’’دو جمع دو= پانچ‘‘ امجد اسلام امجد

بھارتی میڈیا تک براہ راست رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی خبریں اور بالخصوص 5 اگست کو کیے جانے والے مودی کے جارحانہ اقدام کے بارے میں عوام اور دانشوروں کا ردّعمل جن ذرایع سے ہم تک پہنچتا ہے وہ ہرگز مستند اور تسلی بخش نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے میڈیا پر ہر چینل اور اُس کے اینکرز کی پالیسی، معلومات، تععصبات، تحفظات اور ترجیحات کی چھلنیوں سے گزرنے کے بعد جو اطلاعات ہم تک پہنچتی ہیں۔

اُن سے صورتِ حال واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم اور مشکوک ہو جاتی ہے مثال کے طور پر کشمیر میں نافذ کرفیو کے حوالے سے جو ویڈیو فوٹیج عام طور پر دکھائی جاتی ہے وہ صحیح تو ہوتی ہے مگر اُس کا وقت، مقام اور موقع مختلف ہوتا ہے اس کے جواب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس قدر شدید کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے تازہ فوٹیج کا حصول ممکن نہیں تھا (جو واقعاتی طور پر ایک درست بات ہے) سو ویڈیو پکس کی حد تک خبر کی نوعیت کے مطابق اس طرح کی ایڈیٹنگ کرنا پڑتی ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہر نئی خبر کے ساتھ ساتھ بار بار وہی پرانے اسٹاک شاٹس لگانے سے نفسیاتی طور پر ناظرین کے لیے ایک خوامخواہ کی بد اعتمادی کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔

اس میں شبہ نہیں کہ اس کرفیو کے دوران لوگوں کی نقل و حرکت اور مواصلات کے تمام ذرایع پر شدید پابندیاں تھیں اور مقبوضہ کشمیر عملی طور پر قابض فوج اور بھارتی حکومت کے سوا ساری دنیا سے کٹا ہوا تھا خوراک، علاج، بچوں کا دودھ اور بزرگوں کی ادویہ اور اسپتالوں تک رسائی بے حد مشکل بنا دی گئی تھی یہاں تک کہ عید اور جمعے کی نماز کے لیے مسجدوں تک کو بند کر دیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لیے اوسطاً ہر دس افرادپر ایک فوجی متعین تھا نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور کچھ دیگر ضروریات کے حوالے سے شدید قلّت بھی سمجھ میں آتی ہے مگر عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ پندرہ دن تک مسلسل ہر مقامی شخص کو ایک لمحے کے لیے ہی گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے مگر میڈیا پر کہیں بھی اس مسئلے کی تفصیل پر کوئی بات سنائی نہیں دی اور سارا زور ایک ’’مکمل محاصرے‘‘ کی تصویر کشی پر لگا دیا گیا جب کہ میرے نزدیک اصلی صورتِ حال کی رپورٹنگ شائد زیادہ دردناک اور پُر اثر ہوتی غیر ملکی میڈیا، عالمی طاقتوں رائے عامہ اور انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں نے جس طرح سے اس صورتِ حال میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کی حمائت کی ہے۔

یہ ایک بہت بڑی اور خوش آیند تبدیلی ضرور ہے مگر اس مسئلے کا حل دیرپا ہی نہیں پیچیدہ بھی ہے کہ مختلف ملکوں کی رائے عامہ کے برعکس ان کی حکومتیں اپنے اپنے معاشی، تجارتی اور سیاسی مفادات کے حوالے سے زبانی کلامی اظہار ہمدردی اور جمع خرچ سے ہی کام لیں گی کہ آخری تجزیئے میں ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اُٹھانا پڑتا ہے انسانی تاریخ نریندر مودی کی طرح دو اور دو پانچ کرنے والوں سے بھری پڑی ہے اور تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس طرح کے لوگ اپنے ہی تکبّر کے بوجھ تلے دب کر مریں تو مریں اُن کے ارد گرد کی دنیا عام طور پر نہ صرف ایک خاموش تماشائی ہی رہتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنا بوجھ بھی انھی کے پلڑے میں ڈال دیتی ہے۔

دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ اور سچ لکھنے، بولنے اور سوچنے والے دانشور اس ظلم کی موجودگی میں اور اس کے خاتمے کے بعد اس کے بارے میں اپنی آواز بلند ضرور کرتے ہیں لیکن وقتی طور پر جیت ہمیشہ ان زور آوروں ہی کی ہوتی ہے۔

فاشزم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ عوام الناس کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے جادو کا اسیر کر لیتا ہے لیکن یہ وہ بخار ہے جو بہت جلد اُتر بھی جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے زمانے میں ’’بیماری کا یہ دورانیہ‘‘ پہلے سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے اور اس بیماری کو ’’وبا‘‘ کی شکل دینے میں جدید میڈیا کا کردار ہولناک بھی ہے اور شرمناک بھی کہ اس کے عمومی انسان دشمن اور معاندانہ رویئے کی وجہ سے اس آگ کو غیر فطری طور پر ہوا ملتی رہتی ہے بھارتی میڈیا کے اس کردار کی جو جھلکیاں سوشل میڈیا اور فیس بک وغیرہ کی معرفت دیکھنے میں آتی ہیں وہ اس رویئے کی ایک زندہ مثال ہیں کہ کس طرح نفرت کے ایجنڈے کو شد و مد سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

بظاہر یوں معلوم ہوتا کہ پورا ہندوستان اور بالخصوص ساری کی ساری ہندو قوم اس عمل میں اُن کے ساتھ ہے جب کہ عملی طور پر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ مودی اور بی جے پی کی اس انسان دشمن اور تعصب پر مبنی سوچ کا دائرہ اُن کی حکومت، میڈیا کے بیشتر حلقے اور غربت اور جہالت کے مارے اور غصے سے بھرے ہوئے ایک مخصوص انتہا پسند سوچ رکھنے والے ہندوتوا کے سحر میں اسیر عوامی گروہ تک تو یقینا پھیلا ہوا ہے مگر یہ سب لوگ مل کر بھی ایک اقلیت کا درجہ رکھتے ہیں کہ بھارت کے عوام اور صائب الرائے لوگوںکی ایک بہت بڑی اکثریت نہ صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی اپنے اپنے انداز میں مذّمت بھی کرتی ہے اس سوشل میڈیا کی معرفت ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں کی اسمبلیوں، سیاسی جماعتوں ، یونیورسٹیوں ، میڈیا اور عوام میں ’’بھارتی حکومت‘‘ کے موجودہ روّیئے کے خلاف بے شمار اور مسلسل آوازیں بھی اُٹھ رہی ہیں۔

پاکستان میں یہ صورتِ حال کئی حوالوں سے زیادہ مثبت اور بہتر ہے کہ اِکا دُکا جنگ اور بم پھوڑنے وغیرہ کی غیر ذمے دارانہ باتیں کرنے والے شائد مل جائیں مگر یہاں کی حکومت اور عوام مسلسل امن، محبت، بھائی چارے، صلح صفائی اور انصاف کی حمائت کرتے نظر آتے ہیں جس کی تازہ تر مثال اس صورتِ حال کی سنگینی پر عمران خان کا یہ بیان ہے کہ دنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے اس طرح آمنے سامنے ہونے پر سوچنا اور اس کو ختم کرنے کے ذرایع پر غور اور عمل کرنا چا ہیئے کہ یوں تو جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا آخری اور بہتر حل نہیں ہوتی مگر اب اگر خدانخواستہ کہیں ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی تو کوئی بھی یہ کہنے کو باقی نہیں بچے گا کہ ’’ہمارا تو اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں!‘‘