’’ازالہ کون کرے گا۔۔۔‘‘ - احسان کوہاٹی

اس نے بس دو لفط کہے اور اس کے بعد اس کی سسکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا، وہ بس روئے جا رہی تھی۔ اور سیلانی اسے چپ کرانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ آخر کار وہ خود ہی ہار کر چپ ہو گیا۔ اس نے اس لڑکی کو دل کا غبار نکالنے کے لیے چھوڑ دیا تاکہ اس کا من ہلکا ہوجائے اور وہ بات کر سکے اور ایسا ہی ہوا۔ تھوڑی دیر بعد اس کی سسکیاں رکیں تو سیلانی نے نرمی سے پوچھا: ’’بیٹا! ایساکیا ہوا کچھ بتاؤ تو سہی۔‘‘

سیلانی کو اس سوال کے جواب میں وہ دکھ بھری کہانی سننے کو ملی کہ دل مسوس کر رہ گیا۔ وہ اپنے بیٹے منیب کواسکول چھوڑنے کے بعد گود میں لیپ ٹاپ لیے سیالکوٹ کے شوالہ تیجاسنگھ مندر کی تصویریں دیکھتے ہوئے افسوس کرر ہا تھا کہ سیالکوٹ میں ہوتے ہوئے بھی وہ ایک ہزار برس پرانی یہ یادگار کیوں نہ دیکھ سکا۔ وہ ایک روز قبل ہی سٹی ہاؤسنگ اسکیم سیالکوٹ میاں منظورصاحب کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ اسے اس مندر کی خبر ہوتی تو پراسراریت میں لپٹے اس مندر کو دیکھنے ضرور جاتا۔ کہتے ہیں 1947ء کے بٹوارے میں ہندو آبادی کے انخلاء کے بعد اس مندر کو تالے لگ گئے تھے۔ کہنے کو تو یہ مندر اوقاف کے پاس تھا لیکن درحقیقت اسے نشے کے عادی افراد نے اپنی آماجگاہ بنا رکھا تھا۔ وہ یہاں پاؤدڑ بھرے سگریٹ پھونکتے تھے۔ آوارہ لچے بدمعاش یہاں پڑے رہتے تھے۔ کسی بھلے آدمی نے حکومت کو اس کا احساس دلایا تو ہزا ر برس پرانے مندر کے دروازے کھول دیے گئے اور مندر میں ایک بار پھر بھجن گائے جانے لگے، گھنٹا بجنے لگا، پوجا پاٹ ہونے لگی۔ عالمی اخبارات میں بھی اس پر مضامین لکھے گئے، رپورٹس شائع ہوئیں۔ سیلانی نیٹ پر اسی مندر کی تصاویر دیکھ رہا تھا کہ اس کے فون پر آنے والی کال نے اسے متوجہ کیا۔

سیلانی نے فون اٹھا کر ہیلو کہا تو دوسری جانب سے کسی نے سوالیہ لہجے میں پوچھا : ’’سیلانی بھائی؟‘‘، سیلانی نے اثبات میں جواب دیا تو دوسری طرف کوئی ایسے رونے لگا جیسے وہ سیلانی ہی کا منتظر تھا۔ سسکیاں تھیں کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھیں۔ خوب رو لینے کے بعد جب اس لڑکی کا جی ہلکا ہوا تو وہ رندھی ہوئی آواز میں اپنی بپتا سنانے لگی:

