتا ہے۔تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران بوریوں پر مختلف اقسام کے فن کا مظاہرہ کیا گیا۔اس موقع پر موسیٰ عمر نے بتایا کہ بوری ایسی چیز ہے جس کی جانب لوگ دھیان نہیں دیتے۔ 'اس کی قیمت کو نہیں جانتے اور اس کو پھینک دیتے ہیں۔ 'انھوں نے کہا کہ انھوں نے بوری کو قیمت دی جس کا اندازہ اس پر ہونے والی خوبصورت پینٹنگ سے لگایا جاسکتا ہے۔
موسیٰ عمر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تین روز میں بوری پرپینٹنگ کرنا سیکھی اور اس کے بعد بہت اچھا کام کیا۔موسیٰ عمر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تین روز میں بوری پرپینٹنگ کرنا سیکھی اور اس کے بعد بہت اچھا کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بین الاقوامی نمائش سے انھیں نئے انداز میں سوچنے پر مجبور کیا گیا۔

یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم نجیب بلوچ نے بتایا کہ عمان کے سینئر آرٹسٹ نے یہ فن سکھا کر انھیں ایک تحفہ دیا ہے۔ان کے مطابق دو دن کی ورکشاپ کے بعد انھوں نے ہزاروں سال قدیم تہذیب کے مرکز مہر گڑھ کو پینٹنگ کے ذریعے اجاگر کر دیا۔نجیب بلوچ نے بتایا کہ بوری پر پینٹنگ کا کام پہلے بھی مختلف علاقوں میں ہوتا رہا ہے لیکن بلوچستان میں یہ پہلی مرتبہ ہوا۔ تربیتی ورکشاپ میں شریک ایک طالبہ نے بتایا کہ اس ورکشاپ سے طلبہ نے عمدہ کام سیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بوری پر پینٹنگ سیکھنے کے بعد اس پر گوادر کی تصویر بنائی 'جو کہ بڑا تجارتی مرکز بننے والا ہے۔

بشکریہ محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