گالی بہترین دلیل ہے - ابو الحسین آزاد

جب تک اخبارات و رسائل ہی اظہارِ رائے کے پلیٹ فارم تھے تب تک تحریر معیار اور مدیر کی چھلنی سے گزرے بغیر شایع نہیں ہو سکتی تھی۔ اسی طرح تحریروں پر کیے جانے والے سارے تبصرے بھی حلقہءِ قارئین تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے تھے، بلکہ تحریر کے حق یا اس کی مخالفت میں لکھا جانے والا وہی تبصرہ لائقِ اشاعت سمجھا جاتا تھا جو قوتِ دلیل، رفعتِ فکر، زبان و بیان کی خوبصورتی اور حسنِ انشاء جیسی صفات سے لیس ہوتا تھا، نیز اس میں پائے جانے ہر طرح کے سقم کو مدیر صاحب اپنی قطع و برید کے ذریعے دور کر کے اسے ایک جان دار تبصرے کی شکل میں شایع کرتے تھے۔ بازاری لب و لہجے، سوقیانہ خیالات، فحش گوئی اور ذاتیات پر حملے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

لیکن اب زمانے کے انداز بدل گئے ہیں۔ پرانے راگوں کی جگہ نئے سازوں نے لے لی ہے جن کے اپنے قاعدے اور اپنے ضابطے ہیں۔ اب سوشل میڈیا کی نعمت آسمان سے زمین پر اتر چکی ہے۔ اخبارات و رسائل اگرچہ اب بھی اپنی سابقہ پالیسی پر قائم ہیں لیکن سوشل میڈیا کا معاملہ ذرا نرالے رنگ کا ہے۔ اس کی جدت کے سامنے سکہ بند قواعد و ضوابط اور صحافتئ اخلاقیات کے بڑے بڑے برج دھڑام سے زمین بوس ہو گئے ہیں۔

اس طلسم ہوش رُبا میں تحریر کو اشاعت کے لیے کسی تکلف کی ضرورت ہے، نہ ہی تبصرہ کسی رکھ رکھاؤ کا محتاج ہے۔ بس اِدھر ذہن میں کسی گمان کی بجلی کوندی اور اُدھر تحریر نے قارئین کے ایک وسیع حلقے تک رسائی حاصل کر لی۔ اسی طرح اُدھر قاری تحریر پڑھنے سے فارغ ہوا اور اِدھر اس کا تبصرہ کمنٹس (comments) کی شکل میں لکھاری کے دروازے پر دستک دینے لگا۔

چوں کہ فاصلے ختم ہوگئے ہیں اور واسطے اور حجاب اٹھ گئے ہیں، اس لیے تکلفات، رکھ رکھاؤ اور ادب آداب کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اب ہم خوب کھل کر آتے ہیں۔بے تکلفی بے لباسی تک جا پہنچتی ہے اور کسی تحریر کے رد میں لکھا جانے والا تبصرہ ننگی گالیوں کا روپ دھار لیتا ہے۔ وہ لب و لہجہ جو کل تک اُجَڈ اور گنوار لوگوں کی نجی محفلوں اور بازاری گٹھ جوڑوں میں سننے کو ملتا تھا اب قلم بند ہو کر تحریری شکل میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ وہ گالیاں جنہیں فیروز اللغات کے ناشر نے لغت سے حذف کر دیا تھا از سرِ نو لوح و قلم کی جبین پر چمکتی دکھائی دینے لگی ہیں۔

