حالتِ جنگ اور قومی دھارا - حبیب الرحمن

پاکستان میں دو فلسفے ایسے ہیں جو آج تک حلق سے اتر کر نہیں دیئے۔ ایک گزشتہ 72 سال سے پاکستان کا حالت جنگ میں رہنا اور دوم "قومی دھارا"۔ جب بھی پاکستان میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہوا چلتی ہے، وہ حکومت کی تبدیلی کی ہوا ہو یا اداروں کے سربراہوں کی، جو بات بہت شدت سے کہی جاتی ہے وہ یہی کہی جاتی ہے کہ پاکستان "حالتِ جنگ" میں ہے۔ یہ جنگ بھی بہت عجیب و غریب ہے جس میں نہ تو کہیں سے گولیوں کی تڑا تڑ سنائی دے رہی ہوتی ہے، نہ توپیں گرج رہی ہوتی ہیں، نہ ٹینک حرکت میں آئے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ ہی فضا میں جنگی جہازوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہوتی ہے لیکن کہا یہی جارہا ہوتا ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ اگر حالت جنگ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سرحدوں کی صورت حال عام طور پر کشیدہ رہتی ہے اور چھوٹی بڑی جھڑپیں چھڑی رہتی ہیں تو اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں لیکن اس لحاظ سے تو پھر صرف پاکستان ہی نہیں، افغانستان، ایران اور بھارت، سبھی حالت جنگ میں شمار ہونگے اس لئے کہ ہماری سرحدیں ان ہی تین ممالک سے کشیدگی کا شکار رہتی ہیں۔ افغانستان کا معاملہ خطے کے سارے ممالک، بشمول پاکستان، بہت مختلف ہے اور گزشتہ چار دہائیوں سے وہ واقعی حالت جنگ میں ہی ہے اس لئے اگر وہاں یہ شور اٹھتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورت میں وہاں صاحبانِ اقتدار کی الٹ پھیر یا اداروں کے سربراہوں کی تبدیلی کسی بہت بری خبر کا سبب بن سکتی ہے، تو کچھ تعجب کی بات نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان افغانستان کی سی صورت حال کا شکار نہیں اس لئے یہاں کسی بھی قسم کی اقتدار کی تبدیلی یا اہم اداروں کے سربراہان کی اتھل پتھل کے موقع پر اس بات کو شدت سے دہرانا کہ پاکستان "حالتِ جنگ" میں ہے سراسر عقل و سمجھ سے بالا تر لگتا ہے۔

اس خطے میں شامل ایران پاکستان سے بھی زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا نظر آتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ واقعی حالت جنگ میں گھرا ہوا نظر آیا ہے۔ عراق کی جنگ نے اس کو شدید مشکلات کا شکار کرکے رکھ دیا تھا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جنگ کے بادل اس پر منڈلاتے ہی رہے ہیں۔ امریکہ نے اس پر ہزار قسم کی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور حالیہ کشیدگی اسے مزید ابتر صورت حال کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ایسا ملک اگر یہ شور مچائے کہ وہ حالت جنگ میں ہے تو بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے لیکن وہاں سے کبھی ایسی دوہائیاں سننے کو نہیں ملیں اور ان کے سارے معاملات زندگی اور حکومتی امور اپنے معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت قریب قریب ایک جیسی صورت حال کا شکار ہیں تا ہم پاکستان سے کہیں زیادہ بھارت اندرونی خلفشار کا شکار نظر آتا ہے اور اس کی سرحدیں، خواہ وہ پاکستان کے ساتھ والی ہوں یا چین کے ساتھ جڑی ہوں، کشیدگی کا شکار رہتی ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سرحدی کشید گی میں ساری کی ساری حماقت بھارت ہی کی ہے اس لئے کہ اسے اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنے کا ڈھنگ ہی نہیں آتا لیکن بہر صورت حالات اس کے اپنے بھی ٹھیک نہیں پھر بھی اس کے سارے معاملات زندگی اور امور مملکت معمول کے مطابق رواں دواں ہیں اور وہاں آج تک کسی بھی حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی یا اہم اداروں کے سر براہوں کے رد و بدل کے موقع پر یہ شور برپا نہیں کرنا پڑتا کہ ہم "حالتِ جنگ" میں ہیں۔

