کشمیر سے آسام تک- محمد اظہارالحق

ہر روز ان ویڈیو کلپس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو بھارتی مسلمانوں کی بے بسی دکھا رہی ہیں۔ داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں۔ ردائیں تار تار کی جا رہی ہیں۔ زمین پر گرا کر ٹھوکریں ماری جا رہی ہیں۔ گلے گھونٹے جا رہے ہیں۔ ستونوں کے ساتھ باندھ کر زدو کوب کیا جا رہا ہے۔ سینکڑوں سالوں سے رہنے والوں سے پوچھا جا رہاہے کہ شہریت کی سند دکھائو۔ جن کی پیدائش بھارت میں ہوئی جو انتخابات میں ووٹ ڈالتے آئے ہیں‘ انہیں اٹھا اٹھا کر کیمپوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ کیپٹن ثناء اللہ بھارتی فوج سے ریٹائر ہوا۔ اس کا باپ‘ دادا‘ پردادا سب آسام میں پیدا ہوئے۔ آسام ہزاروں برس سے بھارت کا حصہ ہے مگر کپتان ثناء اللہ کو گھر سے اٹھایا گیا اور دو ہفتے جیل میں رکھا گیا۔ الزام یہ تھا کہ تم غیر ملکی ہو! مودی حکومت بھارت کو ایک اور اسرائیل بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ایک بہت بڑا اسرائیل! جس میں سینکڑوں کیمپ ہوں گے۔ مسلمانوں کو غیر ملکی ثابت کر کے ان کیمپوںمیں رکھا جائے گا۔ پروگرام یہ ہے کہ وہ انہی کیمپوں میں مرکھپ جائیں۔ ان کی آئندہ نسلیں جو بچ جائیں ان خار دار تاروں سے باہر نہ نکلیں سکیں۔ بھارت کے انتہائی مشرق میں آسام ہے اور انتہائی مغرب میں کشمیر‘ مودی کے بلکہ آر ایس ایس ایجنڈے کا آغاز ان دو انتہائوں سے ہو رہا ہے۔

بظاہر آسام میں یہ کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش سے بارڈر کراس کرنے والوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جنہیں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ ’’دیمک‘‘ کا نام دیتاہے۔ یہ اور بات کہ اس پردے میں آسام کے لاکھوں مسلمانوں کو کیمپوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی وزیر اعظم میں اتنی ہمت کہاں کہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے اور پوچھے کہ دیمک کون ہے؟ بنگلہ دیشی مسلمان یا آر ایس ایس کے مذہبی جنونی؟ اس کے ساتھ ساتھ مودی حکومت پارلیمنٹ سے ایک بل پاس کرانے کی کوشش کر رہی ہے، اس بل کے مطابق ‘ہندوئوں ‘ بدھوں اورعیسائیوں کو شہریت ثابت کرنے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ صرف مسلمان رہ جائیں گے جن سے شہریت کا ثبوت مانگا جائے گا۔ کئی مسلمان مرد اور عورتیں آسام میں خودکشی کر چکے ہیں۔ بدنیتی کا یہ عالم ہے کہ بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے آنے والے ہندوئوں کے لئے کوئی پابندی نہیں۔ انہیں قبول کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف آسامی مسلمانوں کو زبردستی’’غیر بھارتی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔آثار واضح ہیں کہ آسام اور کشمیر کے بعد بی جے پی کا اگلا نشانہ بہار‘ یوپی اور مدھیہ پردیش ہوں گے۔ پھر یہ تلوار آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مسلمانوں پر گرے گی! اب یہاں نکتہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی توجہ کشمیر کی طرف ہے جب کہ مسلمان کُشی صرف کشمیر میں نہیں پورے بھارت میں کرنے کا منصوبہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔

امیت شاہ جیسا انتہا پسند وزیر داخلہ ہے۔ ادتیا ناتھ۔ ایک متعصب پنڈت۔ یو پی جیسے اہم صوبے کا وزیر اعلیٰ ہے۔ اس کالم نگار نے ادتیا ناتھ کی تقریریں یوٹیوب کے ذریعے سنی ہیں۔شدید سنسکرت زدہ ہندی بولنے والا ادتیا ناتھ کسی قصاب سے کم نہیں! وہ ایک بدمست ہاتھی ہے جو مسلمانوں پر چڑھ دوڑنا چاہتا ہے۔ اِلٰہ آباد کا نام وہ تبدیل کر چکا ہے۔ اگلی باری تاج محل کی ہے۔ دیکھیے۔ اس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ یوں بھی بی جے پی نے اقتدار میں آ کر تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ بات کسی مسلمان نے کہی ہوتی تو کون مانتا۔ مگر یہ کہنا نیو یارک ٹائمز کا ہے۔ یہ امریکی اخبار اپنی حالیہ اشاعت میں لکھتا ہے۔ ’’جب سے 2014ء میں مودی نے اقتدار سنبھالا ہے‘ سرکاری کمیٹیوں نے تاریخ کی کتابیں ازسر نو لکھی ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کے حالات پر مشتمل ابواب غائب کر دیے گئے ہیں اور سرکاری مقامات کے مسلمان ناموں کو ہندو ناموںمیں بدل دیا گیا ہے۔ ہندوئوں کے ہجوم درجنوں مسلمانوں کو جان سے مار چکے ہیں۔ شاید ہی کسی کو سزا ملی ہو‘‘ اگر کوئی غیر ملکی صحافی اس بارے میں بات کرے تو بی جے پی کے عہدیدار یا حکومتی افسر اس ظلم و ستم کو ’’انتظامی اقدامات‘‘ کا نام دے دیتے ہیں! یہ ہے وہ صورت حال جو بھارتی مسلمانوں کو درپیش ہے۔ یہ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیں‘ بھارت کے تمام مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔

