پون صدی کی لاحاصل جنگ - پروفیسر جمیل چودھری

ُتقسیم برصغیر کو اب72سال مکمل ہوچکے ہیں۔ ہم اسے پون صدی کہ لیتے ہیں۔ یہ لمبا عرصہ پاکستان کوجنگ و جدل میں گزارنا پڑا۔ یہ جنگیں کبھی مشرقی باڈر کے پڑوسی سے لڑنا پڑیں اور کبھی مغربی باڈر کے اس پار افغان علاقے میں۔ ان سات دہائیوں میں ہمیں اپنا ملک ایک عسکری ریاست ہی نظر آتا ہے۔ بھارت سے جھگڑوں اور جنگوں کی پیشن گوئی تو مستقبل پر گہری نظررکھنے والے ایک لیڈر نے تقسیم سے ایک سال پہلے ہی کر دی تھی۔ اور اب تک مشرقی باڈر پرجوکچھ ہوتا رہا ہے وہ ان کی کہی ہوئی باتوں کے عین مطابق ہے۔ اگرچہ اب محبوبہ مفتی دوقومی نظریہ کی صداقت کوتسلیم بھی کر رہی ہیں۔ یہ حالات کا جبر ہے۔

رن آف کچھ سے لے کر انتہائی شمال میں سیاچین گلیشئیر تک جنگیں، لڑائیاں اور جھڑپیں ہر وقت جاری رہتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی لڑائی تو تقسیم کے چند ماہ بعد ہی کشمیر کے مسٔلہ پرشروع ہوگئی تھی۔ جب قائداعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل پاکستانی کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ آپ کشمیر میں کچھ ٹروپس بھیجیں تو ان کے لیے مجبوری یہ تھی کہ پاکستانی فوج میں ابھی تک کافی بڑی تعداد میں انگریز آفیسر تھے۔ ایسی صورت حال بھارتی فوج میں بھی تھی۔گریسی نہیں چاہتے تھے کہ دونوں طرف کے انگریز آفیسرز آپس میں لڑیں۔گریسی نے مناسب سمجھا کہ اس تجویز کو سپریم کمانڈر جنرل آکنلیک کو بھجوا دیں۔ اسی وقت ایک پاکستانی مسلم آفیسر نے کچھ ٹروپس کشمیر روانہ بھی کئے۔ لیکن بھارت کا کشمیر کے راجہ سے فوراً ہی معاہدہ ہوگیا۔ اور بھارتی فوجیں بذریعہ ہوائی جہاز بڑی تیزی سے سری نگر ائیر پورٹ پر اتریں اور انہوں نے وادی کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ اور پھر بھارت نے یو۔این۔او میں جاکرجنگ بندکرا دی۔

بھارت اور پاکستان کے بیچ یہاں سے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا۔1965ء میں ہماری کشمیر کو آزاد کرانے کی منصوبہ بندی بری طرح ناکام ہوئی۔ 1971ء کی تباہی اور بربادی کی تفصیل نہ بتانا ہی بہتر ہے۔ پھر 1979ء میں افغانستان میں روسی فوجیں آگئیں۔امریکہ اور مغربی ملکوں نے روس کوسبق سکھانے کا پروگرام بنایا۔ یوں پاکستان اور کئی مسلم ممالک نے بھی روس سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے افغانستان میں مداخلت شروع کردی۔ روس تو کچھ عرصہ بعد اس ملک سے نکل گیا لیکن پاکستان کو مجاہد تنظیمیں کلاشنکوف، ہیروئن اور دھماکوں کے تحفے دے گیا۔ یہ بیماریاں اس سے پہلے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اور پھر سب سے بڑا تحفہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی شکل میں تھا۔یہ افغانی40 سال گزرنے کے بعد بھی یہیں موجود ہیں۔ بہت سے افغانیوں نے شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بنوا لیے ہیں۔ اور جب موجودہ صدی میں شدت پسندوں نے پاکستان کے دفاعی اور سول اداروں پر حملے شروع کیے تو حملہ آوروں کے لئے افغان کیمپ ہی محفوظ پناہ گاہوں کا کام دیتے رہے۔ یہ کام موجودہ سال2019ء تک جاری ہے۔ افغان مہاجرین مرضی سے واپس چلے بھی جاتے ہیں اور دوبارہ پھر پاکستانی جنت میں واپس بھی آجاتے ہیں۔ حکومت انہیں مستقل واپس بھیجنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ پاکستان کو ان مہاجروں کی وجہ سے نقصان کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ 40سال تک ان کوسہولیات بہم پہنچانے کے باوجود اندرون افغانستان نہ صرف افغان حکومت کے کارندے بلکہ عام افغانی بھی پاکستان کے خلاف ہی بولتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیل ہوتے موسم اور پاکستان - احمد علی قریشی