ایک جانب پاکستان میں حالت جنگ کا ختم نہ ہونے کا محاذ ہے تو دوسری جانب ایک مصیبت "قومی دھارے" کی بھی ہے۔ پاکستانی قوم خود کیا ہے اور وہ کہاں پائی جاتی ہے، اول تو یہ بات از خود حل طلب ہے اور پھر "قومی دھارا" ہوتا کیا ہے؟، یہ بات بھی شاید ہی قیامت سے پہلے سمجھ میں آسکے۔

پاکستان ایک نظریہ کے نام پر وجود میں آیا تھا ورنہ اسے بنانے اور اس کی خاطر جان، مال اور عزت و آبروؤں کی قربانیاں دینے کا کوئی اور مقصد، ما سوائے نظریہ، تھا ہی نہیں اور وہ نظریہ نظریہ اسلام تھا۔ اس لحاظ سے "قوم" کا سادہ سا مطلب "مسلمان" ہی بنتا ہے۔ اب اگر یہ بات درست ہے تو پھر "قومی دھارا" پاکستان کے مسلمانوں کو اسلام کی اصل روح سے آگاہی دینے کے علاوہ کیا اور بھی کچھ ہو سکتا ہے؟۔

پاکستان میں مسلمانوں کے علاوہ کسی اور قوم کو "قومی دھارے" میں لانے کا مطلب تو پھر بھی کسی حد تک سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن پاکستان میں مسلمانوں ہی سے یہ کہا جائے کہ "دائرہ اسلام" (قومی دھارے) میں شامل ہو جاؤ، یہ ایک ایسا بھونڈا مذاق ہے جو اس قوم کے ساتھ گزشتہ 70 دہائیوں سے بھی زیادہ سے جاری ہے۔ پاکستان میں جب بھی "قومی دھارے" میں شامل ہوجاؤ، کا نعرہ بلند ہوتا ہے وہ ہمیشہ "عسکری" حلقوں کی جانب سے ہی کیوں بلند ہوتا ہے، یہ بھی بہت غور طلب بات ہے۔ کسی زمانے میں "جئے سندھ" اور سائیں جی ایم سید کی تحریک بڑے زوروں پر تھی۔ حیرت ہے کہ سائیں "سید" ہونے کے باوجود بھی دائرہ اسلام (قومی دھارے) میں شامل نہیں سمجھے جاتے تھے لہٰذا انھیں سب سے پہلے "قومی دھارے" میں شامل کرنے کا شور اٹھا اور جناب ضیاالحق نے اس کا حق ادا کیا۔ وہ اردو بولنے والے جو پاکستان کی تحریک کا ہراول دستہ تھے ان کو بھی مختلف ادوار میں "قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے جو کبھی خبیث اور کبھی "نفیس" بنادیئے جاتے ہیں۔ بلوچی، سندھیوں اور ہجرت کرکے آنے والے سچے پاکستانیوں کو "قومی دھارے" میں شامل کرنے کی جد وجہد کے بعد پشتونوں اور افغانیوں کو بھی قومی دھارے یعنی مسلمان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر ان تمام کوششوں اور پاکستان میں رہنے اور بسنے والی تمام اقوام کا جائزہ لیا جائے تو پھر باقی بچ رہنے والی یا تو اقلیتیں (ہندو، عیسائی اور قادیانی) رہ جاتی ہیں یا پھر کشمیری اور پنجابی بچتے ہیں جن کے متعلق کبھی کوئی ایسی آواز نہیں اٹھائی گئی کہ ان کو بھی "قومی دھارے" میں شامل ہونا چاہیے۔ ثابت یہ ہوا کہ ہندو، عیسائی، قادیانی، کشمیری اور اہل پنجاب، اصل پاکستانی (قومی دھارا) ہیں اور باقی تمام قومی دھارے سے باہر (دائرہ اسلام سے خارج) ہیں جن کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر پاکستان میں امن قائم ہونا اور جس مقصد (اسلام) کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا، اس منزل کو پالینا کسی صورت ممکن نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 72 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان "مسلمان" (قومی دھارا) نہ بن سکا۔