ان حالوں‘ اب کوئی احمد شاہ ابدالی تو آنے سے رہا! ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جہاں سے احمد شاہ ابدالی مرہٹوں کو پیچھے دھکیلنے کے لئے آیا تھا‘ وہاں اب حامد کرزئی اور اشرف غنی دونوں بھات کے زلہ خوار ہیں۔ ایک کھلم کھلا اور دوسرا بین السطور! کیا غیب سے کوئی ایسا رہنما اٹھے گا جو مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو شرم دلائے اوربھارتی مسلمانوں کی جان بچانے کے لئے آواز اٹھانے پر مجبور کرے؟ بدبختی کی انتہا یہ ہے کہ شرق اوسط تقریباً سارے کا سارا بھارت کے سامنے سربسجود ہے۔ یوں بھی ’’تعظیمی‘‘ سجدے کے جواز میں فتوے دینے والے علماء سو کی مسلمانوں میں کبھی کمی نہیں رہی۔ لگتا ہے تیس فیصد بھارتی آبادی رکھنے والا یو اے ای ان بھارت نواز مسلمان مملکتوں کا سرخیل ہے! ؎ بسی نادیدنی را دیدہ ام من مرا ای کاشکی مادر نہ زادی یہ سب کچھ جو نہیں دیکھنا تھا‘ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ کاش ماں نے جنا ہی نہ ہوتا! وضاحت۔ اس کالم نگار نے دو دن پہلے اپنے کالم میں مثنوی رومی سے ایک شعر نقل کیا تھا ؎ شیر بی دم و سرو اشکم کہ دید این چینن شیری خدا خود نافرید ہمارے بزرگ اور اردو شاعری کے لیجنڈ جناب ظفر اقبال نے نشاندہی فرمائی کہ اشکم میں الف زائد ہے جو ان کے خیال میں ٹائپ کی غلطی تھا۔ نہایت ادب سے گزارش ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ شکم سے پہلے رومیؔ نے الف اسی طرح ضرورت شعری کے لحاظ سے لگایا ہے جیسے سوار کو اسوار اور شترکو اشتر کر دیا جاتا ہے۔

رومی ہی کا شعر ہے ؎ اشترِ دیوانۂ سر مستِ من سلسلۂ عقل دریدن گرفت ایران کی قابل اعتبار ویب سائٹ ’’گنجور‘‘ پر تو یہ لفظ ’’اشکم‘‘ ہے ہی‘ اس کالم نگار کے پاس جو مثنوی کا آبائی نسخہ ہے اس میں بھی اشکم ہی ہے۔ یہ نسخہ نول کشور کا شائع کردہ ہے اور سال اشاعت1908ء ہے۔ دفتراول کا یہ صفحہ نمبر 76ہے۔ اس اثنا میں معروف فارسی دان‘ محقق اور قدیم فارسی مخطوطات کے ماہر جناب ڈاکٹر عارف نوشاہی کا مکتوب بھی بذریعہ ای میل موصول ہو گیا۔ 23اگست کی ای میل میں عارف نوشاہی لکھتے ہیں۔ ’’مولانا روم نے مثنوی(دفتر اوّل) میں لفظ اشکم (الف کے ساتھ) ہی استعمال کیا ہے۔ اور آپ کا حوالہ بالکل درست ہے۔ مثنوی کے تمام ایڈیشنوں بشمول نکلسن میں اشکم ہی ہے۔ الف کا ایک جواز تو اوپر کالم نگار نے پیش کیا ہے یعنی جس طرح سوار۔اسوار اور شتر۔اشتر ہو جاتا ہے اسی طرح شکم‘ اشکم ہو گیا۔ مگر ڈاکٹر عارف نوشاہی نے ایک اوروجہ بھی بتا کر ہمارے علم میں اضافہ کیا۔ لکھتے ہیں۔ مزید اطلاع کے لئے عرض ہے کہ علامہ دہخدا نے اپنے لغت نامہ میں اشکم کا ماخذ پہلوی زبان سے’’اشکمب‘‘ بتایا ہے۔ معنی وہی بطن اور پیٹ کے ہیں‘‘