مجھے افغانستان کے اندر سے یہ مخالفانہ رپورٹ ہر سال کئی دفعہ بلاواسطہ مل جاتی ہے۔ 90ء کی دہائی کے آخر میں جب افغانستان میں پاکستان کی حمایت سے طالبان نے قبضہ کیا تو انہیں بہت کہاگیا کہ ڈیورنڈ لائن کو انٹرنیشنل باڈر تسلیم کرلیں، لیکن پاکستان کی حمایت سے قائم حکومت کی طرف سے انکار کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ افغانی اب تک اٹک پل تک سرحد فرض کیے بیٹھے ہیں۔ دشمنی کی جو بنیاد قیام پاکستان کے فوراًبعد یو این او میں رکنیت کی مخالفت پر رکھی گئی تھی، وہ جوں کی توں ہے۔ اب سرحد پر اونچی اورچوڑی باڑ لگانے کا حکومت پاکستان کو کتنا فائدہ ہوتا ہے یہ تو تکمیل باڑ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

9/11 کے بعد پھر امریکہ نے پاکستان کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ شامل کیا۔ابھی تک اس کے تباہ کن اثرات پاکستان برداشت کرتاچلا آرہا ہے۔اور نہ جانے یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی۔یوں ہمارا ملک2۔دشمنوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔اور جنگیں ،لڑائیاں ،جھڑپیں اور انکے بعد پڑنے والے تباہ کن اثرات نے ملک کو مکمل طورپر کھوکھلا کردیا ہے۔آج کل پھرکشمیر کے مسٔلہ پر5۔اگست کے بعد گرماگرمی شروع ہے۔کشمیری بے چارے اپنے ہی گھروں میں قید کردیئے گئے ہیں۔سلامتی کونسل کی ایک تعارفی اور ابتدائی بیٹھک ہوچکی ہے۔اس سے یہ تاثر ہم لے رہے ہیں کہ مسٔلہ کشمیر اب عالمی فورم پر 50 سال بعد ایک دفعہ پھر آگیا ہے۔ لیکن اس بیٹھک میں کسی قسم کی متفقہ قراردادپاس نہیں کی گئی۔مسٔلہ کشمیرکا کوئی حل ابھی سلامتی کونسل کی تعارفی بیٹھک سے نکلتا نظر تو نہیں آتا۔پاکستان ڈبلومیٹک کوششیں جاری رکھے گا۔کشمیرپر زبردستی قابض بھارت ایسا ملک ہے جو ہم سے بہت بڑا ہے۔ اس کی معیشت ہم سے کئی گنا بڑی۔ وہ اپنے قومی وسائل سے دفاع پر کافی رقم آسانی سے خرچ کرسکتا ہے۔ مجھے توخدشہ ہے کہ LOCپر ہونے والی جھڑپیں کہیں کسی بڑی لڑائی میں تبدیل نہ ہوجائیں ۔ہندوستان چونکہ ہماری کمزوراور ننھی سی معیشت سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ لہذا اس کی کوشش ہمیں جنگ میں الجھانے کی ضرور ہوگی اور پاکستان میں اس وقت ایک سویلین منتخب حکومت ہے۔عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ ہے۔ ان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کی چھوٹی بڑی جنگ نہ ہو۔ جنگیں قوموں کوبرباد کردیتی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم شروع کرنے والے ہٹلر کاحال تو آپ اکثر پڑھتے سنتے رہتے ہیں لیکن اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کا حال میں آپ کو بتاتا ہوں۔ برطانیہ جو اس جنگ میں اہم پارٹنرتھا۔ وہ بھی جنگ کے لیے بے شمار قرض امریکہ سے لیکر لڑتا رہا۔ ظاہراً اتحادیوں کوفتح تو ہوگئی لیکن برطانیہ کو امریکہ سے لیے گئے قرضوں کے بدلے اپنے تمام بری، بحری اور ہوائی اڈے ریاست ہائے امریکہ کے سپرد کرنے پڑے۔ برطانیہ جو آدھی دنیا پر حکومت کرتا تھا۔ اسے ایک ایک کر کے تمام نوآبادیاتی ممالک کو آزاد کرنا پڑا۔ اور پھر سکڑ کر اپنے چھوٹے سے 2 جزیروں میں آگیا۔ دوستوں کو یہ معلوم ہوناضروری ہے جنگ عظیم میں10 کروڑ لوگ مارے گئے تھے۔ جنگ میں پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑتا ہے۔ ہرفریق دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے وسائل کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہارنے والے تو ہارتے ہی ہیں۔ لیکن فتح پانے والے بھی ہار ہی جاتے ہیں۔جیسا کہ اوپر برطانیہ کی مثال دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ کشمیر: اقوام متحدہ ناکام کیوں؟- علی حسنین نقوی