’’میں ایک سوزوکی ڈرائیور کی اکلوتی بیٹی ہوں، میرے والد مانسہرہ کے رہنے والے ہیں۔ میری امی بتاتی ہیں کہ مجھ سے پہلے میرے چار بھائی ہوئے لیکن وہ چند ماہ ہی جی سکے، پتہ نہیں کیا بات تھی۔ امی بتاتی تھیں کہ وہ ٹھیک ٹھاک صحت مند پیدا ہوتے لیکن پھر بیمار پڑ جاتے اور تین سے چار ماہ میں ان کا انتقال ہو جاتا۔ میں پیدا ہوئی تو میرے والد نے مجھے گود میں لیا،گھر چھوٹے بھائی کے حوالے کیا اور کراچی آگئے۔ یہاں انہوں نے تین ہٹی میں کرائے کا مکان لیا اور محنت مزدوری کرنے لگے۔ ان کے پاس ڈرائیونگ کا ہنر تھا، وہ سوزوکی چلانے لگے۔ ابا حساب کتاب میں بہت کھرے اور صاف گو ہیں، اس لیے انہیں گاڑی دینے والا مطمئن رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے ابا صبح دس بجے جاتے اور رات دس سے پہلے واپس نہ آتے۔ ہم تین افراد تھے گھر کا کرایہ ادا کرنے کے بعد بھی گزر بسر آسانی سے ہو رہی تھی۔ میرے والد مجھے خوب پڑھانا لکھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھے ایک اچھے اسکول میں ڈال دیا۔ میں پڑھتی رہی، میرے اخراجات بڑھتے گئے اور ابا کی مزدوری کے گھنٹے بھی بڑھتے گئے۔ آٹھویں کلاس میں تھی جب امی نے ناشتے پر ابا سے کہا کچھ بیٹی کا بھی خیال ہے کہ نہیں، بڑی ہونے لگی ہے کل کو اس کے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں ۔ سیلانی بھائی! مجھے اچھی طرح یاد ہے ابا کے ہاتھ میں پراٹھے کا نوالہ تھا وہ ان کے ہاتھ ہی میں رہ گیا، ان کی نظر مجھ پر جیسے جم گئی ہوں۔ میں نے دیکھا کہ انکی آنکھوں میں نمی آگئی۔ ان کے کاندھے پر بڑا سارومال ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سے آنکھیں صاف کیں، اور کہنے لگے ’’یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ لیکن میں اسے رخصت کیسے کروں گا میں تو مر جاؤں گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے سیلانی سے مخاطب کی آواز بھی رندھ گئی۔

وہ کہنے لگی، ’’سیلانی بھائی ماں باپ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ میں آپ کے کالم پڑھتی ہوں۔ آپ بڑے پیار سے شیث خان، منیب کا ذکرکرتے تھے اور اب آپ کی ایک بیٹی بھی ہے۔ آپ اس بہت پیار کرتے ہیں لیکن میرے ابا جتنا پیار نہیں کرتے ہوں گے۔ آپ یقین کریں گے جب کبھی میں بیمار ہو تی اور ڈاکٹر انجکشن کا کہتے تو ابا مجھے امی کے حوالے کر کے باہر نکل جاتے کہ میں اسے انجکشن لگتا نہیں دیکھ سکتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مجھے ان کے سامنے انجکشن لگا میں رونے لگی تو وہ بھی مجھے سینے سے لگا کر رونے لگے۔ ابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، جب امی نے ان کی توجہ میرے جہیز کی طرف کرائی تو انہوں نے رات کو بھی سوزوکی چلانی شروع کر دی۔ وہ دن کے وقت پاک کالونی کی ماربل مارکیٹ میں کام کرتے اور رات دو بجے سبزی منڈی چلے جاتے۔ اس اضافی آمدنی سے انہوںنے کمیٹی ڈال لی، کمیٹی نکلی تو انہوں نے میری امی سے مشورہ کرکے میرے لئے ایک ڈنر سیٹ اور اسی طرح کا دوسرا سامان خرید لیا۔ اب ابا کی یہی روٹین بن گئی تھی وہ ہمارے پاس دو تین گھنٹوں کے لیے ہوتے اور دن رات سوزوکی چلاتے رہتے میں ان سے لڑتی کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے کہیں نہیں جاناآپ دن رات کام پر رہتے ہو مجھ سے اچھی تو وہ سوزوکی ہے جو انیس بیس گھنٹے آپ کے ساتھ رہتی ہے۔ میری بات پر وہ ہنس پڑتے اور وعدہ کرتے کہ کل چھٹی کروں گا تو مجھے اپنے ہاتھوں سے آلو گوشت بنا کر کھلانا اور سیلانی بھائی! وہ چھٹی کبھی نہ آتی انہوں نے میری شادی کے لئے جہیز جمع کرنا زندگی کا سب سے بڑا ٹاسک بنا لیا تھا۔ ہمارے گھر کی کوٹھڑی میں سامان بھرتا چلا گیاجب بھی ابا کی کمیٹی نکلتی ابا میرے جہیز کے لئے کچھ نہ کچھ لے آتے۔