اب یہ ہمارا قومی شعار اور ٹرینڈ بن چکا ہے کہ نظریاتی یا سیاسی مخالف کو دلیل سے جواب دیں یا نہ دیں، اس کی ذات، کردار اور نسب کو ضرور ناپتے ہیں۔ جو لوگ قدرے ''مہذب'' ہوتے ہیں وہ بھی فریقِ مخالف کو احمق، جاہل، نمونے اور فسادی ٹولے جیسے ''پارلیمانی'' سے القابات نوازے بغیر نہیں رہتے۔ ٹرینڈ سے یاد آیا کہ ابھی حال ہی میں ٹوئیٹر پر پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈ پر ہم اپنی قومی اخلاقیات کا مظاہرہ یوں کر رہے تھے کہ اوپر تلے چند معروف سیاسی اور صحافی شخصیات کے ناموں کے ساتھ خبیث، ذلیل اور اسی طرح کے چند مزید حیا باختہ القابات درج تھے۔جنہیں تحریر کرنا میں لوح و قلم کی حرمت کے خلاف سمجھتا ہوں کہ نقلِ کفر بھلے کفر نہ ہو لیکن نقلِ بے حیائی، بے حیائی ہی ہوتی ہے اگرچہ اب زمانہ بہت بدل گیا ہے۔

جہانِ علم و دانش کی انتہائی بلند قامت شخصیات اور دنیا بھر میں اپنے فکر و فن کا لوہا منوانے والے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، صحافیوں اور علما کی تحریروں اور بیانات پر لکھے جانے والے ہمارے تبصرے ہماری بدترین اخلاقی زبوں حالی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایسے لگتا ہے جیسے اس قوم نے کسی اسکول، کالج یا مدرسے کا صدر دروازہ بھی نہیں دیکھا اور یہ کسی لائبریری کے تو پچھواڑے سے بھی نہیں گزری۔ اِسے نہیں معلوم کہ علمی تنقید کا طنز و استھزاء اور تمسخر سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ نظریاتی مخالفت میں ذاتیات پر حملوں اور گالم گلوچ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کسی کی رائے، سیاسی موقف یا تجزیئے سے اتفاق کرنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ اس کے مقام و مرتبے ہی کو نظر انداز کردیں۔ اس کے علمی قد کاٹھ ہی کا لحاظ نہ کریں اور اس کی سماجی، سیاسی، صحافتی، ملی اور دینی خدمات ہی کو فراموش کردیں۔

آخر کو اختلافِ رائے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں، اگر آپ ان سے ناواقف ہیں تو براہِ کرم چہار دانگ میں اپنی حرمان نصیبی کی نمائش تو نہ کریں۔ یہ کیا ضروری ہے کہ آپ ہر ایک کو بتاتے پھریں کہ آپ تربیت کے جوہر سے محروم ہیں یا آپ کا موقف اس قدر کم زور ہے کہ دلائل کے خلا کو گالیوں کے ذریعے پُر کر نا پڑ رہا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم علم اور دلیل کو مانتے ہی نہیں۔ ہمارا سماج اور ہمارا خاندان ہمیں جو کچھ دے دیتا ہے وہ لوہے پر لکھی لکیر ہے۔ ہماری درس گاہ اور ہماری سطحی ذہنیت جس موقف کو اختیار کر لے وہ آسمانی وحی کی طرح ناقابلِ تبدیل ہے۔ جدید تہذیب کی چمک دمک اور کم علمی کے نتیجے میں ہم ایک دفعہ جو عقیدہ اپنا لیں وہ حق کی آخری صدا بن جاتا ہے۔ ہماری جہالت اور نفسانی خواہشات ہمیں جہاں لے جائیں وہی رستہ صراطِ مستقیم بن جاتا ہے۔اس سے ٹلنے اور پلٹنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہا بحث و مباحثہ! تو جس کے جی میں آئے ہمارے نظریات (جو دراصل ہماری نفسانی خواہشات کی ایک مہذب شکل ہیں) کو چیلنج کرے، ہم نے گالیوں سے اس کا منہ بند نہ کر دیا تو پھر کہنا۔

ہمارے نزدیک گالی بہترین دلیل ہے۔ جسے سن کر مخالف اپنا نظریہ بدلے یا نہ بدلے، یہ فائدہ کیا کم ہے کہ اسے بول کر ہمارا اپنے نظریئے پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے اور علم الیقین سے حق الیقین تک کے سارے بے کراں مرحلے آن کی آن میں طے ہوجاتے ہیں۔