فارغ نہ رہ کچھ کر لیا کر - حذیفہ خلیق

دین اسلام انسانیت کے لیے اخروی فلاح کا پیغام ہی نہیں بلکہ اجتماعی و انفرادی زندگی میں کامیابیوں و کامرانیوں کا ضامن بھی ہے۔ معاشرتی زندگی میں ایک فرد کی اہمیت، اس کا کردار، اور اس کی شخصیت کی تعمیر سمیت ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اسلامی تعلیمات اپنی مثال آپ ہیں۔

سائنسی و عصری علوم نے آج چودہ سو سال کے بعد یہ ثابت کیا کہ نوع انسان کو ہمہ وقت کسی نہ کسی کام میں خود کو مشغول رکھنا چاہیئے یا پھر اسے ایک مشغلہ ضرور اختیار کرنا چاہیے، چاہے وہ کھیل کی صورت میں ہو ، یا تفریح کی، یا سیر و سیاحت کی۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا کہ ایسے مشاغل کا عدم اہتمام ٹینشن، ڈپریشن، ذہنی و جسمانی کمزوریوں سمیت مختلف قسم کی نفسیاتی امراض کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف قرآن کریم میں یہ پیغام آج سے 1400 سال پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ (پھر جب تو فارغ ہو تو محنت کر)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور سیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی فارغ نہیں رہا کرتے تھے۔ ہر وقت انسانی فلاح، معاشرتی اصلاح، اسلام کی اشاعت اور انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اور اسی بابت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد منقول ہے کہ باب: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ (مشکوۃ : 5065) اور انہی پانچوں میں یہ ارشاد واضح ہے کہ فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جان کر کسی اچھی مشغولیت میں صرف کرنا دین و دنیا کی بھلائی کا سبب ہے۔

عالم اسلام کے مشہور علمی شخصیت امام ابن تیمیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ انسان کے ساتھ عاجزی اور بیماری کے دن اس دن کا سا ہوتا ہے جو وہ ایام صحت میں گزارتا تھا۔ اگر انسان اپنے فارغ اوقات، اپنی جوانی اور تندرستی کے لمحات اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور مخلوق خداوندی کی خدمت میں گزارتا ہو تو اللہ تعالیٰ بیماری اور عاجزی کے دنوں میں بھی ان کے نامہ اعمال میں اس کے خدمت خلق اور اطاعت والے اعمال کا ثواب لکھتا ہے، اور بیماری کے دنوں میں بغیر عمل کے ثواب کماتا رہتا ہے۔

عصر حاضر کی قابل تقلید اشخاص نے بھی کامیابی کے متلاشی انسانوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ کامیابی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ انسان کام کرے اور مشغول رہے۔ اسی ضمن میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان "کام کام اور بس کام" آب زر سے لکھنے کے قابل ہے. فلسفہ اقبال و رومی اسی نکتہ کے گرد گھومتے ہیں کہ انسان اپنی انفرادی و ملی زندگی میں اپنی پہچان کرے اور اپنی زمہ داریوں کا احساس کرے، اور اپنے اوقات کا صحیح مصرف پیدا کرتے ہوئے ایک نافع زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔۔

آج یہ ایک المیہ بن چکا ہے کہ دور حاضر کا انسان جفاکشی، محنت اور صحت مند مشاغل سے جی چرا کر کامیابی اور کامرانی کو قسمت کا کھیل سمجھتا ہے اور بزعم خود کو اعلی پایے کا متوکل سمجھتا ہے، اور یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اللہ پر توکل ایمان ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے ، ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ اسلئے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں جو اللہ چاہے وہی انسان کا مقدر اور نصیب ہے۔ لیکن یہ محض ایک شیطانی وسوسہ اور نورانی چال ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عمل سے عاری اور محنت سے جی چرا کر غیروں کے سہارے جیتے ہوئے مدد خداوندی کا انتظار کیا جائے اور اچھے سپنے دیکھے جائیں۔ توکل کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص زمین پر بیج ڈالتا ہے، تخم ریزی کرتا ہے، کھیت جوتتا ہے اور پانی کا انتظام کرتا ہے اور نتائج اللہ پر چھوڑتا ہے وہی سچا متوکل ہے، نہ کہ وہ جو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوتا ہے۔

ہم اس سے چشم پوشی نہیں کر سکتے کہ جدید ایجادات و اختراعات ، سوشل میڈیا اور بے فائدہ مشاغل نے انسان کو ضیاع وقت کے گناہ کا عادی بنادیا ہے۔ نوجوانان اسلام اس جال میں پھنس کر اپنی پہچان ،خودی ،حمیت و جذبہ کھو چکے ہیں۔ آج کے اس تند و تیز دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نونہالان وطن کو صحت افزا مشاغل میں مصروف رکھا جائے اور تعمیر شخصیت کے لیے انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں اور یہ پیغام ان دل و دماغ میں بٹھادیا جائے کہ فارغ نہ رہ کچھ کر لیا کر....کرنے کے لئے کچھ نہ ملے تجھ کو اگر۔۔۔ تو پرانا کپڑا ادھیڑ کر سیا کر۔

ٹیگز