یہ بھی پڑھیں:   انااورفنا - محمد ناصر اقبال

میں نے میٹرک کیا جس کے بعد انہوں نے مجھے خود کالج میں داخلہ کرایا۔ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کے کالج پڑھنے کا رواج نہیں ہے۔ میری دادی اس بات پر سخت خفاہوئیں انہوں نے کہا کہ کراچی جا کر تو نے ہماری ناک کٹوا دی ہے بیٹی کو کالج سے نکال اور اپنے گھر کا کر ،دس جماعتیں بہت ہیں۔ ۔لیکن ابا نے کسی کی نہ سنی اور مجھے سرسید کالج میں داخل کرایا۔ ابا مجھے خود کالج لے کر گئے تھے۔ بس انہوں نے ایک بات کہی تھی بیٹا! یہ دوپٹہ کپڑے کا ٹکڑا نہیں میری عزت اور غیرت ہے، اس کا دھیان رکھنا۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے سیلانی کی موجودگی محسوس کرنے کے لئے پوچھا’’سیلانی بھائی ! آپ سن رہے ہیں ناں۔‘‘
’’جی بیٹا ! میں پوری توجہ سے سن رہا ہوں‘‘
’’شکریہ سیلانی بھائی ! آج دل بہت بھرا ہوا ہے۔ آپ سے بات نہ کرتی تو شاید پھٹ جاتا۔‘‘

’’اللہ نہ کرے اللہ آسانیاں پیدا کرے ۔۔۔پھر کیا ہواکیا کالج میں کوئی مسئلہ ہو گیا‘‘
’’نہیں نہیں وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوا، مسئلہ تو بس آسمان سے ہوا ہے۔ فرسٹ ائیر میں میری منگنی ماموں زاد سے کر دی گئی۔ وہ یہیں لانڈھی میں رہتے ہیں۔ چودہ اگست کو میری شادی کی تاریخ رکھ دی گئی۔ ابا کہتے تھے کہ تیری شادی کی سالگرہ پورا پاکستان منایا کرے گا۔ امی اور ابا مطمئن بھی تھے اور افسردہ بھی۔ انہیں میرے جانے کا دکھ تھا اور اطمینان اس بات کا تھا کہ میں اپنوں ہی کے گھر جا رہی ہوں۔ ابا نے میرے لیے جانے کیا کیا جمع کر رکھا تھا۔ آٹو میکٹک واشنگ مشین سے لے کرائیر کنڈیشنڈ تک۔ ابا نے دبئی سے آٹا گوندھنے والی مشین تک منگواچھوڑی تھی۔ میرے لئے تین ڈنر سیٹ خریدے تھے اور دو لاکھ روپوں کا فرنیچر بھی بنوایا۔ اس رات ابا خود وہ فرنیچر لے کر گھر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا سامان میری بیٹی کی ڈولی کے ساتھ ساتھ جائے گا۔ اور پھر سیلانی بھائی ! رات کو بارش ہوگئی ،ایسی طوفانی بارش تھی کہ ہم کچھ بھی نہ کر سکے۔ علاقے میں بجلی نہیں تھی، ہمیں پتہ بھی نہ چل سکا اور جب تک پتہ چلا برساتی پانی کا ریلا گھر میں داخل ہو چکا تھا۔ میرا سارا جہیز برباد ہو گیا۔ ابا نے پڑوسیوں کی مدد سے ریفریجریٹر، ٹی وی وغیرہ چارپائی پر رکھ دیا لیکن پانی تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ لگتا تھا پوری کراچی کا پانی ہمارے گھر میں داخل آرہا ہے۔ میرا جہیز پانی میں تیرنے لگا۔ محلے والے اچھے تھے وہ جو جو چیز بچا سکتے تھے بچا لیا لیکن بہت نقصان ہوا۔ یہ دیکھ کر ابا دل پکڑ کر بیٹھ گئے، انہیں دل کا دورہ پڑا اسپتال کے لیے نکلے لیکن کیسے پہنچتے سڑکیں تو ندی نالے بنے ہوئے تھے گاڑیاں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں ابا کے دوست چچا مراد کا ٹرک ہے۔ انہوں نے بھاگ کر اپنا ٹرک نکالا اور ہم اس پر ابا کو لے کر اسپتال پہنچے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