آج سے کچھ عرصے قبل تک ہر پاکستانی اس فریب میں مبتلا تھا کہ "قومی دھارے" (اسلام) کا تعلق صرف پاکستان میں بسنے والی مختلف قومیتوں سے ہی ہے اور ان کا مسلمان کیا جانا یعنی قومی دھارے میں شامل کیا جانا بہت ضروری ہے مگر اب معلوم ہوا کہ وہ تمام لوگ جو پاکستان میں سب سے زیادہ قومی دھارے (اسلام) کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کو اصل قومی دھارے (اسلام) کی تعلیم دیتے ہیں وہ سب بھی تمام کے تمام نہ صرف قومی دھارے (اسلام) سے ناواقف ہیں بلکہ وہ قومی دھارے (اسلام) سے بالکل ہی باہر ہیں اور ان سب کو قومی دھارے (اسلام) میں لانا نہایت ضروری ہے ورنہ پاکستان اور پاکستانی قوم (مسلمان) تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔

تازہ ترین خبر کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ " کہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے مثبت نتائج نکلیں گے"، گویا ان کے نزدیک ہمارے مدارس "قومی دھارے سے باہر ہیں اور ضروری ہے کہ ان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ تفصیل کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اتحاد تنظیماتِ مدارس کے انٹرمیڈیٹ امتحان کے پوزیشن ہولڈر طلبہ نے ملاقات کی۔ مدارس کی 4طالبات سمیت 13طلبہ نے مختلف بورڈز میں پوزیشنیں حاصل کیں۔ آرمی چیف نے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات، والدین اور اساتذہ میں سووینئرز تقسیم کیے ۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں کے مثبت نتائج نکلیں گے، مدارس کے طلبہ کو ملازمتوں کے مواقع ملیں گے۔

کیا صرف اور صرف دینی تعلیم، تعلیم نہیں؟، کیا یہ ایک ایسا علم ہے جس میں کسی اور علم کی پیوند کاری کی لازمی ہے، کیا اس میں تحقیق و جستجو کی نئی نئی راہوں کی کوئی گنجائش نہیں، کیا اس میں اسلام کی اصل روح کو معلوم کرنا اور اس کو عملی صورت میں نافذ کرنے جستجو کی کوئی ضرورت نہیں، کیا سیرت رسول و سیرت صحابہ کوئی تحقیق نہیں مانگتی، کیا اسلام کا معاشی، سیاسی، سماجی، اخلاقی اور تجارتی نظام کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیا ان سارے نظام ہائے زندگی کے متعلق کماحقہ معلومات جمع کرنا اور اس کو ملک میں نافذ کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا؟۔ یہ ہیں وہ سوالات جس کا جواب کیوں نہیں دیاجاتا۔ جو لوگ دین کا علم حاصل کر رہے ہیں ان کو اتنا جدید کیوں نہیں بنایا جاتا کہ وہ دینی علم کی نئی نئی راہیں دریافت کریں۔ کیا صرف وہ تعلیم جس سے روٹی کے دو لقمے مل سکیں یا چند سکوں کی ملازمت حاصل ہو سکے وہی جدید علوم کہلاتے ہیں اور کیا جو ایسا سب کچھ نہیں کر رہے وہ "قومی دھارے' (اسلام) یا پاکستانیت سے باہر ہیں؟۔

سارے پاکستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ پورا پاکستان صرف اور صرف ایک قوم ہے اور وہ "مسلمان" ہے۔ اگر کسی کی سمجھ اور عقل کے مطابق پاکستان صرف اُس صوبے کا نام ہے جس کے متعلق کبھی "قومی دھارے" میں شامل کرنے کی بات نہیں کی گئی تو یہ اس کی بہت ہی بڑی بھول ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں رہنے والا ہر مسلمان "قومی دھارا" ہے اور اگر کوئی کچھ کو قومی دھارے سے باہر سمجھتا ہے تو پھر وہ اپنے دماغ کا گردو غبار صاف کرے تاکہ اسے اپنے چند گز سے آگے کی دنیا بھی صاف صاف دکھائی دے۔ ایسا ہوگا تو سب ایک دریا بن کر رہیں گے ورنہ دھارے تو پھر دھارے ہی ہوتے ہیں، اپنی اپنی مرضی سے اپنی اپنی گزر گاہوں پر بہتے رہیں گے۔