پاکستان نے جوبھی جنگیں لڑیں یااسے جنگوں میں گھسیٹا گیا۔اس وقت ملک پر فوج کی حکومت تھی۔ عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت کبھی بھی نہ رہی تھی۔1965ء میں جرنل ایوب،1971ء میں جرنل یحیٰ حکمران تھے۔ جب روس افغانستان میں آیا تو قومی اسمبلی کو ختم ہوئے کئی سال گزرچکے تھے۔ روس کے افغانستان میں در آنے پر کیا ردعمل دیناتھا۔یہ بات عوامی پارلیمنٹ میں ہی صحیح طور پر زیربحث لائی جاسکتی تھی۔ لیکن آئین معطل اور پارلیمنٹ ندارد۔2001ء میں امریکہ کے افغانستان پر حملے سے پہلے ہی عوامی حکومت ختم کی جاچکی تھی۔ امریکہ سے بات کرنے کے لئے صرف ایک جرنیل تھا۔ اسے یہ اچھا موقع ملا کہ وہ بین الاقوامی طورپراپنی فوجی حکومت کوتسلیم کروالیں۔ امریکہ نے کچھ مالیاتی پابندیاں نرم کیں اور پھر پاکستان افغانستان پر حملہ کے لئے امریکہ کا ساتھی بن گیا۔ اس ساتھ دینے کے بدلے جوتباہی پاکستان کی ہوئی اس کی تفصیل بتانے کا یہ موقع نہ ہے۔

ہم کشمیر کے لئے سفارت کاری کی جنگ تو ضرور لڑیں جیسا کہ ہم نے ایک ابتدائی سی کامیابی 16۔اگست کو حاصل بھی کی ہے۔سفارت کاری مزید پھیلائیں اور ماثر بنائیں۔تاکہ کشمیریوں کی مشکلات کم ہوں اور انہیں حق خودارادی مل سکے۔لیکن پاکستان کا عظیم مدبر اور قائد حکمران وہی ہوگا۔جو پاکستان کو عملاً جنگ سے بچائے رکھے۔ 72 سالہ جنگ وجدل کا عرصہ بڑا عرصہ ہے۔ پاکستان تو پیدا ہوتے ہی جنگ میں الجھ گیاتھا۔ اب ہماری خوش قسمتی ہے کہ ملک پرسول حکومت ہے۔اور پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔پارلیمنٹ کا اجلاس ہفتہ میں3دن ہوتارہے۔اور بھارت سے متعلق تازہ ترین سرگرمیاں اس میں زیربحث آتی رہیں۔سفارتی کوششوں کے لئے پارلیمان کے نمائندوں کے وفود جاتے رہیں۔کوشش کریں کہ سلامتی کونسل کا ریگولر اجلاس ہو اور وہاں مسٔلہ جموں کشمیر کا کوئی حل تجویز ہو۔پارلیمنٹ کے اندر ملک کو جنگ سے دور رکھنے پر غور ہوتارہے۔72 ۔سالہ جنگ وجدل سے ہم برباد ہوچکے ہیں۔اب اس سے بچنے میں ہی ہماری بقا ہے۔میں آخر میں پھر دہراتا ہوں کہ پاکستان کا مدبر اور دوراندیش حکمران وہی ہوگا جو اسے جنگ میں الجھنے سے بچائے رکھے۔کیاعمران خان ایسے حکمران ثابت ہوسکیں گے۔یہ بات تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