’’آپ کے ابا تو اب ٹھیک ہیں ناں ‘‘سیلانی نے دھک دھک کرتے دل سے پوچھا۔
’’جی جی الحمد اللہ وہ اب ٹھیک ہیں لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ کراچی کے اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے، آپ اسلام آباد چلے گئے ہیں ناں وہاں وزیر اعظم سے کبھی ملاقات ہو تو میری طرف سے پوچھیے گا کراچی کا ہاتھ ہوگا اور آپک ا گریبان ؟آپ نے کراچی کا حال دیکھا ہے اب تک بارشوں کی یادگاریں باقی ہیں، ہمارے پیچھے والی گلی میں انیس سال کا لڑکا کرنٹ لگنے سے تڑپ تڑپ کر مر گیا،ان تین دوستوں کی وڈیو آپ نے دیکھی ہے ۔۔۔میں تو دیکھ بھی نہیں سکتی ،کیسے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں ۔۔۔سیلانی بھائی! اس تباہی کی ذمہ دار کون ہے؟ اس شہر میں تیس چالیس سالوں سے کون حکمران ہے؟ آپ کے نیوز چینل چیختے رہتے ہیں کہ کراچی ملک چلا رہا ہے کراچی ملک چلا رہا ہے تو پھر کراچی کو کیوں جلایا جا رہا ہے کوئی کراچی کے قاتلوں کو پکڑتا کیوں نہیں؟،میرے ماموں بہت اچھے انسان ہیں انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ابا سے کہا کہ ہم نے تو پہلے بھی کہا تھا کہ ایک چھوڑ کر دوسرا جوڑا کپڑوں کا نہیں چاہئے تھالیکن ابا اب بھی مجھے دیکھ کر روتا رہتا ہے کہتا ہے میری جگ راتوں کی محنت تھی وہ میری بیٹی کا حق تھا میں نے پائی پائی جوڑ کر بیٹی کا جہیز بنایا تھا۔۔‘‘

سیلانی سے مخاطب بہن بیٹی نے اپنا نام نہیں بتایا۔ بس اس کا کہنا تھا کہ وہ اس کراچی کی بیٹی ہے جسے لوٹ کا مال سمجھ کر حصے بخرے کیا گیا۔ سب نے اس کو نوچ نوچ کر کھایا ہے اور آج اس کا مردہ انفراسٹرکچر بدبو چھوڑ رہا ہے، تعفن سڑاند دے رہا ہے۔ آج ایوان صدر کے مکین عارف علوی کراچی والوں کے ووٹ سے اسلام آباد میں ہیں، چالیس برسوں سے کراچی پرراج کرنے والی ایم کیو ایم کے دو وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اوربیرسٹر فروغ نسیم بھی کراچی سے ہیں۔ تحریک انصاف کے علی زیدی اور فیصل واؤڈا صاحب کو جھنڈے والی گاڑی بھی اسی کراچی والوں کی مرہون منت نصیب ہوئی ہے لیکن کراچی کے لئے ان کے پاس صرف بنا ہڈی کے گوشت کا پانچ انچی لوتھڑا ہے جسے زبان کہتے ہیں، یہ نیوزکانفرنسوں ٹاک شوز میں بس اس لوتھڑے کو ہلاکر کراچی کا حق پورا کر رہے ہیں۔ آج علی زیدی کی صفائی مہم کہاں ہے؟ عمران خان کا کراچی پیکج کس ریفریجریٹر میں ہے ؟پیپلز پارٹی سے تو کچھ کہنا ہی بے کار ہے، سعید غنی صرف زبان کے غنی ہیں، ان جیالوں اور حق پرستوں نے باریاں لگا لگا کر کراچی کی شہ رگ پر دانت گاڑے رکھے ایک کی پیاس بجھتی تو دوسرا دانت گاڑ دیتا تھا۔

آج کراچی کا یہ حال ہے کہ اپنے قدموں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا، کراچی والے گند کھا رہے ہیں اور گند اگل رہے ہیں ،نالیں پارکیں بیچ کھائی گئی ہیں ایسے میں کراچی کی بیٹی کی فریاد کون سنے گا؟لے دے کر عدالتیں ہی بچی ہیں جس میں عزت مآب جج صاحبان مقدمات کی سماعتوں کے دوران اخباروں کی شہ سرخیاں اور نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز بنوا کر چل دیتے ہیں ،کمرہ عدالت میں گرجنے برسنے کا کراچی کی انتظامیہ وزراء اور مشینری پر کیا اثرہوناہے ؟ انہوں نے ایک کان سننے کے لئے اور دوسرا سنا ہوا نکالنے کے لئے رکھ چھوڑاہے،کراچی کی بیٹی خوش نصیب ہے کہ اس نے شفیق باپ نہیں گنوا دیا سسرال اچھا ملا ہے کہ جس نے جہیز کی فہرست نہیں تھمائی تھی جن بیٹیوں بہنوں کے جہیز اس برسات کی نذر ہوئے جن کے ہاتھوں کی مہندی نالائق نااہل کام چور بدعنوان بلدیہ اور حکومت کے سفاکانہ اغماض نے بہائی اسکا ازالہ کون کرے گا؟کراچی دم توڑ رہا ہے دو ا کون کرے گا۔۔۔سیلانی یہ سوچتا ہوا چشم تصور سے کراچی کی گلیوں کومٹیالے پانی کی ندیاں بنا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.